سری لنکا ایک مرتبہ پھر یونس کے نشانے پر، گال میں پاکستان کی بالادستی

سری لنکا کے 'دیرینہ دشمن' یونس خان نے ایک یادگار سنچری کے ذریعے پاکستان کو گال ٹیسٹ کے پہلے ہی دن بالادست پوزیشن پر پہنچا دیا ہے۔ اسد شفیق کی ناقابل شکست نصف سنچری اور یونس کے ساتھ ذمہ دارانہ شراکت داری کی بدولت پاکستان کا اسکور صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر 261 رنز کو چھو رہا ہے اور ابتدائی سیشن کی بھیانک کارکردگی کے بعد اس کی توقع شاید کسی کو بھی نہ تھی۔

یونس خان نے ٹیسٹ کیریئر کی 24 ویں سنچری بنائی۔ اسد شفیق کے ساتھ ان کی 105 رنز کی سنچری شراکت داری جاری ہے (تصویر: AP)

یونس خان نے ٹیسٹ کیریئر کی 24 ویں سنچری بنائی۔ اسد شفیق کے ساتھ ان کی 105 رنز کی سنچری شراکت داری جاری ہے (تصویر: AP)

ٹاس کے وقت گال کے تاریخی قلعے کے سامنے واقع میدان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنے کے بعد جب صرف 19 رنز پر پاکستان کے دونوں اوپنرز وکٹوں سے محروم ہوچکے تھے۔ اس وقت مصباح جیسا بلند حوصلہ کپتان کو بھی پریشانی نے گھیر لیا، جو وقت کے ساتھ اسپنرز کے لیے سازگار بننے والی وکٹ پر ہدف کا تعاقب نہ کرنا چاہتے تھے۔ یونس خان اس موقع پر امید کی کرن بن کر آئے اور انہوں نے پہلے خود مصباح اور بعد ازاں اسد شفیق کے ساتھ مل کر پہلے دن کا کھیل بچا لیا۔

پاکستانی اننگز کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ احمد شہزاد دن کے دوسرے ہی اوور میں کلین بولڈ ہوگئے اور چھٹے اوور میں خرم منظور بھی وکٹ دے کر چلتے بنے۔ مصباح الحق کا منصوبہ چوپٹ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ احمد شہزاد دھمیکا پرساد کے پہلے ہی اوور میں وکٹ سے محروم ہوئے جب گیند احمد کے بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی وکٹوں میں جا گھسی جبکہ رواں سال کے اوائل میں سری لنکا کے خلاف مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں نصف سنچریاں بنانے والے خرم منظور آج مکمل طور پر ناکام ہوئے اور دھمیکا ہی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔ دوسرے اینڈ پر کھڑے اظہر علی سے طویل مشاورت کے بعد انہوں نے ریویو نہ لینے کا فیصلہ کیا اور بعد ازاں ری پلے سے بھی ثابت ہوا کہ امپائر این گولڈ کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

اس مرحلے پر اظہر علی اور یونس خان نے اننگز کو سہارا دیا اور کسی نہ کسی طرح معاملے کو کھانے کے وقفے تک کھینچ لیا۔ البتہ وقفے سے پہلے پاکستان کو اظہر کی صورت میں ایک اور نقصان اٹھانا پڑا۔ اظہر نے چند بہت خوبصورت کور ڈرائیوز کھیلے لیکن جیسے ہی ایک اینڈ سے گیند رنگانا ہیراتھ کے ہاتھوں میں آئی، ان کا امتحان شروع ہوگیا۔ بالآخر 22 ویں اوور کی آخری گیند پر وہ ہیراتھ کی ایک خوبصورت گیند پر بولڈ ہوگئے۔ وہ اگلے قدموں پر گیند کو کھیلنے گئے لیکن وہ ان کے بلے کو دھوکہ دیتی ہوئی آف اسٹمپ کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔

