پاک-لنکا ٹیسٹ مقابلے، اعدادوشمار کی نظر میں

چھ ماہ کے طویل انتظار کے بالآخر پاکستان ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ اکھاڑے میں اترنے کے لیے تیار ہے۔ جو سلسلہ رواں سال کے اوائل میں سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ میں یادگار فتح کے بعد ٹوٹا تھا، گال کے میدان پر سری لنکا ہی کے خلاف جڑ جائے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور سری لنکا کے ٹیسٹ مقابلوں کی تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے۔

گزشتہ دو ناکامیوں کے بعد کیا پاکستان اس مرتبہ سری لنکا کا قلعہ فتح کرپائے گا؟ (تصویر: AFP)

گزشتہ دو ناکامیوں کے بعد کیا پاکستان اس مرتبہ سری لنکا کا قلعہ فتح کرپائے گا؟ (تصویر: AFP)

1981ء میں سری لنکا کو ٹیسٹ درجہ ملنے کے بعد سے اب تک پاکستان کے ساتھ کل 16 ٹیسٹ سیریز کھیلی جاچکی ہیں جن میں سے 7 سری لنکا، 7 پاکستان میں جبکہ دو متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوئیں۔ ان میں سے 7 سیریز میں پاکستان نےکامیابی حاصل کی جبکہ چار میں سری لنکا نےفتح کے جھنڈے گاڑے۔ باقی پانچ سیریز برابری پر منتج ہوئیں۔

یہ مجموعی طور پر آٹھواں موقع ہوگا کہ پاکستان ٹیسٹ سیریز کے لیے سری لنکا کا دورہ کرنے گیا ہے، جو کسی بھی ملک کی سری لنکا میں سب سے زیادہ ٹیسٹ سیریز ہیں۔ پچھلے 7 دوروں میں سے پاکستان نے تین میں کامیابی حاصل کی جبکہ میزبان نے دو مرتبہ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دی۔ یہ دونوں فتوحات اس نے گزشتہ دونوں سیریز میں حاصل کیں۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلی ٹیسٹ سیریز مارچ 1982ء میں کھیلی گئی جب سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم تین میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ یہ نوآموز سری لنکا کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا جس میں اسے پاکستان کے ہاتھوں دو-صفر کی ناکامی ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری سیريز چھ ماہ قبل متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی، جو ایک-ایک سے برابر ٹھہری تھی۔ اس سیریز کا شارجہ میں کھیلا گیا آخری مقابلہ بہت یادگار تھا جس میں پاکستان نے محض 58 ویں اوور میں 302 رنز کا ہدف حاصل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کردیا تھا۔

سری لنکاکی حالیہ ٹیسٹ کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔ دورۂ انگلستان میں تاریخی کامیابی سمیٹنے کے بعد اسے ہوم گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ایک-صفر کی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس شکست نے سری لنکا کو دباؤ میں ضرور ڈالا ہوگا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ سیریز بہت دلچسپ ہوگی۔ اگر اسے اس وقت دنیا کے دو بہترین اسپنرز رنگانا ہیراتھ اور سعید اجمل کا ٹکراؤ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس سیریز کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہوگئی ہے کیونکہ سری لنکا کے عظیم بیٹسمین مہیلا جے وردھنے نے اسے اپنی آخری سیریز قرار دیا ہے۔ گزشتہ مہینے انہوں نے اعلان کیا تھاکہ پاکستان کے خلاف سیریز کے بعد وہ ٹیسٹ کرکٹ کوخیرباد کہہ دیں گے اور اپنی پوری توجہ صرف ون ڈے کرکٹ پر مرکوز رکھیں گے۔

یہ مہیلا جے وردھنے کے ٹیسٹ کیریئر کی آخری سیریز ہوگی (تصویر: AFP)

یہ مہیلا جے وردھنے کے ٹیسٹ کیریئر کی آخری سیریز ہوگی (تصویر: AFP)

اب ذرا انفرادی کارکردگی پر نظر دوڑاتے ہیں، جہاں سب سے پہلے بلے بازی ہے۔ پاک-لنکا ٹیسٹ مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز کمار سنگاکارا کو حاصل ہے جو 80.19 کے شاندار اوسط کے ساتھ 2486 رنز بنا چکے ہیں۔ اگر وہ پاکستان کے خلاف سیریز میں 14 مزید رنز بنالیتے ہیں تو ان کے رنز کی تعداد 2500 ہوجائے گی۔ وہ کسی بھی ملک کے خلاف ڈھائی ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے سری لنکا کے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔ اور پاکستان کے خلاف یہ کارنامہ سرانجام دینے والے بھی پہلے کھلاڑی ہوں گے۔

بھارت کے سنیل گاوسکر اور سچن تنڈولکر ہی برصغیر کے ایسے بلے باز ہیں جنہیں کسی بھی ٹیم کے خلاف ڈھائی ہزار یا اس سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے کا شرف حاصل ہوا ہو۔ سنیل نے یہ کارنامہ ویسٹ انڈیز کے خلاف جبکہ سچن نے انگلستان اور آسٹریلیا کے خلاف انجام دے رکھا ہے۔

