کچرے کا ڈھیر!!

دمبولا میں توسری لنکن باؤلرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کا ’’دم‘‘ہی نکال دیا جس کے سرفہرست بلے باز ذرا سی اچھال والی وکٹ پر سری لنکا کے تیزباؤلرز کے سامنے کانپتے ہوئے میدان میں اترے اور ہانپتے ہوئے واپس آ گئے۔ دورۂ سری لنکا نے خالی ہاتھ لوٹنے والے دستے کو پورے دورے میں صرف ایک میچ میں کامیابی ملی، جس کا’’ذمہ دار‘‘ بھی ساتویں نمبر کا ایک بیٹسمین تھا!کوئی ایک بلے باز بھی سنچری نہ بناسکا مگر پھر بھی دمبولا میں پوری ٹیم نے سنچری ضرور بنائی۔

جتنی تیزی سے ورلڈ کپ قریب آرہا ہے، اس سے بھی زیادہ تیزی سے پاکستان ناکامیوں کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے (تصویر: AFP)

جتنی تیزی سے ورلڈ کپ قریب آرہا ہے، اس سے بھی زیادہ تیزی سے پاکستان ناکامیوں کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے (تصویر: AFP)

شاید قارئین کو اس تحریر میں حد درجہ تلخی محسوس ہو کیونکہ جس طرح پاکستان مسلسل بغیر مقابلہ کیا ہتھیار ڈال رہا ہے اس کے بعد کم از کم مجھ سےکسی ’’شیرینی‘‘ کی توقع نہ کی جائے۔ ورلڈ کپ کا وقت جتنی جلدی سے قریب آرہا ہے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ پاکستانی ٹیم ناکامیوں کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے۔ نتائج اس وقت بہت زیادہ معنی نہیں رکھتے، جب ٹیم آخری گیند تک مقابلہ کی اہلیت ظاہر کرے لیکن جب مقابلہ کیے بغیر ہی ہتھیار ڈال دے تو پھر ایسی ٹیم کے لتے لینا ’’واجب‘‘ ہوجاتا ہے۔

دمبولا میں ہارنے والی ’’dumb‘‘ ٹیم کی بربادیوں کا تذکرہ کہاں سے شروع کیا جائے، یا تباہی کی اس داستان کا آغاز کیسے کیا جائے؟ چند ماہ پہلے اسی ٹیم نے شارجہ ٹیسٹ میں یادگار کامیابی حاصل کرکے اپنی کلاس ثابت کردی تھی اور وہ جیت محض جیت نہیں تھی بلکہ اس میچ میں ٹیم ورک ، جیت کا جذبہ اور کچھ پانے کا عزم دکھائی دیا مگر اس کے بعد چاہے ایشیا کپ ہو، ورلڈ ٹی20یا سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز...پاکستانی ٹیم کہیں بھی جیت کے لیے لڑتی ہوئی دکھائی نہیں دی بلکہ ایشیا کپ کے فائنل، ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ ٹی20کے میچ اور سری لنکا کے خلاف پوری ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں پاکستانی ٹیم نے نہایت آسانی کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے ۔اس عرصے میں جو گنتی کی کامیابیاں ملیں وہ محض کسی ایک کھلاڑی کا ہی کارنامہ تھا۔

شارجہ ٹیسٹ کی جیت اور دمبولا کے ون ڈے کی شکست کے دوران پاکستانی ٹیم میں زیادہ تبدیلیاں دیکھنے کو نہیں ملیں مگر کوچز ضرور تبدیل ہوئے۔میں یہاں کسی طور پر بھی پاکستان کے سابق کوچ ڈیو واٹمور کی حمایت نہیں کررہا، جنہوں نے اپنے دور کا خاتمہ شارجہ کی تاریخی کامیابی کے ساتھ کیا مگر مجموعی طور پر 275ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھنے والے تین کوچز اور ٹیم مینیجر کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم کیوں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ؟ نہایت طمطراق کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے ساتھ منسلک ہونے والے کوچز کیا ان شکستوں پر جواب دہ نہیں ہیں؟ جنہیں بھاری معاوضوں کے ساتھ بڑے بڑے عہدے دیتے ہوئے قوم کو یہ یقین دلانے کی بھی کوشش کی گئی تھی کہ انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تر تجربہ رکھنے والے یہ سابق پاکستانی کھلاڑی قومی ٹیم کی کایا پلٹ دیں گے؟

اس سیریز میں پاکستانی ٹیم کی طرف سے سرے سے کوئی حکمت عملی دکھائی ہی نہیں دی اور پوری ٹیم ایک بے نتھے کا بیل دکھائی دی جسے سنبھالنے والا شاید کوئی بھی نہیں تھا۔ سعید اجمل کی عدم موجودگی نے پاکستان کی ’’غیر معمولی‘‘ باؤلنگ کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا جبکہ بیٹنگ آرڈر کو ’’اُلٹی گنتی‘‘ کی مثال قرار دیا جاسکتا ہے جہاں سب سے عمدہ کارکردگی دکھانے والے دو بیٹسمینوں کو چھٹے اور ساتویں نمبر پر کھلایا گیا جبکہ بدترین کارکردگی کے حامل بیٹسمین ابتدائی نمبروں پر سری لنکن باؤلرز کے ہاتھوں رسوا ہوتے رہے۔

میں مصباح الحق کی کپتانی کو ہمیشہ سپورٹ کرتا رہا ہوں جس نے گزشتہ برس بطور بیٹسمین سب سے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو بچانے کی کوشش کی مگر رواں سال مصباح کی خراب فارم پاکستانی ٹیم کی ناکامیوں کا سبب بن گئی جبکہ ’’باصلاحیت نوجوان‘‘ بیٹسمین شاید ابھی ’’سن بلوغت‘‘تک پہنچنے کا انتظار کررہے ہیں جس کے بعد وہ یقیناً پاکستانی ٹیم کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ ٹیم وہی ہے جو ماضی میں فتوحات سمیٹتی رہی ہے ،کوچز تجربے سے مالامال ہیں مگر اس کے باوجود ناکامیوں کا سبب کیا ہے ؟اور کیا ایسی کارکردگی کے ساتھ پاکستانی ٹیم سے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی توقع رکھی جاسکتی ہے جو ’’کچرے کا ڈھیر‘‘بن چکی ہے!

خیر یہ تحریر ختم کرنے سے پہلے آپ کو ایک خبر سنا دوں کہ سابق کپتان شعیب ملک نے ورلڈ کپ کے لیے ایک اور سابق کپتان شاہد آفریدی کو کپتان بنانے کی ’’تجویز‘‘ پیش کردی ہے!!

Facebook Comments