[ریکارڈز] آخری وکٹ پر روٹ اور اینڈرسن کی 198 رنز کی شراکت داری

ٹرینٹ برج میں جب بھارت کے نوجوان گیندبازوں محمد شامی اور بھوونیشور کمار نے 111 رنز کی شراکت داری کے ذریعے اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پائی تھی تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ محض ایک دن کے وقفے سے ان کی کارکردگی اس بری طرح گہنا جائے گی، وہ بھی حریف ٹیم کی آخری وکٹ ہی کے ہاتھوں۔ جو روٹ اور جیمز اینڈرسن نے آخری وکٹ پر 198 رنز کی شراکت داری کے ذریعے اگلے پچھلے تمام ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔

روٹ اور اینڈرسن نے گزشتہ سال آسٹریلیا کے آشٹن ایگر اور فلپ ہیوز کا قائم کردہ دسویں وکٹ پر سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ توڑا (تصویر: Getty Images)

روٹ اور اینڈرسن نے گزشتہ سال آسٹریلیا کے آشٹن ایگر اور فلپ ہیوز کا قائم کردہ دسویں وکٹ پر سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ توڑا (تصویر: Getty Images)

ٹرینٹ برج کے اسی میدان پر گزشتہ سال کے انہی دنوں میں آسٹریلیا کے فلپ ہیوز اور آشٹن ایگر نے آخری وکٹ پر 163 رنزجوڑ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اِس وقت جاری مقابلے میں جہاں انگلینڈ کی 202 رنز پر 7 وکٹیں گرگئی تھیں، اُس وقت آسٹریلیا کو بھی سنگین صورتحال کا سامنا تھا جو محض 117 رنز پر اپنی 9 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا، جب 19 سالہ ایگر نے ہیوز کے ساتھ مل کر 30 سال پرانا ریکارڈ توڑا اور تاریخ میں اپنا نام درج کروایا۔ لیکن ان کا یہ ریکارڈ صرف ایک سال جاری رہ سکا اور ناٹنگھم ہی میں جو روٹ اور جمی اینڈرسن کی صورت میں انگلینڈ کی آخری جوڑی نے اسے توڑ دیا۔

روٹ اور اینڈرسن نے جب نے چوتھے دن کے کھیل کا آغاز کیا تو دونوں کی 78 رنز کی شراکت داری مکمل ہوچکی تھی۔ بھارت کے پہلی اننگز کے اسکور 457 رنز کے جواب میں انگلینڈ 352 رنز پر کھڑا تھا اور دونوں بیٹسمین زیادہ سے زیادہ کھیل کر بھارت کی برتری کو کم سے کم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، ثابت ہوتا گیا کہ بھارت کا کوئی باؤلر ان دونوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور دونوں آگے بڑھتے چلے گئے۔ روٹ کے کیریئر کی چوتھی سنچری مکمل ہوئی، اینڈرسن نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی بار نصف سنچری کا مزا چکھا، بھارت کے فیلڈرز کی رن آؤٹ کرنے کی ناقص صلاحیت نے دونوں کو زندگیاں بھی عطا کیں، یوں سفر آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ اینڈرسن کے تہرے ہندسے میں پہنچنے کی امیدیں تک قائم ہوگئیں لیکن پھر بھوونیشور کمار کی گیند جمی کے بلّے کا کنارہ لیتی ہوئی سلپ میں کھڑے شیکھر دھاون کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ انفرادی اننگز 81 رنز پر تمام ہوئی اور ریکارڈ شراکت داری 198 رنز پر مکمل!

قبل ازیں، انگلستان کی ابتدائی 7 وکٹیں 202 رنز جوڑ سکیں اور آخری تین وکٹوں نے اسکور کو 496 رنز تک پہنچا دیا ، یعنی 294 رنز کا اضافہ اور اس سے کہیں بڑھ کر انہوں نے میچ بچا لیا۔ جو روٹ 295 گیندوں پر 154 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ ان کے کریز پر 400 منٹ کے قیام اور اسٹورٹ براڈ اور اینڈرسن کے ساتھ قیمتی شراکت داریوں نے انگلینڈ کو یقینی شکست سے بچایا ہے، جس پر انہیں جتنی داد دی جائے کم ہے۔ اینڈرسن نے 130 گیندیں کھیلیں، 17 چوکے لگائے اور 81 رنز بنا کر تالیوں کی زبردست گونج میں پویلین واپس آئے۔

روٹ-اینڈرسن شراکت داری نے چوتھے دن تقریباً ڈیڑھ سیشن تک بھارت کو زچ کیے رکھا۔ دونوں نے گزشتہ دن کے اسکور میں مزید 144 رنز کا اضافہ کیا اور یوں وہ انگلینڈ جو فالو آن کا سامنا کرتا دکھائی دے رہا تھا،40 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور بلاشبہ میچ بچانے میں بھی۔

جس طرح ایگر اور ہیوز کی شراکت داری نے شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی، بالکل اسی طرح روٹ-اینڈرسن ساجھے داری بھی مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ ذیل میں ہم آپ کو دسویں وکٹ پر ٹیسٹ تاریخ کی سب سے بڑی شراکت داریوں کے اعدادوشمار پیش کررہے ہیں۔ امید ہے کہ معلومات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔

آخری وکٹ پر طویل ترین ٹیسٹ شراکت داریاں

بلے باز ملک رنز بمقابلہ بتاریخ بمقام
جو روٹ اور جیمز اینڈرسن انگلستان انگلستان 198 بھارت بھارت جولائی 2014ء ناٹنگھم
فلپ ہیوز اور آشٹن ایگر آسٹریلیا آسٹریلیا 163 انگلستان انگلستان جولائی 2013ء ناٹنگھم
برائن ہیسٹنگز اور رچرڈ کولنج نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ 151 پاکستان پاکستان فروری 1973ء آکلینڈ
اظہر محمود اور مشتاق احمد پاکستان پاکستان 151 جنوبی افریقہجنوبی افریقہ اکتوبر 1997ء راولپنڈی
دنیش رامدین اور ٹینو بیسٹ ویسٹ انڈیز ویسٹ انڈیز 133 انگلستان انگلستان جون 2012ء برمنگھم
وسیم راجہ اور وسیم باری پاکستان پاکستان 133 ویسٹ انڈیز ویسٹ انڈیز فروری 1977ء برج ٹاؤن

Facebook Comments