آئی سی سی نے درخواست رد کردی، بھارت اپنا سا منہ لے کر رہ گیا

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بھارت کی درخواست رد کرتے ہوئے انگلستان کے باؤلر جیمز اینڈرسن کے خلاف اپیل نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بھارت نے ٹرینٹ برج تنازع میں اینڈرسن کو بے قصور قرار دینے کے فیصلے کے خلاف آئی سی سی سے رابطہ کیا تھا (تصویر: AFP)

بھارت نے ٹرینٹ برج تنازع میں اینڈرسن کو بے قصور قرار دینے کے فیصلے کے خلاف آئی سی سی سے رابطہ کیا تھا (تصویر: AFP)

ایک روز قبل بھارت نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ٹرینٹ برج تنازع میں جیمز اینڈرسن کے بے قصور قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے۔ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کمیشن کے نمائندے گورڈن لوئس نے گزشتہ ہفتے معاملے کی سماعت کے بعد اینڈرسن اور بھارت کے بلے باز رویندر جدیجا دونوں کے بے قصور قرار دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف دونوں کو اپیل کرنے کا اختیار بھی نہیں دیا۔

بھارت نے اینڈرسن پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے دوران نہ صرف رویندر جدیجا سے بدکلامی کی بلکہ انہیں دھکا بھی دیا۔ اس حرکت پر بھارت نے اینڈرسن کو آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے لیول 3 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف آئی سی سی کو شکایت کی جبکہ جواب میں انگلستان نے بھی رویندر جدیجا کے خلاف لیول 1 کی شکایت درج کروائی۔ آئی سی سی نے اینڈرسن کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اپنے ضابطہ اخلاق کمیشن کے نمائندے گورڈن لوئس کو مقرر کیا جنہوں نے تحقیقات کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو بے قصور قرار دیا۔ اس فیصلے سے چند روز قبل میچ ریفری ڈیوڈ بون نے جدیجا کو بدزبانی پر میچ فیس کے 50 فیصد جرمانے کی سزا سنائی تھی، اور رہی سہی کسر ساؤتھمپٹن میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں شکست نے پوری کردی۔

فیصلے کے خلاف اپیل کا اختیار نہ ہونے کی وجہ سے بھارت نے براہ راست آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن سے رابطہ کیا کہ وہ فیصلے کے خلاف خود اپیل کریں۔ لیکن آج ڈیوڈ رچرڈسن نے واضح انداز میں کہہ دیا کہ وہ اپیل نہیں کریں گے۔ آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، جس کی ایک نقل کرک نامہ کو بھی موصول ہوئی ہے، رچرڈسن کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ دو مکمل اور جامع تادیبی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے اور تحریری فیصلے پر نظرثانی کے بعد آئی سی سی مکمل طور پر مطمئن ہے۔

مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے رچرڈسن نے کہا کہ مجموعی طور پر 13 گواہوں کے بیانات لیے گئے اور فریقین کے پیش کردہ شواہد اور بیانات میں بہت زیادہ فرق پایا گیا۔ ہم نے گورڈن لوئس کے فیصلے پر غور کیا ہے اور اب ہمارا ماننا ہے کہ اپیل کرکے اس معاملے کو مزید طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ پورا عمل مکمل طور پر شفاف تھا اور تمام فریقین کو سوالات کرنے، شواہد کو جانچنے اور پیش کرنے کے کافی مواقع دیے گئے اور ہماری دانست میں اب اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسا کوئی بھی قدم کھیل کے بہترین مفاد میں نہیں ہوگا۔

آئی سی سی کے اس اعلان کے ساتھ ٹرینٹ برج معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا ہے لیکن انگلینڈ اور بھارت کے درمیان سیریز کے بقیہ دو مقابلوں کے لیے میدان سخت گرم کرگیا ہے۔

Facebook Comments