تاحیات پابندی کے خلاف کنیریا کی آخری اپیل بھی مسترد

کرکٹ میں فکسنگ کے قبیح جرم کے مرتکب قرار پانے والے اپنے سابق پاکستانی دوستوں کی طرح دانش کنیریا کی تمام راہیں مسدود ہوچکی ہیں اور انگلستان کی عدالت نے ان کی آخری اپیل بھی مسترد کردی ہے۔

دانش کنیریا پر دو سال قبل کاؤنٹی کرکٹ میں ساتھی کھلاڑی کو فکسنگ میں شامل کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی (تصویر: AFP)

دانش کنیریا پر دو سال قبل کاؤنٹی کرکٹ میں ساتھی کھلاڑی کو فکسنگ میں شامل کرنے پر تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی (تصویر: AFP)

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عدالت نے کنیریا کی اپیل کو میرٹ کے خلاف قرار دیا ہے اور وہ اب اس فیصلےکے خلاف کہیں اپیل بھی نہیں کرسکتے۔

ای سی بی نے 2009ء میں ایک کاؤنٹی مقابلے کے دوران ساتھی کھلاڑی مروین ویسٹ فیلڈ کو میچ فکسنگ پر اکسانے کا الزام ثابت ہونے پر 2012ء میں ان پر تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ جس کے خلاف کنیریا کی ای سی بی اور لندن کی عدالت عالیہ میں کی گئی اپیلیں پہلے ہی مسترد ہوچکی ہیں۔ وہ تمام قانونی راستے اختیار کرچکے ہیں اور اب ان پر تمام دروازے بند ہوگئے ہیں۔

ای سی بی کے چیئرمین جائلز کلارک نے کہا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ دانش کنیریا اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے عام معافی طلب کریں ۔ وہ پاکستان کرکٹ کے پرستاروں اور عوام کے سامنے اپنی معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا بند کریں اور کرکٹ میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے پاکستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

کنیریا سے قبل 2010ء میں پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ، پانچ سال کی طویل پابندیاں بھگت چکے ہیں بلکہ انہیں برطانیہ میں مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں انہیں چھ مہینے سے تین سال تک کی قید کی سزائیں بھی ہوئیں۔

Facebook Comments