زر تلافی کا مطالبہ اور موجودہ حیثیت کی وضاحت، سنیل گاوسکر عدالت پہنچ گئے

بھارت کے سابق کپتان اور بورڈ کے موجودہ عہدیدار سنیل گاوسکر نے واجبات کی ادائیگی کے لیے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کرلیا اور استدعا کی ہے کہ وہ بی سی سی آئی میں ان کی موجودہ حیثیت کو بھی واضح کرے۔

عدالت نے رواں سال سنیل گاوسکر کو بھارتی بورڈ کے آئی پی ایل معاملات کا سربراہ بنایا تھا (تصویر: Bipin Patel)

عدالت نے رواں سال سنیل گاوسکر کو بھارتی بورڈ کے آئی پی ایل معاملات کا سربراہ بنایا تھا (تصویر: Bipin Patel)

عدالت نے انڈین پریمیئر لیگ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی سماعت کے دوران رواں سال مارچ میں سنیل گاوسکر کو عارضی طور پر بی سی سی آئی کا سربراہ بنایا تھا اور انہیں صرف آئی پی ایل کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ علاوہ ازیں اس عرصے کے لیے انہیں کمنٹری سمیت دیگر ذمہ داریوں کو چھوڑ دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے قرار دیا تھا کہ کمنٹری چھوڑنے کے عوض بورڈ ان کو زر تلافی ادا کرے گا۔ اب بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گاوسکر نے انہی واجبات کی ادائیگی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

البتہ سنیل گاوسکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے واجبات کی ادائیگی کے لیے عدالت سے رابطہ نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں آئی پی ایل معاملات سنبھالنے کے لیے بورڈ کا عبوری سربراہ ہوں اور مجھے تاحکم ثانی یہ ذمہ داری نبھانے کو کہا گیا تھا لیکن اب میں نے عدالت سے استفسار کیا ہے کہ وہ میری موجودہ حیثیت پر مجھے آگاہ کرے۔ میں نے عدالت کو خط صرف اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے لکھا ہے، زر تلافی کی ادائیگی کروانے کے لیے نہیں۔

بھارت کی عدالت عالیہ نے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ معاملے کی تحقیقات کے دوران بھارتی بورڈ کے سربراہ این شری نواسن سے استعفیٰ لے لیا تھا اور ان کی جگہ عارضی طور پر ذمہ داریاں سنیل گاوسکر کو سونپ دی تھی۔ اس فیصلے کے باوجود بی سی سی آئی کے معطل سربراہ کی حیثیت سے شری نواسن بین الاقوامی کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ بن گئے۔

Article Tags

Facebook Comments