توفیق عمر کا کیرئیر ٹھکانے لگ چکا ہے؟

بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کرکٹ کے کھیل کا حسن ہیں اور اگر یہ بلے باز اننگز کا آغاز کرتے ہوئے نئے گیند پر اسٹروکس پر بہار سجائیں تو یہ حسن اور بھی دوبالا ہوجاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ کو ابتدائی برسوں میں بہت کم کھبے اوپنرز میسر آئے ہیں اس لیے سعید انور کو ہی پاکستان کے پہلا کامیاب کھبا اوپنر قرار دیا جاتا ہے جنہیں جلد ہی عامر سہیل جیسا ساتھ میسر آگیا۔ بعد ازاں پاکستان کو عمران فرحت سے لے کر شان مسعود تک بائیں ہاتھ کے کئی اوپنرز ملے ہیں مگر وہ پرفارمنس کے میدان میں توفیق عمر کو پیچھے نہیں چھوڑ سکے جس نے چودہ برس قبل ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری کا کارنامہ سر انجام دیا جہاں توفیق عمر کے ساتھ اپنے کیرئیر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سعید انور تھے۔

سعید انور اور عامر سہیل کے بعد بائیں ہاتھ کے اوپنرز میں توفیق عمر سب سے بہترین رہے ہیں (تصویر: AP)

سعید انور اور عامر سہیل کے بعد بائیں ہاتھ کے اوپنرز میں توفیق عمر سب سے بہترین رہے ہیں (تصویر: AP)

چودہ برسوں میں مختلف اتار چڑھاؤ دیکھنے والے توفیق عمر نے اس عرصے میں سات سنچریاں اسکورکرتے ہوئے تقریباً40 کی اوسط سے رنز بنائے جبکہ اس دوران کوئی دوسرا پاکستانی اوپنر توفیق عمر کے ہم پلہ نہ آسکا جو دو عشروں میں پاکستان کی طرف سے ڈبل سنچری اسکور کرنے والا پہلا اوپنر ہے۔ مجموعی طور پر اننگز کا آغاز کرتے ہوئے حنیف محمد کے بعد توفیق عمر کو پاکستان کیلئے سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ توفیق کے یہ کارنامے بہت زیادہ پرانے نہیں بلکہ 2010ء میں قومی ٹیم میں واپسی کرنے والے کھبے اوپنر نے 2012ء تک تقریباً دو سال کے عرصے میں 18ٹیسٹ میچز میں تین سنچریوں کی مدد سے 1214رنز بنائے۔کھبے اوپنر کے ڈیبیو سے لے کر آخری ٹیسٹ تک کم از کم دس ٹیسٹ کھیلنے والے پاکستانی اوپنرز رنز ، سنچریوں اور اوسط کے اعتبار سے توفیق عمر سے بہت پیچھے ہیں۔

یہاں تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ جب قسمت خراب ہو تو پھر ساری کارکردگی، ریکارڈز دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور توفیق عمر جیسا کھلاڑی بھی انتظار کی سولی پر لٹک جاتا ہے کہ انجری سے نجات پانے والے کھلاڑی کی جانب کب سلیکشن کمیٹی کی نظر کرم ہو اور ماضی قریب میں پاکستان کا کامیاب ترین اوپننگ بیٹسمین ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں واپس آئے۔کیا یہ بدقسمتی کی انتہا نہیں ہے کہ دو سال پہلے سری لنکا کیخلاف کولمبو میں 65اور42*رنز کی باریاں کھیلنے والا بیٹسمین جنوبی افریقہ کے ٹور پر ان فٹ ہوا تو پی سی بی نے کم گو توفیق عمر سے منہ پھیر لیا۔جنوبی افریقہ کے ٹور سے لے کر اب تک دس ٹیسٹ میچز میں ناصر جمشید، عمران فرحت، محمد حفیظ، اظہر علی، خرم منظور، احمد شہزاد اور شان مسعود نے کیلئے اننگز کا آغاز کیا۔

توفیق عمر گزشتہ دو عشروں میں ڈبل سنچری بنانے والا واحد اوپنر ہے (تصویر: گیٹی امیجز)

توفیق عمر گزشتہ دو عشروں میں ڈبل سنچری بنانے والا واحد اوپنر ہے (تصویر: گیٹی امیجز)

حالیہ مہینوں میں پی سی بی میں ہونے والے متعدد تبدیلیوں اور ہنگامہ خیزیوں میں توفیق عمر کی یاد کسی کو نہیں آئی جسے فٹ ہونے کے بعد بھی قومی ٹیم کا حصہ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ ٹیم کے مستقل رکن کو ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم سے باہر ہونا پڑے مگر فٹنس کے حصول کے بعد اس کی ٹیم میں واپسی ناممکن ہوجائے لیکن یہ پاکستان کرکٹ ہے جہاں ہر طرح کی ناانصافی ممکن ہے۔ جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز میں رنز کرنے کے باوجود شان مسعود کو فائنل الیون سے باہر کردیا گیا۔ ریگولر وکٹ کیپر عدنان اکمل ان فٹ ہوکر ٹیم سے باہر ہوا تو اگلے ٹور کیلئے اسے ٹیم کا حصہ بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اسی غیر منصفانہ رویے کی مثال توفیق عمر بھی ہے جو آج چودہ برس بعد بھی قومی ٹیم میں واپسی کیلئے جدوجہد کررہا ہے۔

کھلاڑیوں کیساتھ ناانصافی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والے چیف سلیکٹر کی عقابی نگاہوں کو کہیں بھی توفیق عمر دکھائی نہیں دے رہا اور نہ موجودہ ہیڈ کوچ کو وہ 33 سالہ منجھا ہوا منجھا ہوا بلے باز یاد ہے جس نے ان کی قیادت میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی ابتدا شاندار انداز سے کی تھی۔ 2011ء میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے توفیق عمر کیلئے 2012ء کے بارہ مہینے یقینا اچھے نہیں رہے اورپھر فٹنس مسائل نے توفیق کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر کردیا۔ خراب فارم اور فٹنس مسائل کے بعد کھلاڑیوں کا ٹیم سے باہر ہونا یہاں نئی یا انوکھی بات نہیں ہے جو ڈومیسٹک کرکٹ میں جدوجہد کرکے واپسی کا راستہ تلاش کرلیتے ہیں مگر توفیق عمر کو بالکل ہی دھتکار دیا گیا ہے جسے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد اسکواڈ میں رکھنے کی بھی زحمت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس سال توفیق عمر کو سنٹرل کانٹریکٹ دیا گیا ہے جس سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ پاکستان کے اس اسٹائلش اوپنر کے کیرئیر کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

توفیق نہ ہی جونیئر کھلاڑی ہے اور نہ ہی وہ اوسط درجے کی کارکردگی کا حامل جسے اتنی آسانی سے بھلا دیا جائے اور اس کیساتھ ہونے والی ناانصافی پر آواز بھی بلند نہ کی جائے۔ پاکستانی ٹیم آج بھی اوپننگ مسائل کا شکار ہے جس کے لیے اس کے پاس توفیق عمر کی صورت میں ایک دیرپا اور مستقل حل موجود ہے جس نے ماضی میں کئی مرتبہ اپنے انتخاب درست ثابت کر کے دکھایا ہے۔

Facebook Comments