اینڈرسن-جدیجا تنازع کی سماعت لارڈز ٹیسٹ کے بعد

انگلستان اور بھارت لارڈز میں ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں لیکن پہلے ٹیسٹ کے مقابلے میں یہاں ماحول خاصا گرم ہے۔ رویندر جدیجا اور جمی اینڈرسن کے تنازع نے باہمی مقابلوں کے لیے میدان کو خوب گرما دیا ہے اور اب تو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بھی اعلان کردیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے مکمل ہوتے ہی 22 جولائی کو وہ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

جیمز اینڈرسن پر الزام ہے کہ انہوں نے رویندر جدیجا سے بدکلامی کی اور انہیں دھکا بھی دیا (تصویر: Getty Images)

جیمز اینڈرسن پر الزام ہے کہ انہوں نے رویندر جدیجا سے بدکلامی کی اور انہیں دھکا بھی دیا (تصویر: Getty Images)

ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ مقابلے کے دوسرے روز کھانے کے وقفے سے قبل اینڈرسن آخری اوور پھینک رہے تھے جس کے دوران جدیجا کے خلاف آؤٹ کی ایک زوردار اپیل مسترد ہوئی۔ جس پر اینڈرسن ناخوش تھے اور جدیجا کے ساتھ ان کی تلخی وقفے کے اعلان کے بعد پویلین واپسی تک جاری رہی۔ جس کے بارے میں بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس میں نہ صرف اینڈرسن نے سخت بدزبانی کی اور جدیجا کو دھکے بھی دیے۔ اس معاملے کی شکایت بھارت کے ٹیم مینیجر نے اگلے روز بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے کی۔ بھارت نے اینڈرسن کے خلاف ضابطہ اخلاق کے درجہ3 کی شکایت درج کی ہے جس کے ثابت ہونے پر کھلاڑیوں کو دو سے چار ٹیسٹ میچز، یا 8 ون ڈے مقابلوں، کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے جواب میں انگلستان نے بھی جدیجا کے خلاف درجہ 2 کی شکایت درج کروائی ہے جس پر کھلاڑی کو 50 سے 100 فیصد میچ فیس اور/یا ایک ٹیسٹ، یا دو ون ڈے میچز، کی پابندی سہنا پڑتی ہے۔

اب آئی سی سی نے اپنے ضابطہ اخلاق کمیشن کے نمائندے گورڈن لوئس کو تحقیقات کے لیے ذمہ دار مقرر کیا ہے۔ وہ پہلے مرحلے میں ایک کانفرنس کال کے ذریعے سماعت کریں گے جس میں تاریخ سے قبل پیش ہونے والے معاملات کو نمٹایا جائے گا اور سماعت کے بعد کی صورتحال کی وضاحت کی جائے گی۔

لارڈز ٹیسٹ میں جو بھی ٹیم شکست سے دوچار ہوگی، اگر اس سماعت میں جس کھلاڑی پر پابندی لگی، اس کا تعلق بھی اسی ملک سے ہوا تو گویا یہ زخموں پر نمک چھڑکنا ہوجائے گا۔ دیکھتے ہیں آئی سی سی منگل تک کیا کرتا ہے؟

Facebook Comments