پاکستان صرف 56 رنز پر تین کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا تھا اور اب اننگز کو بچانے کی ذمہ داری دو 'پرانے محافظوں' کے پاس تھی۔ یونس خان اور مصباح الحق کے لیے ضروری تھا کہ وہ آسان ہوتے ہوئے حالات میں وکٹوں کو مزید گرنے سے روکیں ۔ مصباح کی زبردست مزاحمت اور دوسرے اینڈ سے یونس کی مسلسل رنز بنانے کی حکمت عملی خوب کام آئی اور دونوں نے چوتھی وکٹ پر 100 رنز جوڑ کر اسکور کو 156 رنز تک پہنچا دیا۔ دونوں نے دوسرے سیشن میں سری لنکا کو وکٹ سے محروم رکھا اور 81 رنز کا شاندار اضافہ بھی کیا۔

البتہ مصباح الحق کی اننگز بہت سست تھی۔ اپنا پہلا رن لینے کے لیے انہوں نے 17 گیندوں کا استعمال کیا اور اس کے بعد جب انہیں دوبارہ رنز بنانے کی توفیق ملی تو وہ ان کی 40 ویں گیند تھی۔ سنچری شراکت داری میں بھی ان کا حصہ محض 30 رنز کا تھا جو انہوں نے 100 گیندوں پر بنائے تھے۔

آخری سیشن کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد مصباح ہیراتھ کی ایک اور خوبصورت گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے اور یوں اسد شفیق کو میدان میں آنے اور خود کو ثابت کرنے کا موقع ملا۔ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی گزشتہ 10 اننگز میں صرف 17.88 کے اوسط سے رنز بنانے والے اسد کے لیے یہ ایک بڑا امتحان تھا اور وہ اس پر پورے بھی اترے۔ ان کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی ابتدائی 30 گیندوں پر انہوں نے 19 رنز بنائے جس میں دو چوکے اور ہیراتھ کو آگے بڑھ کر لگایا گیا ایک شاندار چھکا بھی شامل تھا۔ دونوں نے ناقابل شکست 105 رنز جوڑے جب 90 اوورز کا کھیل مکمل ہونے سے پہلے ہی امپائروں نے کم روشنی کی وجہ سے کھیل ختم ہونے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں یونس خان نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی 24 ویں سنچری 188 گیندوں پر مکمل کی اور یوں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑیوں میں دوسرے نمبر پر آ گئے۔ انہیں انضمام الحق کا 25 سنچریوں کا ریکارڈ توڑنے کے لیے اب تہرے ہندسے کی مزید ایک اننگز کی ضرورت ہے۔

یونس خان آج کافی خوش قسمت بھی رہے۔ 20 اور 59 کے انفرادی اسکور پر انہوں نے امپائر کے فیصلے کے خلاف کامیاب ریویو لیے۔ پہلے انہیں دھمیکا پرساد کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ دیا گیا تھا جبکہ گیند ان کے بلے سے چھوئے بغیر گئی تھی جبکہ دوسری بار وہ دلرووان پیریرا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے لیکن ری پلے کے بعد بچ گئے۔ بعد ازاں 68 رنز پر مہیلا جے وردھنے نے سلپ میں ان کا کیچ بھی ضائع کیا۔ یہ تینوں مواقع ضائع کرنا سری لنکا کے لیے خاصا مہنگا ہو سکتا ہے۔

ٹھنڈے مزاج اور جھکے ہوئے سر کے ساتھ کھیلی گئی یونس کی 133 رنز کی ناقابل شکست اننگز میں چند لمحے ایسے بھی تھے جب وہ حریف باؤلر پر مکمل طور پر حاوی ہوگئے۔ جیساکہ دوسرے سیشن میں پیریرا کو تین مسلسل چوکے اور اس کے علاوہ ایک شاندار چھکا۔

اب پاکستان پہلے دن کے اختتام پر بہترین پوزیشن پر موجود ہے لیکن میچ کے حقیقی جھکاؤ کا فیصلہ آئندہ دو روز کے کھیل میں ہوگا کیونکہ ایک بڑا مجموعہ اکٹھا کرنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ سری لنکا کی طویل بیٹنگ لائن اپ کو ٹھکانے لگانا بھی پاکستان کے لیے بہت ضروری ہوگا۔ دیکھتے ہیں، کل کا سورج سری لنکا کے لیے کیا لاتا ہے؟ آج تو انہوں نے اچھی شروعات کے بعد بہت مشکل دن گزارا۔

Facebook Comments