اگر پاکستان کے بلے بازوں کو دیکھیں تو یونس خان سری لنکا کے خلاف 1808 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ یعنی اگر وہ آنے والی سیریز میں مجموعی طور پر 188 رنز بنا لیں تو تنڈولکر کا سری لنکا کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ سچن نے سری لنکا کے خلاف 1995 ٹیسٹ رنز بنا رکھے ہیں۔

پاک-لنکا ٹیسٹ میچز میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز سنگاکارا کو حاصل ہے، جو پاکستان کے خلاف اب تک تہرے ہندسے کی 9 اننگز کھیل چکے ہیں۔ جبکہ ان مقابلوں میں صرف ایک ٹرپل سنچری بنی ہے جو پاکستان کے یونس خان نے 2009ء کے کراچی ٹیسٹ میں 313 رنز کی شاندار اننگز کے ذریعے بنائی تھی۔

ایک سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا کارنامہ بھی سنگا ہی نے انجام دیا ہے، جنہوں نے 2011-12ء میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی سیریز میں 516 رنز بنائے تھے۔

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا کارنامہ یونس خان کا ہے جن کے چھکوں کی تعداد 14 ہے۔ ان کے بعد سنگاکارا اور وسیم اکرم کا نمبر ہے جو 13، 13 چھکے لگا چکے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ کپتان مصباح الحق بھی 10 چھکوں کے ساتھ فہرست میں موجود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس سیریز میں وہ یہ ریکارڈ توڑ دیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان باہمی ٹیسٹ مقابلوں میں صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ اننگز میں 400 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی ہو۔ مہیلا جے وردھنے اور تھیلان سماراویرا نے 2009ء کے کراچی ٹیسٹ میں چوتھی وکٹ پر 437 رنز جوڑے تھے۔ مہیلا نے اس میچ میں 240 رنز بنائے تھے جبکہ سماراویرا 231 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے تھے۔

پاک-لنکا باہمی مقابلوں کی واحد ٹرپل سنچری یونس خان نے بنا رکھی ہے (تصویر: AFP)

پاک-لنکا باہمی مقابلوں کی واحد ٹرپل سنچری یونس خان نے بنا رکھی ہے (تصویر: AFP)

یہ تو سرفہرست ہوگئے، اب فہرست میں سب سے نیچے والے پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں۔ سری لنکا کے وکرما سنگھے باہمی مقابلوں میں سب سے زیادہ 9 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اسی فہرست میں دوسرا نام موجودہ کھلاڑی رنگانا ہیراتھ کا ہے جو 8 مرتبہ اس ہزیمت کا نشانہ بنے ہیں۔ اگر پاکستان نے انہیں دو ٹیسٹ میچز کی آئندہ سیریز میں صفر پر آؤٹ کیا تو ہیراتھ نہ چاہتے ہوئے بھی اس فہرست میں سب سے اوپر آجائیں گے۔

اگر باؤلنگ کی جانب دیکھا جائے تو دونوں ٹیموں کے مقابلوں میں سب سے زیادہ وکٹیں عظیم اسپنر مرلی دھرن کے پاس ہیں۔ جنہوں نے 80 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ دوسرے نمبر پر موجودہ کھلاڑی رنگانا ہیراتھ ہیں، جن کی وکٹوں کی تعداد 65 ہے۔ اگر اس سیریز میں ہیراتھ مزید 16 وکٹیں حاصل کرلیں تو وہ مرلی سے یہ اعزاز چھین سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے خلاف سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز وسیم اکرم ہیں۔ جنہوں نے 19 ٹیسٹ میچز میں 63 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ سعید اجمل 57 وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

پاک-لنکا مقابلوں میں صرف دو بار ایسا ہوا ہے کہ جب کسی باؤلر نے اننگز میں 8 وکٹیں حاصل کی ہوں اور دونوں بار ایسا پاکستان میں کھیلے گئے ٹیسٹ مقابلوں میں ہوا۔ سب سے پہلے عمران خان نے 1982ء کی سیریز کے لاہور ٹیسٹ میں 58 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کے روی رتنائیکے نے 1985ء کے سیالکوٹ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 83 رنز دے کر پاکستان کے 8 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

میچ میں بہترین باؤلنگ کارکردگی کا اعزاز عمران خان کو حاصل ہے جنہوں نے 1982ء کے مذکورہ لاہور ٹیسٹ میں 116 رنز دے کر 14 وکٹیں حاصل کیں۔ باہمی سیریز میں میچ میں 10 یا زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز کی تعداد پانچ ہے جن میں عمران خان کے علاوہ وقار یونس، محمد آصف اور دانش کنیریا شامل ہیں جبکہ سری لنکا کا صرف ایک باؤلر ایسا کرنے میں کامیاب رہا، عظیم مرلی دھرن۔

دورۂ سری لنکا دوبارہ کوچ بننے کے بعد وقار یونس کا پہلا امتحان ہوگا (تصویر: AFP)

دورۂ سری لنکا دوبارہ کوچ بننے کے بعد وقار یونس کا پہلا امتحان ہوگا (تصویر: AFP)

