دھونی اور کک سے قیادت چھوڑنے کے مطالبے

سرزمین انگلستان پر اس وقت دو ایسی ٹیمیں مدمقابل ہیں جو طویل عرصے سے فتوحات کی متلاشی ہیں۔ بھارت کو بیرون ملک کوئی ٹیسٹ مقابلہ جیتے ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جبکہ وہ آخری بار انگلش سرزمین پر چاروں ٹیسٹ مقابلے بھی ہار گیا تھا۔ جبکہ انگلینڈ رواں سال ایشیز میں بدترین انداز میں ہارا اور اس کے بعد حال ہی میں سری لنکا کے خلاف تاریخ میں پہلی بار اپنے ہی میدانوں پر شکست سے دوچار ہوا۔

جیفری بائیکاٹ ایلسٹر کک اور این چیپل مہندر سنگھ کے قائدانہ انداز سے نالاں دکھائی دیتے ہیں (تصویر: Getty Images)

جیفری بائیکاٹ ایلسٹر کک اور این چیپل مہندر سنگھ کے قائدانہ انداز سے نالاں دکھائی دیتے ہیں (تصویر: Getty Images)

اس صورتحال میں دونوں ٹیموں کے کپتانوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے کہ وہ اپنی ٹیموں کو شکست کے بھنور سے نکالیں۔ ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ سے دونوں کپتان بہت سی مثبت و منفی پہلوؤں کے ساتھ لوٹے ہیں لیکن اب زبردست تنقید کی زد میں ہیں۔ ایک طرف آسٹریلیا کے سابق کپتان این چیپل کہتے ہیں کہ مہندر سنگھ دھونی ٹیسٹ میں بھارت کی قیادت کےاہل نہیں اور وقت آ چکا ہے کہ کپتانی کا بوجھ ویراٹ کوہلی کے نوجوان کاندھوں پر ڈال دیا جائے۔ دوسری جانب انگلستان کے سابق کپتان اور معروف تجزیہ کار جیفری بائیکاٹ کہتے ہیں کہ اگر ایلسٹر کک لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں بھی کارکردگی نہ دکھا سکے، تو انہیں عارضی طور پر قیادت چھوڑ دینی چاہیے۔

پہلے ذکر کرتے ہیں این چیپل کا کہ جن کا کہنا ہے کہ درحقیقت دھونی ٹیسٹ کپتان ہیں ہی نہیں، وہ مختصر طرز کی کرکٹ کے قائد ہیں اور بھارت کو ایسے جرات مند سلیکٹرز کی ضرورت ہے جو مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ شکستوں کے بعد اگر کوئی آسٹریلوی کپتان ہوتے تو اسی وقت قیادت سے محروم کردیا جاتا لیکن بھارت کے سلیکٹرز میں اتنی جرات نہیں دکھائی دیتی۔

این چیپل نے قیادت فوری طور پر ویراٹ کوہلی کو سونپنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی وقت ہے کہ ٹیسٹ کی کپتانی کوہلی کو سونپی جائے کیونکہ بھارت کو ایک نئے دماغ کی ضرورت ہے۔ ان کی 27 سال کی عمر ہی بہترین مرحلہ ہے، بعد میں 32 یا 33 سال کی عمر میں کوہلی کو کپتان بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت عروج اور اعتماد کے دور میں انہیں قیادت سونپی جائے تو بھارت کو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

1971ء سے 1975ء تک آسٹریلیا کی قیادت کرنے والے چیپل کا کہنا ہے کہ شکست کوئی مسئلہ نہیں، کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، لیکن بغیر جدوجہد کے شکستیں کھانا ظاہر کرتا ہے کہ دھونی کے قائدانہ انداز میں خامی ہے۔ انہوں نے ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے پہلے ہند-انگلستان مقابلے میں بھارت کے نہ جیتنے کی وجہ سلیکشن کو قرار دیا اور کہا کہ درست ٹیم منتخب نہیں کریں گے تو ایسے ہی جیتنا مشکل ہوگا۔ انہوں روی چندر آشون کی جگہ اسٹورٹ بنی کو شامل کرنے کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آشون نہ صرف ایک باؤلر ہے بلکہ وہ بیٹنگ بھی کر سکتا ہے اور بنی سے کئی درجے بہتر گیندباز بھی ہے بلکہ میں تو اسے رویندر جدیجا سے بھی بہتر کھلاڑی سمجھتا ہوں۔ لارڈز میں اگلے ٹیسٹ کے لیے میری خواہش ہے کہ آشون کے علاوہ روہیت شرما کو بھی کھلایا جائے اور بنی اور جدیجا کو باہر بٹھایا جائے۔

75 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے این نے ایلسٹر کک کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وہ بہت اوسط درجے کا کپتان ہے اور مائیکل کلارک سے اس کا کوئی مقابلہ نہیں بلکہ کلارک تو اس وقت دنیا کا بہترین کپتان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کو بہت خوشی ہوگی اگر اگلی سیریز میں انگلستان کی قیادت ایلسٹر کک ہی کے پاس ہو۔

اب ذرا این چیپل کا باب بند کرکے جیفری بائیکاٹ کی طرف چلتے ہیں جنہوں نے انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک کو مشورہ دیا ہے کہ اگر لارڈز ٹیسٹ میں بھی وہ کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ کرسکیں تو عارضی طور پر قیادت چھوڑ دیں۔

برطانیہ کے روزنامے ٹیلی گراف میں لکھے گئے اپنے کالم میں بائیکاٹ سمجھتے ہیں کہ کک پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں دوسرے کھلاڑیوں کے لیے مثال بننا چاہیے۔ اس بدترین بیٹنگ فارم کے ساتھ کک آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ یہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو دباؤ میں لارہی ہے۔ اس لیے انہیں خود ہی کپتان کی ذمہ داری سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ البتہ بائیکاٹ نے کک کے ٹیم سے اخراج کی مخالفت کی اور لکھا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ان کھلاڑیوں کو تو باہر کا راستہ دکھایا جا سکتا ہے جو محض دو تین ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھتے ہوں لیکن ایسا بلے باز جو 25 ٹیسٹ سنچریاں بنا چکا ہو، اسے نکالا نہیں جانا چاہیے۔

108 ٹیسٹ مقابلوں میں انگلستان کی نمائندگی کرنے والے بائیکاٹ نے ٹرینٹ برج کی وکٹ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر ناٹنگھم جیسی وکٹیں ہی آنے والے ٹیسٹ میچز میں بھی بنائی گئیں تو تیز باؤلر بونے بن کر رہ جائیں گے۔ پہلے ٹیسٹ کے آخری دن اکتا دینے والے مقابلے کے بعد میچ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوا جس پر بائیکاٹ کا کہنا ہے کہ عوام مہنگے ٹکٹ اس لیے نہیں خریدتے کہ وہ اپنا قیمتی وقت ایک بے مزہ مقابلہ دیکھنے میں ضائع کریں۔ وکٹیں گیندبازوں کے لیے سازگار ہونی چاہئیں اور اسی سے مقابلہ دلچسپ بھی ہوگا اور نتیجہ خیز بھی۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز کا دوسرا مقابلہ 17 جولائی سے لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments