[ریکارڈز] رنگانا ہیراتھ، کیریئر کی بہترین کارکردگی اور 250 وکٹیں

سری لنکا کے میدان ہوں اور کوئی مہمان ٹیم میچ کھیلنےکے لیے میدان میں اترے تو اس کے جادوئی اسپنرز کا دباؤ اور ان سے نمٹنے کی بھرپور منصوبہ بندی ضرور موجود ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کہ یہ بات یقینی نہ ہو کہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوگی یا نہیں۔ مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد حریف ٹیم پر اس دباؤ کو رنگانا ہیراتھ نے برقرار رکھا ہوا ہے جن کے سامنے اس وقت پاکستان کے بیٹسمین ناتجربہ کار کلب کرکٹرز دکھائی دے رہے ہیں۔

رنگانا ہیراتھ نے ٹیسٹ کیریئر میں پہلی بار ایک اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AFP)

رنگانا ہیراتھ نے ٹیسٹ کیریئر میں پہلی بار ایک اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: AFP)

بائیں ہاتھ سے آف اسپن گیند بازی کرنے والے رنگانا ہیراتھ نے کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب میں جاری پاک-لنکا سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کرکے اپنے کیریئر کی بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور ساتھ ہی 250 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کرنے والے تیسرے سری لنکن باؤلر بھی بن گئے ہیں۔ اپنے 57 ویں ٹیسٹ میچ میں یہ سنگ میل عبور کرکے وہ عظیم مرلی دھرن اور تیز باؤلر چمندا واس کے بعد دوڑ میں تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ ان کی 250 ویں وکٹ کسی اور کی نہیں بلکہ پاکستان کے کپتان مصباح الحق کی صورت میں تھی۔

اگر بین الاقوامی کرکٹ میں اسپنرز کے ریکارڈز پر نظر ڈالیں تو مرلی دھرن، شین وارن اور انیل کمبلے کے بعد رنگانا ہیراتھ نے سب سے کم مقابلوں میں 250 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ موجودہ کھلاڑیوں میں کوئی ایسا قابل ذکر باؤلر نظر نہیں آتا جو ہیراتھ کو پیچھے چھوڑ سکے۔ وکٹوں کے اعتبار سے سری لنکن باؤلرز کی فہرست بنائی جائے تو ہیراتھ کے بعد لاستھ مالنگا کا نام آتا ہے جو 101 وکٹوں کے ساتھ گزشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ گئے تھے۔

36 سالہ ہیراتھ مرلی دھرن کے بعد واحد سری لنکن گیندباز ہیں جنہوں نے ایک ہی اننگز میں سب سے زيادہ 9 وکٹیں حاصل کیں۔ مرلی دھرن نے اپنے کیریئر میں دو مرتبہ اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کیں۔ پہلی بار اگست 1998ء میں انگلینڈ اور دوسری بار جنوری 2002ء میں زمبابوے کے خلاف۔

کولمبو ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز کے دوران ہیراتھ کے ہاتھ نہ لگنے والی واحد وکٹ احمد شہزاد کی تھی جو دلرووان پیریرا کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوئے تھے۔ باقی تمام 9 پاکستانی بیٹسمین، بمع کیریئر کی پہلی سنچری بنانے والے سرفراز احمد، ہیراتھ کی جادوئی باؤلنگ کے سامنے ڈھیر ہوئے۔

یوں ہیراتھ کے ایک اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں لینے کے کارناموں کی تعداد 20 ہوچکی ہے جبکہ تین بار انہوں نے میچ میں 10 یا زیادہ کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے والے رنگانا دوسری اننگز میں کیا کارنامہ دکھاتے ہیں۔

ویسے ٹیسٹ کرکٹ میں اننگز میں بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ انگلستان کے جم لیکر کے پاس ہے جنہوں نے جولائی 1956ء میں آسٹریلیا کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں صرف 53 رنز دے کر تمام 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ان کے علاوہ صرف بھارت کے انیل کمبلے ہی ایسے باؤلر ہیں جنہوں اننگز میں تمام 10 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انیل نے فروری 1999ء میں پاکستان کے خلاف دہلی میں 74 رنز دے کر 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ عبدالقادر کے پاس ہے جنہوں نے نومبر 1987ء میں انگلینڈ کے خلاف لاہور میں 56 رنز دے کر 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا جبکہ سرفراز نواز نے مارچ 1979ء میں آسٹریلیا کے ملبورن کے مقام پر 86 رنز دے کر 9 وکٹوں کی یادگار کارکردگی دکھائی تھی۔ یعنی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں صرف دو باؤلرز نے اننگز میں 10 اور 16 نے اننگز میں 9 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں، جس کی مکمل فہرست ذیل میں موجود ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں اننگز میں بہترین باؤلنگ کارکردگی

کھلاڑی ملک رنز وکٹیں بمقابلہ تاریخ بمقام
جم لیکر  انگلستان 53 10  آسٹریلیا مانچسٹر جولائی 1956ء
انیل کمبلے  بھارت 74 10  پاکستان دہلی فروری 1999ء
جارج لومین  انگلستان 28 9  جنوبی افریقہ جوہانسبرگ مارچھ 1896ء
جم لیکر  انگلستان 37 9  آسٹریلیا مانچسٹر جولائی 1956ء
مرلی دھرن  سری لنکا 51 9  زمبابوے کانڈی جنوری 2002ء
رچرڈ ہیڈلی  نیوزی لینڈ 52 9  آسٹریلیا برسبین نومبر 1985ء
عبدالقادر  پاکستان 56 9  انگلستان لاہور نومبر 1987ء
ڈیون میلکم  انگلستان 57 9  جنوبی افریقہ اوول اگست 1994ء
مرلی دھرن  سری لنکا 65 9  انگلستان اوول اگست 1998ء
جسوبھائی پٹیل  بھارت 69 9  آسٹریلیا کانپور دسمبر 1959ء
کپل دیو  بھارت 83 9  ویسٹ انڈیز احمد آباد نومبر 1983ء
سرفراز نواز  پاکستان 86 9  آسٹریلیا ملبورن مارچ 1979ء
جیک نوریگا  ویسٹ انڈیز 95 9  بھارت پورٹ آف اسپین مارچ 1971ء
سبھاش گپتا  بھارت 102 9  ویسٹ انڈیز کانپور دومبر 1958ء
سڈنی بارنیس انگلستان 103 9  جنوبی افریقہ جوہانسبرگ دسمبر 1913ء
ہیو ٹے فیلڈ  جنوبی افریقہ 113 9  انگلستان جوہانسبرگ فروری 1957ء
آرتھر میلے  آسٹریلیا 121 9  انگلستان میلبورن فروری 1921ء
رنگانا ہیراتھ  سری لنکا 127 9  پاکستان کولمبو اگست 2014ء

Facebook Comments