پاکستان: ایک اور فیصلہ کن مقابلہ، ایک اور بدترین شکست

پاکستان نے اپنی طویل روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سیریز کے فیصلہ کن مقابلے میں منہ کی کھائی اور یوں سری لنکا سے ناکام و نامراد لوٹ آیا۔ ایک روزہ سیریز کے تیسرے و فیصلہ کن مقابلے میں جتنی بری کارکردگی کی توقع کی جاسکتی تھی، پاکستانی بلے بازوں نے اس سے بھی بد تر مظاہرہ کیا اور پوری ٹیم صرف 102 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

سری لنکا کے لیے آج خوشی کا دن تھا، عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان سے سیریز جیتنا بہت اہم تھا (تصویر: AFP)

سری لنکا کے لیے آج خوشی کا دن تھا، عالمی کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان سے سیریز جیتنا بہت اہم تھا (تصویر: AFP)

سری لنکا نے ٹیسٹ مرحلے میں جامع کارکردگی کا مظاہرہ کرکے فیصلہ کن مراحل پر مقابلے پر گرفت قائم کی اور دونوں مرتبہ پاکستان پر غالب آیا۔ اسی طرح ایک روزہ سیریز میں اگر پہلے ون ڈے میں صہیب مقصود اور فواد عالم کی غیر معمولی اننگز کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پاکستان کی تیاریوں کی قلعی کھل جاتی ہے۔

پہلے ایک روزہ میں 105 رنز پر آدھے کھلاڑیوں سے محروم ہوجانا خطرے کی علامت تھی، لیکن جیت نے اس خامی کو چھپا دیا۔ لیکن اگلے دونوں مقابلوں میں یہ کمزور کھل کر سامنے آ گئی۔ یہاں تک کہ فیصلہ کن مقابلے میں پاکستان کی داستان 102 رنز پر ہی مکمل ہوگئی۔

ابتدائی دونوں مقابلوں میں ، بادل نخواستہ، ہدف کے تعاقب کے بعد اب پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور سعید اجمل کی واپسی سے تحریک پاکر ایک اچھا مجموعہ سجانے کا خواب سجایا لیکن آغاز ہی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستانی بلے بازوں کے ہاتھ پیر پھولے ہوئےہیں۔ ابتدائی 5 اوورز میں ایک وکٹ گنوانے کے ساتھ صرف 6 رنز بنانا اس خوف و ظاہر کررہا تھا جو پاکستان کے بیٹسمینوں پر طاری تھا۔ شرجیل خان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے اور کم رنز کے دباؤ تلے موجود احمد شہزاد اور محمد حفیظ بھی کچھ ہی دیر میں منہ لٹکائے میدان سے واپس آتے دکھائی دیے۔ صرف 14 رنز پر تین سرفہرست بلے باز گنوانے کے بعد آثار اچھے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ مصباح الحق اور فواد عالم نے 33 رنز کا اضافہ کرکے ٹیم کے اوسان بحال کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ تلکارتنے دلشان کے براہ راست تھرو نے مصباح الحق کو رن آؤٹ کرکے پاکستان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔

اس کے بعد ٹیم کا حال بغیر چرواہے کے ریوڑ جیسا ہوگیا۔ ایک اینڈ سے فواد عالم "ڈٹے" رہے، لیکن باقی دوسرا اینڈ تھیسارا پیریرا کے رحم و کرم پر تھا۔ انتہائی "باصلاحیت" عمر اکمل ایک اور ناکامی کا طوق گلے میں لٹکا کر صرف 7 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ جب پاکستان کو ان کی موجودگی کی سخت ضرورت تھی تو وہ ایک گیند پر چھکا لگانے کے بعد اگلی گیند پر اس کو دہرانے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر کیچ دے گئے۔ صہیب مقصود نے ایک کارکردگی کے بعد اب اپنی "نظر" اتارنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وہ بھی 7 رنز سے آگے نہ بڑھے گو کہ جس گیند پر وہ آؤٹ ہوئے، ایک بہت خوبصورت گیندتھی۔ "عظیم" شاہد آفریدی دو رنز جبکہ آخری تین بلے باز وہاب ریاض، سعید اجمل اور محمد عرفان بالترتیب صفر، 6 اور 5رنز بنانے کے بعد ڈریسنگ روم کی زینت بنے۔ یوں پوری ٹیم صرف 32.1 اوورز میں 102 رنزپرڈھیر ہوگئی۔ محمد عرفان اور فواد عالم کی آخری وکٹ پر 14 رنز کی شراکت داری نے تہرے ہندسے تک پہنچانے میں مدد دی، ورنہ 100 رنز بھی دور کی منزل دکھائی دیتے تھے۔ فواد عالم 73 گیندوں پر 38 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

سری لنکا کی جانب سے تھیسارا پیریرا نے 34 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو کھلاڑیوں کو دھمیکا پرساد اور ایک، ایک کو لاستھ مالنگا، رنگانا ہیراتھ اور سیکوگے پرسنا نے آؤٹ کیا۔

بارش سے متاثرہ مقابلے میں 48 اوورز میں 101 رنز کا ہدف سری لنکا کے لیے ایسا تھا کہ شاید ان کے بلے باز آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھی حاصل کرلیتے۔ پھر بھی انہوں نے تین وکٹیں گنوائیں۔ البتہ پاکستان کو پہلی وکٹ اس وقت ملی جب اوپنرز اوپل تھارنگا اور تلکارتنے دلشان 46 رنز جوڑ چکے تھے۔ تھارنگا کے بعد سنگاکارا نے ایک اور ناکامی کا منہ دیکھا اور صرف دو رنز بنانے کے بعد وہاب ریاض کی واحد وکٹ بنے جبکہ آخری وکٹ پاکستان نے مہیلا جے وردھنے کی صورت میں حاصل کی جو اس وقت آؤٹ ہوئے جب سری لنکا کو صرف ایک رن کی ضرورت تھی۔ تلکارتنے دلشان 50 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جس کے لیے انہوں نے 55 گیندیں کھیلیں اور 9 مرتبہ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی۔ مہیلا نے 32 گیندوں پر 26 رنز بنائے۔

تھیسارا پیریرا کو شاندار کارکردگی پر میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

یوں پاکستان کے لیے دورۂ سری لنکا بدترین ناکامی کے ساتھ مکمل ہوا۔ ایک ایسا دورہ جسے عالمی کپ کی تیاری میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا تھا، دونوں طرز کی کرکٹ میں ناکامیوں پر منتج ہوا۔ ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ اور ایک روزہ میں دو-ایک سے ہارنے کے بعد اب پاکستان کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف اگلی سیریز کے لیے تیاری کرے اور شاید ٹیم انتظامیہ کو چند بہت سخت فیصلے لینا پڑیں۔

Facebook Comments