ژاک کیلس، دور جدید کا گیری سوبرز

دور حاضر کے شائقین کرکٹ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انہیں سچن تنڈولکر، متیاہ مرلی دھرن، شین وارن جیسے عظیم کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھنے کا موقع ملا اور ان کے علاوہ بھی کچھ بیٹسمین اور باؤلرز ایسے تھے اور ہیں جو عالمی کرکٹ کی شان رہے۔ لیکن جب کبھی ایک ہی کھلاڑی میں مستند بیٹسمین، نپے تلے باؤلر اور محفوظ ہاتھوں کے فیلڈر کی خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش جائے تو نظر انتخاب صرف ایک ہی کھلاڑی پر جا کر ٹھہرتی ہے جو جنوبی افریقہ کے عظیم آل راؤنڈر ژاک کیلس ہیں۔

کیلس کی جانب سے اگلے سال ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش ترک کرنے کے ساتھ ہی عالمی کرکٹ کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا، جو تقریباً دوعشروں تک دنیائے کرکٹ پر وا رہا۔

گزشتہ سال کے آخر میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے ژاک کیلس کی خواہش تھی کہ وہ ورلڈ کپ 2015ء میں شرکت کرنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہیں مگر سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں ناکامی نے کیلس کو ون ڈے فارمیٹ چھوڑنے پر بھی مجبور کردیا۔ اپنی خراب فارم کے ساتھ ٹیم پر بوجھ بنے رہنے کے بجائے انہوں نے ریٹائرمنٹ کو ترجیح دی اور اگلے سال ورلڈ کپ کھیل کر چھ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں حصہ لینے والوں میں نام درج کروانے کے بجائے ذاتی خواہش پر قومی مفاد کو اولیت دی اور یوں اپنی عظمت میں مزید اضافہ کرلیا۔

کرکٹ کی تاریخ میں صرف دو کھلاڑیوں جاوید میانداد اور سچن تنڈولکر کو چھ، چھ مرتبہ ورلڈ کپ مقابلوں میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ دونوں کا شمار کرکٹ تاریخ کے ممتاز ترین بیٹسمینوں میں ہوتا ہے اور اب کیلس کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلتے، اور جنوبی افریقہ کو عالمی کپ جتوانے کی آخری کوشش بھی کرتے، جس کی تمام پانچ ناکام عالمی کپ مہمات میں کیلس ٹیم کا حصہ تھے۔ آخری عالمی کپ میں ٹیم کو ورلڈ چیمپئن بنوا کر یادگار انداز میں کیریئر کا خاتمہ کرنے کی خواہش پوری کرنے کے بجائے کیلس نے حقیقت پسندی سے کام لیا اور اپنی ذاتی خواہش کا گلا گھونٹ دیا۔ انہوں نے کسی اہل یا ان فارم کھلاڑی کا راستہ نہیں روکا، بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ وہی فیصلہ کیا، جس کی ٹیم کو ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  [آج کا دن] شارجہ سے وابستہ پاکستان کی بدترین یاد

پاکستان کے خلاف کیپ ٹاؤن میں نصف سنچری اسکور کرنے کے بعد کیلس اگلی چھ اننگز میں صرف 31رنز ہی بنا سکے اور سری لنکا کے دورے پر تین اننگز میں صرف 5رنز نے کیلس کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ۔ژاک کیلس کا ملکی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ جہاں سراہے جانے کے قابل ہے وہیں یہ کچھ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے اس میں سبق بھی ہے جو خراب فارم اور پرفارمنس کے باوجود ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش میں پی سی بی کے سربراہ کے قدموں میں بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

سابق پروٹیز کپتان گریم اسمتھ نے بھی کیلس کی ’’ایمانداری‘‘ کو سراہا ہے جنہوں نے عالمی کپ کھیلنے کی ’’ضد‘‘ کرنے کی بجائے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دی۔ گریم اسمتھ کا کہنا ہے کہ ’’ژاک ورلڈ کپ جیت کر اپنے کیریئر کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا لیکن میں ہمیشہ اس کی ایمانداری کو سراہتا ہوں جس نے ٹیم کے مفاد کو مقدم رکھا‘‘سابق بھارتی بیٹسمین راہول ڈریوڈ نے کیلس کو ’’ موجودہ دور کا گیری سوبرز ‘‘ قرار دیا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں نے عظیم گیری سوبرز کو کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا جنہیں عالمی کرکٹ کا مکمل آل راؤنڈر کہا جاتا ہے مگر کیلس کو کھیلتے دیکھ کر اس خواہش کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ تینوں شعبوں میں یکساں مہارت اور بھرپور اعدادوشمار ان کی عظمت کے گواہ ہیں۔ کیلس نے 519 بین الاقوامی مقابلوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی اور ٹیسٹ میں 55 سے زیادہ کے اوسط کے ساتھ 13 ہزار سے زائد رنز بنائے جس میں 45 سنچریاں اور 58 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں جبکہ انہوں نے 292 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ون ڈے میں وہ 11 ہزار سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب رہے جن میں 17 سنچریاں اور 86 نصف سنچریاں شامل رہیں اور اپنی باؤلنگ کے ذریعے 274 کھلاڑیوں کو شکار بھی بنایا۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ میں 200 اور ون ڈے میں 131 کیچز بھی کیلس کے نام رہے۔ 19 سال کے طویل عرصے تک کھیل کے تمام شعبوں میں مستقل کارکردگی کا یہ کارنامہ ’’کنگ کیلس‘‘ کے علاوہ کوئی انجام نہیں دے سکتا اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے دو عشروں میں بھی عالمی کرکٹ کو کیلس جیسا’’مکمل‘‘ کھلاڑی نہ مل سکے!

یہ بھی پڑھیں:  پاک ویسٹ انڈیز دوستی زندہ باد

ٹیسٹ بیٹنگ اعدادوشمار

مقابلے رنز اوسط بہترین اسکور سنچریاں نصف سنچریاں کیچز چوکے چھکے
166 13289 55.37 224 45 58 200 1488 97

ٹیسٹ باؤلنگ اعدادوشمار

میچز وکٹیں اوسط اننگز میں بہترین باؤلنگ میچ میں بہترین باؤلنگ اننگز میں پانچ وکٹیں میچ میں 10 وکٹیں
166 292 32.65 6/54 9/92 5

ون ڈے بیٹنگ اعدادوشمار

مقابلے رنز اوسط بہترین اسکور سنچریاں نصف سنچریاں کیچز چوکے چھکے
328 11579 44.36 139 17 86 131 911 137

ون ڈے باؤلنگ اعدادوشمار

میچز وکٹیں اوسط اکنامی ریٹ اسٹرائیک ریٹ میچ میں بہترین باؤلنگ میچ میں پانچ وکٹیں
328 273 31.79 4.84 39.3 5/30 2

Facebook Comments