ٹرینٹ برج کی پچ، انگلستان کے بجائے بھارت کے لیے سازگار

جب 2013ء کے موسم گرما میں دنیا بھر کی ٹیمیں چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے انگلش سرزمین پر پہنچیں تو سب کا اندازہ یہی تھا کہ گیندبازوں کے لیے سازگار حالات میں بلے بازی پر انحصار کرنے والی تمام ٹیمیں پریشانی کا شکار ہوں گی لیکن بھارت توقعات کے برخلاف چہل قدمی کرتا ہوا فائنل تک پہنچا اور پھر عالمی کپ کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز بھی جیت لیا۔

گیند بلّے کا کنارہ لے تو کم از کم وکٹ کیپر یا سلپ تک تو باآسانی پہنچے: اسٹورٹ براڈ کا گلہ (تصویر: PA Photos)

گیند بلّے کا کنارہ لے تو کم از کم وکٹ کیپر یا سلپ تک تو باآسانی پہنچے: اسٹورٹ براڈ کا گلہ (تصویر: PA Photos)

اب ٹھیک ایک سال بعد انگلستان کو ایک مرتبہ پھر ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ سری لنکا کے ہاتھوں مایوس کن شکست کے بعد اسے فتوحات کی سخت ضرورت ہے اور بیرون ملک پے در پے شکستیں کھانے والے بھارت کو زیر کرکے وہ اس راہ پر گامزن ہوسکتا تھا لیکن ٹرینٹ برج کی پچ ہی اس کے آڑے آ گئی ہے جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ بھارت نے خصوصی طور پر تیار کروائی ہے۔ صرف دو دن میں حالت یہ ہے کہ بھارت 457 رنز جوڑنے کے بعد ابتداء ہی میں انگلستان کی ایک وکٹ بھی حاصل کرچکا ہے۔

ناٹنگھم شائر کے اس میدان کے کیوریٹر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی پچ بنانے کی کوشش کی جو تیز باؤلرز کے لیے رفتار اور اچھال کی حامل ہو، لیکن بدقسمتی سے یہ ویسی نہیں بن سکتی۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ منصوبہ بندی کے برعکس ایسی پچ بن گئی ہے جو انگلستان کے بجائے بھارت کے لیے موزوں دکھائی دیتی ہے۔

وکٹ میں واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ اس میں رفتار اور اچھال کی سخت کمی ہے اور انگلستان کو چار تیز گیندبازوں کے باوجود بھارت کی آخری وکٹ حاصل کرنے کے لیے 38 اوورز کا انتظار کرنا پڑا۔ محمد شامی اور بھوونیشور کمار کی 229 گیندوں پر محیط 111 رنز کی شراکت داری نے بھارت کے پہلی اننگز کے مجموعے کو 457 رنز تک پہنچا دیا اور یوں انگلستان کے لیے دوسرا دن بھی مایوسیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

گراؤنڈزمین اسٹیو برکس کہتے ہیں کہ پچ کے اندر کافی نمی ہے اور ایک ہفتہ پہلے کے نتائج کے مطابق اس میں خاصی نمی موجود لیکن کیونکہ اس کی سطح بہت سخت ہے اس لیے تیز گیندبازوں کو اب اس سے رفتار ملنے کی امید نہیں۔

سابق انگلش بلے باز اور موجودہ تجزیہ کار کیون پیٹرسن نے اس معاملے پر میدان میں نصب کیے گئے نکاسی آب کے نئے نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو ان کے خیال میں تیز باؤلرز کے لیے وکٹ میں مدد کا خاتمہ کررہا ہے۔ گو کہ نکاسی آب کے اس نظام کا مقصد بارش کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت کو بچانا ہے لیکن پیٹرسن کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں پچ خشک ہوجاتی ہے اور گیند اور بلّے کے درمیان اس معیار کا ٹکراؤ نہیں ہوپاتا جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔

انگلش باؤلنگ لائن اپ کے اہم رکن اسٹورٹ براڈ بھی اس معاملے پر شاکی دکھائی دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ تین چار سال پہلے کے مقابلے میں آب وکٹیں بہت جلد خشک ہوجاتی ہیں اور اس میں اچھال کو برقرار رکھنا مشکل ہے، اب کیونکہ سطح پر گھاس کو چھوڑنا بھی ٹیسٹ کرکٹ کی روایت نہیں رہی اس لیے باؤلرز کے لیے معاملات مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ میں سمجھتا ہوں کہ وکٹ کو ہموار ہونا چاہیے، لوگ رنز بنتے دیکھنے کے لیے آتے ہیں لیکن کم از کم اتنا تو ہو کہ اگر گیند بیٹسمین کے بلّے کا کنارہ لے تو وکٹ کیپر یا سلپ تک تو باآسانی پہنچے۔

پانچ ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کا اگلا مقابلہ لارڈز میں کھیلا جائے گا اور ٹرینٹ برج ٹیسٹ کا نتیجہ اگر انگلستان کے حق میں نہیں نکلا تو لارڈز کے کیوریٹر پر سخت ذمہ داری عائد ہوجائے گی کہ وہ ایسی وکٹ بنائے جو انگلستان کے لیے سازگار ہو۔

Facebook Comments