کمار سنگاکارا ایک مرتبہ پھر دنیا کے نمبر ایک بلے باز بن گئے

گال ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف فاتحانہ ڈبل سنچری نے کمار سنگاکارا کو ایک مرتبہ پھر دنیا کا بہترین بیٹسمین بنا دیا ہے۔

کمار سنگاکارا پونے دو سال کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے نمبر ایک بلے باز بنے ہیں (تصویر: AFP)

کمار سنگاکارا پونے دو سال کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا کے نمبر ایک بلے باز بنے ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان اور سری لنکا کے مابین گال میں بھارت اور انگلستان کے اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے بلے بازوں، گیند بازوں اور آل راؤنڈرز کی تازہ ترین انفرادی درجہ بندی جاری کی ہے جس کے مطابق گال میں پاکستان کے خلاف 221 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد کمار سنگاکارا 31 پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور یوں جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دنیا کے نمبر ایک بلے باز بن گئے ہیں۔

کمار سنگاکارا نے پہلی بار دسمبر 2007ء میں یہ مقام حاصل کیا تھا اور آخری بار نومبر 2012ء میں آسٹریلیا کے مائیکل کلارک کے ہاتھوں نمبر ایک پوزیشن گنوائی تھی۔ اب تقریباً پونے دو سال کے بعد کیریئر کی 10 ویں ڈبل سنچری بنانے کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر سرفہرست جگہ مل گئی ہے۔

ابراہم ڈی ولیئرز اب دوسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ پوزیشن گزشتہ سال اکتوبر میں ہم وطن ہاشم آملہ سے چھینی تھی اور 287 دنوں تک اس پر فائز رہنے کے بعد بالآخر سنگا کے ہاتھوں محروم ہوگئے۔

بلے بازوں میں سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز پہلی بار دنیا کے سرفہرست پانچ بیٹسمینوں میں آ گئے ہیں۔ پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں 91 اور دوسری میں فاتحانہ 25 رنز انہیں ایک درجہ اوپر پانچویں نمبر پر لے آئے ہیں۔

ادھر پاکستان کے یونس خان نے 177 رنز کی بدولت ایک مرتبہ پھر ٹاپ ٹین میں جگہ بنائی ہے۔ وہ ایک درجہ ترقی پانے کے بعد دسویں نمبر پر آئے ہیں جبکہ کپتان مصباح الحق کی دونوں اننگز میں ناکامی انہیں آٹھویں نمبر پر لے آئی ہے۔

گیندبازوں میں بدستور جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین کا راج ہے بلکہ ابتدائی چاروں پوزیشنوں پر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی لیکن پاکستان کے سعید اجمل کے لیے ایک اور مایوس کن خبر یہ ہے کہ گال میں بری کارکردگی انہیں تین درجہ تنزلی کے بعد آٹھویں نمبر پر لے آئی ہے۔ سعید نے گو کہ پہلی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن اس کے لیے انہیں 166 رنز دینا پڑے تھے اور اپنے ابتدائی 46 اوورز میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ جبکہ ان کے مخالف سری لنکا کے رنگانا ہیراتھ دو درجے پھلانگ کر چھٹے نمبر پر آ گئے ہیں۔ رنگانا نے میچ کے آخری دن پاکستان کی 6 وکٹیں حاصل کرکے مقابلے کو نتیجہ خیز بنانے اور سری لنکا کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اولڈ ٹریفرڈ میں بھارت کے خلاف کارکردگی دکھانے والے دو انگلش باؤلر جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کو بھی اپنے کیے کا بھرپور صلہ ملا ہے۔ اینڈرسن دو درجے پھلانگ کر پانچویں جبکہ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانےوالے براڈ چار درجے ترقی پاکر نویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

بھارت کے کھلاڑیوں کے لیے واحد اچھی خبر یہ رہی کہ دونوں اننگز میں عمدہ بیٹنگ روی چندر آشون کو دنیا کا نمبر ایک ٹیسٹ آل راؤنڈر بنا گئی ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل ہر ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انفرادی درجہ بندی جاری کرتی ہے جبکہ ٹیموں کی درجہ بندی سیریز کے خاتمے پر جاری کی جاتی ہے۔ اگر پاکستان سری لنکا کے خلاف سیریز برابر نہیں کر پایا تو اس کا چھٹی پوزیشن پر چلے جانا یقینی ہے جبکہ انگلستان اگلے ٹیسٹ میں بھارت کو شکست دے کر نہ صرف سیریز جیت سکتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی نمبر تین پوزیشن بھی قابو کرسکتا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی مکمل درجہ بندی کرک نامہ کے اس خصوصی صفحے پر ملاحظہ کیجیے۔

Facebook Comments