اینڈرسن-جدیجا معاملے کا فیصلہ تیسرے ٹیسٹ کے بعد

انگلینڈ کے باؤلر جیمز اینڈرسن بھارت کے خلاف تیسرے و اہم ترین ٹیسٹ میں عدم شرکت سے بچ گئے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اپنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے کی سماعت کو یکم اگست کو موخر کردیا ہے۔

اینڈرسن اور جدیجا پہلے ٹیسٹ میں الجھ پڑے تھے، اب دونوں پر معطلی کی تلوار لٹک رہی ہے (تصویر: AP)

اینڈرسن اور جدیجا پہلے ٹیسٹ میں الجھ پڑے تھے، اب دونوں پر معطلی کی تلوار لٹک رہی ہے (تصویر: AP)

بھارت نے جمی اینڈرسن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ٹرینٹ برج میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے دوران بھارتی بلے باز رویندر جدیجا کے ساتھ بدکلامی کی اور انہیں دھکا بھی دیا۔ آئی سی سی کے روبرو کی گئی شکایت ضابطہ اخلاق کے لیول3 کی خلاف ورزی کے تحت درج کرائی گئی ہے، جس کا الزام ثابت ہونے پر اینڈرسن پر دو سے چار ٹیسٹ میچز کی پابندی لگ سکتی ہے۔

منگل کو اینڈرسن کے معاملے کی ابتدائی سماعت آئی سی سی کے مقرر کردہ جوڈیشل کمشنر گورڈن لوئس نے کی۔ اس موقع پر اینڈرسن، انگلش اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے نمائندگان اور قانونی مشیران نے شرکت کی۔ سماعت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اینڈرسن معاملے کی حتمی سماعت ساؤتھمپٹن میں طے شدہ تیسرے ٹیسٹ کے خاتمے کے بعد بذریعہ وڈیو کانفرنس کی جائے گی اور اس کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر اندر حتمی فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ انگلینڈ کی جانب سے رویندر جدیجا کو ضابطہ اخلاق کے لیول2 کی خلاف ورزی کے الزام کی سماعت میچ ریفری ڈیوڈ بون کریں گے البتہ اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انگلینڈ نے جوابی شکایت میں جدیجا پر بدکلامی اور دھمکی آمیز رویے کا الزام لگایا ہے۔

دو ٹیسٹ مقابلوں کے بعد سیریز ایک-صفر سے بھارت کے حق میں ہے اور اگر تیسرے ٹیسٹ کا نتیجہ بھی بھارت کے حق میں ہوتا ہے، اور اس کے بعد اینڈرسن بھی پابندی کی زد میں آتے ہیں تو انگلستان کے لیے اس سے بڑا دھچکا نہیں ہوسکتا۔ بھارت جدیجا کے خلاء کو پورا کرلے گا لیکن اینڈرسن کا انگلینڈ کے پاس کوئی متبادل نہیں۔

Facebook Comments