ایک اور ڈبل سنچری، کمار سنگاکارا اعدادوشمار کی نظر میں

سری لنکا کے کمار سنگاکارا نے پاکستان کے خلاف 'ایک اور' ڈبل سنچری اسکور کرکے اپنی ڈبل سنچریوں کی تعداد کو 10 تک پہنچا دیا ہے۔ یعنی اب وہ ڈان بریڈمین کے 12 ڈبل سنچریوں کے ریکارڈ کو توڑنے کے بہت قریب ہیں۔ ایک ایسا ریکارڈ کہ دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین بیٹسمین برائن لارا، سچن تنڈولکر اور رکی پونٹنگ تک اس کے قریب نہ پہنچ پائے۔

کمار سنگاکارا نے گال میں پاکستان کے خلاف جاری ٹیسٹ کے دوران 425 گیندوں پر 221 رنز کی ایک شاندار اننگز کھیلی اور قسمت بھی بہادروں کا ہی ساتھ دیتی ہے، پاکستان نے چوتھے دن کے کھیل کی پہلی گیند پر ان کا کیچ اس وقت چھوڑا، جب وہ محض 102 رنز پر کھیل رہے تھے۔ سنگا نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پھر چائے کے وقفے کے بعد اپنی ڈبل سنچری کو جا لیا۔

kumar-sangakkara

سب سے زیادہ ٹیسٹ ڈبل سنچریاں بنانے والے بلے باز

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں ڈبل سنچریاں
ڈان بریڈمین آسٹریلیا 52 6996 334 99.94 29 13 12
کمار سنگاکارا  سری لنکا 127 11886 319 59.13 37 50 10
برائن لارا ویسٹ انڈیز 131 11953 400* 52.88 34 48 9
والی ہیمنڈ انگلستان 85 7249 336* 58.45 22 24 7
مہیلا جے وردھنے سری لنکا 148 11730 374 50.12 34 49 7

یہ پاکستان کے خلاف سنگاکارا کی تیسری ڈبل سنچری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ مارچ 2002ء میں لاہور میں کھیلا تھا، اور وہیں پر 230 رنز کے ساتھ اپنی پہلی ڈبل سنچری بنائی تھی اور اس کے بعد اکتوبر 2011ء میں ابوظہبی کے مقام پر 211 رنز بنا کر سری لنکا کو یقینی شکست سے بچایا تھا۔ بدقسمتی سے 2012ء میں پاکستان کے خلاف ہوم سیريز میں وہ دو مرتبہ اس سنگ میل کے بہت قریب پہنچ کر اسے حاصل نہ کرسکے۔ ایک مرتبہ دوسرے اینڈ پر کھڑا آخری بیٹسمین آؤٹ ہوگیا، اس طرح کہ سنگاکارا 199 رنز پر کھڑے تھے جبکہ دوسری بار وہ کولمبو میں 192 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اگر یہ دونوں اور نومبر 2007ء کی ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی 192 رنز کی یادگار اننگز 200 کا جادوئی ہندسہ عبورکرجاتیں تو آج سنگاکارا عالمی ریکارڈ توڑ چکے ہوتے۔ ہوبارٹ کی اس اننگز میں وہ امپائر کے انتہائی ناقص فیصلے کا شکار ہوئے تھے۔

کمار سنگاکارا کی ڈبل سنچری اننگز

رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ بمقام بتاریخ
319 482 32 8 بنگلہ دیش چٹاگانگ فروری 2014ء
287 457 35 0 جنوبی افریقہ کولمبو جولائی 2006ء
270 365 36 2 زمبابوے بلاوایو مئی 2004ء
232 357 31 1 جنوبی افریقہ کولمبو اگست 2004ء
230 327 33 3 پاکستان لاہور مارچ 2002ء
222* 277 28 0 بنگلہ دیش کانڈی جولائی 2007ء
221 425 24 0 پاکستان گال اگست 2014ء
219 335 29 0 بھارت کولمبو جولائی 2010ء
211 431 18 0 پاکستان ابوظہبی اکتوبر 2011ء
200* 325 20 2 بنگلہ دیش کولمبو جولائی 2007ء

