میں نجم سیٹھی کا مداح ہوں!!

’’35 پنکچروں‘‘ کے الزام میں کس قدر سچائی ہے اس کی بابت میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا لیکن جس مہارت سے نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کو ٹھوکر مار کر قومی کرکٹ کے معاملات اور تمام فیصلوں کا اختیار اپنے قبضے میں کیا ہے، اس کے بعد میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگئی ہے کہ نجم سیٹھی قومی انتخابات میں دھاندلی کروانے کے الزامات بھی اپنے سر لے لیں کیونکہ ’’مہارت‘‘ اور ’’حکمت عملی‘‘ میں اُن کا کوئی ثانی نہیں دکھائی دیتا۔ انہی ’’خوبیوں‘‘ کی بنا ء پر میں نجم سیٹھی کا مداح ہوگیا ہوں اور میں ماضی میں کئی گئی اپنی تمام تر تنقید واپس لیتا ہوں جس سے ممکنہ طور پر سیٹھی صاحب کی دل آزاری ہوئی ہوگی۔ اس لیے میں ان تمام اصحاب سے بھی معذرت خواہ ہوں جو گزشتہ ایک برس سے نجم سیٹھی کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔

آپ نجم سیٹھی سے لاکھ اختلاف کریں لیکن آپ کو کہنہ مشق صحافی کی حکمت عملی اور مہارت کی داد دینا ہوگی کہ وہ کس طرح ہر شعبے میں اپنی راہ ہموار کرلیتے ہیں۔مئی 2013ء میں پنجاب کے نگران وزیر اعلی ٰ کی حیثیت سے قومی انتخابات کی ’’نگرانی‘‘ کرنے کے بعد نجم سیٹھی نے حکومت وقت کی ’’درخواست پر ’’بے دلی‘‘ کے ساتھ پاکستان کرکٹ کے معاملات درست کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔پی سی بی کے ایوانوں میں قدم رکھتے وقت نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف اسکول کالج کی سطح پر کرکٹ کھیلی ہے اور وہ اس کھیل کے بارے میں زیادہ جانتے نہیں ہیں اس لیے وہ جلد از جلد چیئرمین پی سی بی کے الیکشن کرواکر واپس لوٹ جائیں گے ۔نجم سیٹھی کی نیت پر شک نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ موصوف حقیقت میں ایسا ہی کرنا چاہتے تھے مگر یہ پی سی بی کے ہیڈکوارٹر کے درودیوار میں کچھ ایسی کشش ہے جنہوں نے ایک سال تک نجم سیٹھی کو پی سی بی کے ایوانوں کا اسیر بنائے رکھا اور جب بھی عدالتی حکم نامے نے انہیں پی سی بی سے دور کرنے کی کوشش کی تو حکومتی مداخلت اور نجم سیٹھی کی کرکٹ سے محبت انہیں دوبارہ چیئرمین کی کرسی پر بٹھانے میں کامیاب ہوگئی ۔

اس میں نجم سیٹھی کا قطعاً کوئی قصور نہیں ہے کہ انہیں متعدد بار پی سی بی کے ایوانوں میں واپس بلایا گیا کیونکہ حکومت وقت کے نزدیک پاکستان کرکٹ کے امور چلانے کے لیے نجم سیٹھی سے بہتر شخص کوئی اور نہیں تھا۔نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ کے معاملات سے اس قدر بیزار تھے کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی میں ’’بگ تھری‘‘ کے ہم پلہ کھڑا کرتے ہوئے ’’بگ فور‘‘ کا درجہ دلوایا،بھارت کے ساتھ کئی سیریزوں کے معاہدے کیے، دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ، پاکستان کرکٹ کو عالمی تنہائی سے بچایا اور یہ سب کارنامے انجام دینے کے باوجود نجم سیٹھی نے پی سی بی کی سربراہی کو ٹھوکر مارتے ہوئے یہ عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:  90ء کی فٹنس سے موجودہ دور میں کامیابی کی اُمید؟؟

ماضی میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ چیئرمین نے سازگار حالات کے باوجود خود ہی اپنی کرسی چھوڑ دی ہو مگر نجم سیٹھی نے ایسا کرکے نئی روایت ڈالی جس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مہارت کا استعمال کمال خوبی سے کرتے ہوئے اپنے ایک ’’پیادے‘‘ کو شاہ کا لبادہ پہنا کر خود کو مزید تگڑا کرلیا ہے ۔ اب نجم سیٹھی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے 80سالہ شہریار خان کی ڈوریاں ہلائیں جو محض ایک کٹھ پتلی کا کردار اداکرتے ہوئے سیٹھی صاحب کے فیصلوں پر مہر ثبت کیا کریں گے جبکہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا سر بھی نجم سیٹھی کے سامنے خم ہی رہے گا۔ کیا یہ حکمت عملی کی سب سے عمدہ مثال نہیں ہے جس نے نجم سیٹھی کو گورننگ بورڈ کا رکن ہونے کے باوجود پی سی بی کے سربراہ سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔

اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مجھے نجم سیٹھی کی بصیرت، عقلمندی اور حکمت عملی کا قائل ہوجانا چاہیے جنہوں نے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ کر بھی پاکستان کرکٹ کے معاملات اپنی مٹھی میں قید کرلیے ہیں۔ ایسے شخص کو تنقید کا نشانہ بنانا بالکل غلط ہے کیونکہ پاکستان کرکٹ کو بچانے کا فریضہ صرف نجم سیٹھی ہی انجام دے سکتے ہیں جس پر حکومت کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے اور گورننگ بورڈ کے اراکین بھی ہونٹ سی کر بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ان حالات میں مجھے بھی تنقید کا کوئی حق نہیں پہنچتا اس لیے آج سے میں بھی نجم سیٹھی کا مداح ہوں!!

Facebook Comments