پاکستان کی شکستوں کا سلسلہ مزید دراز، کوچنگ عملے کا ”پرتپاک“ خیرمقدم

فروری 2012ء کے ابتدائی ایام میں دبئی کے میدان پر پاکستان پہلی اننگز میں 99 رنز پر ڈھیر ہوا لیکن اپنے اسپنرز اور دوسری اننگز میں بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت نہ صرف مقابلے میں واپس آیا بلکہ اُس وقت کے عالمی نمبر انگلستان کو 71 رنز سے شکست دے کر تاریخ میں پہلی بار انگلستان کے خلاف کسی سیریز کے تمام مقابلے جیت لیے۔ یہ اتنی بڑی فتح تھی کہ ماہرین نے اسے پاکستان کے لیے ایک روزہ کرکٹ میں عالمی کپ اور ٹی ٹوئنٹی میں عالمی چیمپئن بننے کی فتوحات کے برابر قرار دیا۔ سب کی رائے میں یہ پاکستان کرکٹ کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ لیکن اسرار کے پردوں میں ڈھکا مستقبل آخر کس کو نظر آ رہا تھا؟ ایک کے بعد ایک پردہ ہٹتا گیا اور ہر مرتبہ بد سے بدترین کارکردگی سامنے آتی چلی گئی۔ متحدہ عرب امارات کے صحراؤں میں انگلستان کے خلاف اس کامیابی کے بعد سے اب تک، اگست 2014ء تک، پاکستان کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکا، یہاں تک کے زمبابوے جیسے کمزور حریف کے خلاف بھی نہیں۔

دورۂ سری لنکا میں مزید ناکامیاں مصباح الحق کے کیریئر کا خاتمہ کرسکتی ہیں (تصویر: AFP)

دورۂ سری لنکا میں مزید ناکامیاں مصباح الحق کے کیریئر کا خاتمہ کرسکتی ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان 2012ء کے وسط میں تاریخی 'گرین واش' کے بعد اگلے امتحان کے لیے سری لنکا کے میدانوں پر پہنچا تھا ۔ جہاں پہلے مقابلے میں مصباح الحق کی عدم موجودگی میں اسے 209 رنز کی واضح اور فیصلہ کن شکست ہوئی۔ اگلے دونوں میچز میں مصباح الحق الیون بھرپور کوشش کے باوجود سری لنکا، اور امپائروں، کو زیر نہ کرسکی اور سیریز ایک-صفر سے میزبان کے نام ہوگئی۔ فروری 2013ء میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں اسی کے میدانوں تین-صفر کی بدترین شکست قومی ٹیم کے سیاہ کارناموں میں ایک تازہ اضافہ تھی۔ اس شکست نے حوصلوں کو اتنا پست کردیا کہ پاکستان اگست و ستمبر میں زمبابوے کے خلاف بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پایا۔ ہرارے میں کھیلے گئے سیریز دوسرے و آخری ٹیسٹ میں پاکستان نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن زمبابوے کو 24 رنز سے تاریخی فتح حاصل کرنے سے نہ روک سکا۔ یوں عالمی درجہ بندی میں انتہائی نچلے درجے کی ٹیم کے خلاف بھی سیریز نہ جیتی جاسکی۔

پھر اپنے 'ہوم گراؤنڈ' پر سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز برابر کھیل کر کچھ حوصلے مجتمع کیے ہی تھے کہ تازہ دورۂ سری لنکا ایک اور بھیانک خواب ثابت ہوا۔ گال میں پہلی اننگز میں 451 رنز بنانے کے بعد دوسری ایک سیشن میں مقابلہ گنوانے کے بعد پاکستان نے اس روایت کو کولمبو میں ہونے والے دوسرے و آخری ٹیسٹ میں بھی برقرار رکھا جہاں پہلے روز تیز گیندبازوں نے 261 رنز پر سری لنکا کی 8 وکٹیں گراکر پاکستان کو مقابلے کی پوزیشن پر پہنچا دیا اور بعد ازاں سرفراز احمد کی سنچری نے پاکستان کو پہلی اننگز میں برتری بھی دلا دی لیکن یہاں پھر ایک سیشن کی بدترین بیٹنگ نے میچ اور سیریز سری لنکا کی جھولی میں ڈال دی۔ 127 رنز پر 7 وکٹوں کے نقصان کے ساتھ پانچویں دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو محض خانہ پری تھی۔ صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ پاکستان کو شکست کتنے مارجن سے ہوتی ہے؟

یہ نئے کوچنگ عملے کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے 21 توپوں کی سلامی تھی۔ وقار یونس جیسے باؤلر کی زیر تربیت گیندباز نہ چل سکے، مشتاق احمد سے اسپن کے گر سیکھنے والے اسپنرز گویا گیند گھمانا بھول گئے، گرانٹ فلاور کے بلے بازوں کے تو خیر کیا کہنے؟

اگر پاکستان نے ایک اور سیریز میں ایسی کارکردگی دکھائی تو کھلاڑیوں کو ٹیم میں 'انقلابی' تبدیلیوں کے لیے تیار ہوجانا چاہیے کیونکہ نئے چیئرمین کی زیر نگرانی ایسی کارکردگی نہیں چلے گی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف آنے والی سیریز میں شکست شاید مصباح الحق کے قائدانہ عہد کا بھی خاتمہ کردے۔ مصباح پر سے تو اب نجم سیٹھی کا دست شفقت بھی اٹھ چکا ہے اس لیے انہیں اب پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر سری لنکا کے خلاف آنے والی ون ڈے سیریز لازمی جیتنے کی۔ پھر ان کے پاس موقع ہوگا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اچھی کارکردگی کے ذریعے عالمی درجہ بندی میں سری لنکا کے ہاتھوں کھوئی ہوئی تیسری پوزیشن حاصل کریں۔

Facebook Comments