مرلی کے پاس سب سے زیادہ مرتبہ اننگز میں 5 یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی ہے، جن کی تعداد پانچ ہے۔ موجودہ گیندبازوں میں جنید خان چار مرتبہ ایسا کر چکے ہيں اور ان کے پاس سنہری موقع ہے کہ اس فہرست میں سب سے اوپر آ جائیں۔ رنگانا ہیراتھ تین مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں لے چکے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے جنید خان نے سب سے زیادہ 4 مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں اور مزید دو بار یہ کارنامہ انجام دے کر وہ ا اس تعداد کو 6 تک پہنچا سکتے ہیں۔ جو کسی بھی باؤلر کی سری لنکا کے خلاف پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کی سب سے شاندار کارکردگی ہوگی۔ اس وقت یہ ریکارڈ شین وارن ہے پاس ہے جنہوں نے سری لنکا کے خلاف 5 مرتبہ پانچ یا زیادہ وکٹیں لے رکھی ہیں۔

اگر وکٹوں کے پیچھے کارکردگی کی بات کی جائے تو پاکستان کے معین خان نے سب سے زیادہ 40 شکار کر رکھے ہیں اور کم از کم اس سیریز میں تو معین خان کے ریکارڈ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں کیونکہ ان کے قریبی ترین حریف کامران اکمل اور پرسنا جے وردھنے اس سیریز میں نہیں کھیل رہے، جن کے شکاروں کی تعداد بالترتیب 31 اور 29 ہے۔

فیلڈنگ میں مہیلا جے وردھنے سب سے نمایاں ہیں۔ پاکستان کے خلاف انہوں نے 32 فیلڈ کیچ پکڑ رکھے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے یونس خان 26 کیچوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔

یہی دونوں کھلاڑی مجموعی طور پر سب سے زیادہ باہمی میچز بھی کھیل چکے ہیں۔ مہیلا جے وردھنے نے 27 ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں جبکہ یونس خان 24 مقابلوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستان کے کپتان مصباح الحق سری لنکا کے خلاف 8 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کرچکے ہیں جو باہمی مقابلوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے اور اب اس سیریز میں یہ تعداد بڑھ کر 10 تک پہنچ جائے گی۔

سری لنکا کے کمار سنگاکارا باہمی مقابلوں میں سب سے زیادہ یعنی 6 مرتبہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیت چکے ہیں، جو کسی بھی کھلاڑی کا پاکستان کے خلاف ایک ریکارڈ ہے۔ اگر موجودہ سیریز کے دونوں مقابلوں میں بھی سنگا یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو پاکستان کے خلاف ان کے ایوارڈز کی تعداد 8 ہوجائے گی جو کسی کھلاڑی کا ایک مخصوص ملک کے خلاف سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈز جیتنے کا ایک نیا عالمی ریکارڈ ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوسکا اور سنگاکارا صرف ایک میچ میں اعزاز حاصل کرپائے تب بھی وہ کرٹلی ایمبروز کا آسٹریلیا کے خلاف 7 بار مرد میدان قرار پانے کا عالمی ریکارڈ ضرور برابر کردیں گے۔

چند دلچسپ اعدادوشمار:

مصباح الحق پہلے کھلاڑی ہوں گے، جنہیں سری لنکا میں 40 سال یا اس سے زیادہ کی عمر میں دورہ کرنے والی ٹیم کی قیادت کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔

یونس خان نے ٹیسٹ میچز میں 98 کیچز پکڑ رکھے ہیں اور صرف دو کیچ تھام کر وہ پاکستان کے پہلے فیلڈر بن سکتے ہیں جنہیں کیچوں کی سنچری کا اعزاز ملے گا۔

وسیم اکرم نے 1999ء میں ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دوران مہیلا جے وردھنے کو اپنی تین مسلسل گیندوں پر آؤٹ کیا۔ قذافی اسٹیڈیم میں دوسری اننگز میں، پھر ڈھاکہ ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں وسیم اکرم کی پہلی ہی گیند پر مہیلا کو اپنی وکٹ گنوانا پڑی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا صرف 12 مرتبہ ہوا ہے کہ کسی باؤلر نے اپنی 3 مسلسل گیندوں پر کسی ایک بیٹسمین کو آؤٹ کیا ہو۔

مجموعی طور پر ٹیسٹ میچز میں پاکستان نے 2013ء اور 2014ء کے دوران 28.1 فیصد اور سری لنکا کے کھلاڑیوں نے اسی دوران 35.6 فیصد کیچ چھوڑے ہیں۔

2009ء کے کراچی ٹیسٹ میں یونس خان نے اپنی 313 رنز کی شاندار اننگز 4 دن میں کھیلی۔ ٹیسٹ کے دوسرے روز کے اختتام پر وہ صفر پر ناٹ آؤٹ تھے، تیسرے دن 149، چوتھے دن 306 پر ناقابل شکست لوٹے اور پانچویں دن وہ 313 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ یہ ٹیسٹ تاریخ میں آخری موقع تھا کہ کسی بلے باز کی اننگز 4 دنوں پر محیط ہوگئی ہو۔

Facebook Comments