سال 2014ء سنگاکارا کے لیے بہت ہی شاندار ثابت ہوا ہے۔ رواں سال انہوں نے کیریئر میں پہلی بار ٹرپل سنچری کا مزا چکھا جب فروری میں بنگلہ دیش کے خلاف چٹاگانگ ٹیسٹ میں انہوں نے 319 رنز بنائے اور اس کے بعد رنز بناتے چلے گئے۔ چٹاگانگ ٹیسٹ ہی کی دوسری اننگز میں انہوں نے 105 رنز بنائے اور پھر انگلستان کے خلاف لارڈز میں 147 اور 61، لیڈز میں 79 اور 55 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کی تاریخی سیریز جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گو کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سری لنکا کو مایوس کن شکست ہوئی لیکن سنگاکارا چار اننگز میں 76 اور 72 رنز کی دو اننگز کھیلنے میں ضرور کامیاب رہے۔ مجموعی طور پر رواں سال وہ اب تک 88.60 کے ناقابل یقین اوسط کے ساتھ 1329 رنز بنا چکے ہیں۔ یہ کسی بھی سری لنکا کے بلے باز کا ایک سال میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ ہے اور اگر سری لنکا رواں سال مزید ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہے تو شاید سال میں سب سے زیادہ رنز کا محمد یوسف کا عالمی ریکارڈ بھی خطرے کی زد میں آ جائے۔

سال 2014ء میں کمار سنگاکارا کی ٹیسٹ کارکردگی

مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
کمار سنگاکارا 9 1329 319 88.60 4 7 146 11

گال میں یہ کمار سنگاکارا کے کیریئر کی مجموعی طور پر 37 ویں سنچری تھی۔ یوں وہ سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں۔ کمار نے گال کی پہلی اننگز میں تہرے ہندسے کی اننگز کھیل کر بھارت کے عظیم بیٹسمین راہول ڈریوڈ کے 36 سنچریوں کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑا ہے۔ اب ان کی نظریں رکی پونٹنگ کی 41 سنچریوں پر ہوں گی۔ اس وقت سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ بھارت کے سچن تنڈولکر کے پاس ہے جنہوں نے اپنے 24 سالہ کیریئر میں 51 سنچریاں بنائی تھیں جبکہ حال ہی میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے والے ژاک کیلس کے ریکارڈ پر 45 سنچریاں ہیں۔

سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے بلے باز

ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
سچن تنڈولکر بھارت 200 15921 248* 53.78 51 68
ژاک کیلس جنوبی افریقہ 166 13289 224 55.37 45 58
رکی پونٹنگ آسٹریلیا 168 13378 257 51.85 41 62
کمار سنگاکارا سری لنکا 127 11886 319 59.13 37 50
راہول ڈریوڈ بھارت 164 13288 270 52.31 36 63

یہ پاکستان کے خلاف سنگاکارا کی دسویں سنچری تھی۔ وہ کسی ایک ملک کے خلاف دس یا زیادہ سنچریاں بنانے والے تاریخ کے محض ساتویں بیٹسمین بنے۔ ڈان بریڈمین کو کسی ایک ملک کے خلا ف سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے، جنہوں نے انگلستان کے خلاف 19 سنچریاں بنائی تھیں۔

کسی ایک ملک کے خلاف سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بلے باز

ملک بمقابلہ سنچریوں کی تعداد
ڈان بریڈمین آسٹریلیا انگلستان 19
سنیل گاوسکر بھارت ویسٹ انڈیز 13
جیک ہوبس انگلستان آسٹریلیا 12
سچن تنڈولکر بھارت آسٹریلیا 11
کمار سنگاکارا سری لنکا پاکستان 10

کمار سنگاکارا پاکستان کے خلاف 20 میچز میں 84.59 کے ناقابل یقین اوسط کے ساتھ 2707 رنز بنا چکے ہیں جن میں 10 سنچریاں اور اتنی ہی نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ یہ پاکستان کے خلاف کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

پاکستان کے خلاف کمار سنگاکارا کی کارکردگی

بمقابلہ مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
کمار سنگاکارا پاکستان 20 2707 230 84.59 10 10

ویسے 100 ٹیسٹ مقابلوں کو معیار مانا جائے، کہ اتنے طویل عرصے تک تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھانا بھی بہت بڑی بات ہے، سنگاکارا تاریخ میں تمام بلے بازوں سے اچھا اوسط رکھتے ہیں جو 59.13 ہے۔ اس فہرست میں ان کے قریبی ترین حریف ژاک کیلس 55.37 کا اوسط رکھتے ہیں۔

100 ٹیسٹ میچز کھیلنے والے بلے بازوں کا بہترین اوسط

بلے باز ملک مقابلے رنز بہترین اننگز اوسط سنچریاں نصف سنچریاں
کمار سنگاکارا سری لنکا 127 11886 319 59.13 37 50
ژاک کیلس جنوبی افریقہ 166 13289 224 55.37 45 58
سچن تنڈولکر بھارت 200 15921 248* 53.78 51 68
برائن لارا ویسٹ انڈیز 131 11953 400* 52.88 34 48
جاوید میانداد پاکستان 124 8832 280* 52.57 23 43

Facebook Comments