پاکستان کے زخموں کے لیے نمک، سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ کردیا گیا

سری لنکا کے خلاف گال میں شکست کے زخم تو بہت گہرے ہیں ہی، لیکن سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہونے سے پاکستان کے ان زخموں پر خوب نمک چھڑکا گیا ہے۔

سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن 2009ء میں بھی رپورٹ کیا گیا تھا، لیکن جانچ میں ان کا ایکشن قانون کے مطابق پایا گيا (تصویر: AFP)

سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن 2009ء میں بھی رپورٹ کیا گیا تھا، لیکن جانچ میں ان کا ایکشن قانون کے مطابق پایا گيا (تصویر: AFP)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مطابق گال ٹیسٹ کے بعد میچ آفیشلز رپورٹ میں سعید اجمل کی متعدد گیندوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا اور اس کہا گیا ہے کہ سعید کے ایکشن کو ایک مرتبہ پھر جانچنے کی ضرورت ہے۔ سعید کو اب 21 دنوں کے اندر اندر جانچ کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اس جانچ کے نتائج سامنے آنے تک انہیں ہر سطح پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن اگر ان کا ایکشن درست قرار نہیں پایا تو ان پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

اپریل 2009ء میں بھی امپائروں نےمشتبہ باؤلنگ ایکشن پر سعید اجمل کو رپورٹ کیا تھا اور اگلے مہینے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان کے باؤلنگ ایکشن کو قانونی حد کے اندر پاتے ہوئے انہیں باؤلنگ کی اجازت دے دی تھی۔ اس کے علاوہ 2012ء کے اوائل میں انگلستان کے خلاف پاکستان کی تاریخی کلین سویپ جیت کے بعد بھی کئی انگلش تبصرہ کاروں نے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر انگلیاں اٹھائی تھیں۔ یہاں تک کہ رواں سال کاؤنٹی سیزن کے دوران بھی سابق کپتان مائیکل وان اور موجودہ کھلاڑی اسٹورٹ براڈ نے سعید اجمل کی شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے ایکشن پر اعتراضات کیے تھے جس پر بعد ازاں براڈ کو معافی بھی مانگنا پڑی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے عرصے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل دو گیند بازوں کی باؤلنگ پر پابندی عائد کرچکا ہے جس میں سری لنکا کے سچیتھرا سینانائیکے اور نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن شامل ہیں۔

Article Tags

Facebook Comments