آسٹریلیا کو 31 سال بعد زمبابوے کے ہاتھوں شکست

زمبابوے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ اگر اسے بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کے مستقل مواقع دیے جائیں تو وہ بہتر نتائج نکال سکتا ہے کیونکہ سہ فریقی سیریز کے چوتھے مقابلے میں اس نے عالمی نمبر ایک آسٹریلیا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں 31 سال بعد زمبابوے کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی جیت ہے۔ زمبابوے کے لیے یہ نتیجہ بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ میچ میں عمدہ باؤلنگ کے باوجود فتح حاصل نہیں کر پایا تھا لیکن آج کپتان ایلٹن چگمبورا کے شاندار 52 رنز اور آٹھویں وکٹ پر پراسپر اتسیا کے ساتھ 55 رنز کی ناقابل شکست رفاقت نے نتیجہ زمبابوے کے حق میں جھکایا۔

کپتان چگمبورا نے 68 گیندوں پر 52 ناقابل شکست رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: AFP)

کپتان چگمبورا نے 68 گیندوں پر 52 ناقابل شکست رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: AFP)

جون 1983ء میں ناٹنگھم میں آسٹریلیا کو 13 رنز کی تاریخی شکست دی تھی۔ یہ عالمی کپ کا مقابلہ تو تھا ہی بلکہ تاریخ کا پہلا آسٹریلیا-زمبابوے ون ڈے بھی تھا۔ اس کے بعد سے اب تک زمبابوے کبھی آسٹریلیا کو شکست نہیں دے سکا تھا یہاں تک کہ آج ہرارے میں تاریخ رقم کی گئی۔

ہرارے میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا آج بھرپور قوت کے ساتھ کھیلا یہاں تک کہ کپتان مائیکل کلارک تک مکمل صحت یاب نہ ہونے کے باوجود قیادت کے لیے میدان میں موجود تھے۔ انہوں نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن اس کے بعد سوائے زخمی کپتان اور وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کے کوئی بلے باز زمبابوے کی اسپن باؤلنگ کے سامنے وہ کارکردگی پیش نہ کرسکا، جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں۔ ابھی سیریز کے افتتاحی مقابلے میں انہی بلے بازوں نے اسی میدان پر زمبابوے کے گیندبازوں سے 350 رنز لوٹے تھے۔ لیکن آج داستان بالکل مختلف دکھائی دی۔ صرف 11 رنز پر شعلہ فشاں آرون فنچ کی وکٹ گری جبکہ 100 رنز سے پہلے پہلے فلپ ہیوز، جارج بیلی، گلین میکس ویل اور مچل مارش ڈریسنگ روم میں بیٹھے ناخن چباتے دکھائی د۔ے 97 رنز پر آدھی ٹیم سے محرومی کے بعد آسٹریلیا کے لیے خطرے کی حقیقی گھنٹی اس وقت بجی جب کلارک-ہیڈن کی نصف سنچری رفاقت کپتان کے زخمی ہونے کی وجہ سے مزید آگے نہ بڑھ پائی اور اگلے دونوں اوورز میں آل راؤنڈر جیمز فاکنر اور مچل اسٹارک بھی وکٹیں تھما کر چلتے بنے یعنی 150 رنز، سات آؤٹ اور کپتان زخمی۔ اس مرحلے پر بین کٹنگ اور بریڈ ہیڈن کی 51 رنز کی شراکت داری نے آسٹریلیا کی اکھڑتی ہوئی سانسوں کو بحال کیا۔ کٹنگ نے 22 گیندوں پر 26 رنز کی بہت اچھی اننگز کھیلی، یہاں تک کہ پچاسویں و آخری اوور میں کٹنگ کے ساتھ ساتھ 49 رنز بنانے والے ہیڈن بھی آؤٹ ہوگئے۔ کپتان مائیکل کلارک آخری دو گیندیں کھیلنے کے لیے آئے اور پھر 68 ناقابل شکست رنز کے ساتھ میدان سے واپس آئے۔ شاید یہ باری اس لیے فیصلہ کن ثابت نہیں ہوئی کیونکہ یہ 102 گیندوں پر صرف دو چوکوں کی مدد سے کھیلی گئی تھی۔ 209 رنز کا مجموعہ ہرگز آسٹریلیا کے شایان شان نہیں تھا۔ جنوبی افریقہ کے عالمی معیار کے باؤلنگ اٹیک کے خلاف 327 رنز جوڑنے والے بلے بازوں کو زمبابوے جیسے کمزور حریف کے سامنے بمشکل 200 رنز کا ہندسہ عبور کرتے دیکھا گیا۔ ویسے اس مقام تک پہنچنے میں بھی زمبابوے کے فیلڈرز کی سخاوت شامل تھی کہ جنہوں نے خاص طور پر بریڈ ہیڈن کو کئی نئی زندگیاں عطا کیں۔ اگر زمبابوے کی یہ نااہلی نہ ہوتی تو آسٹریلیا کا کیا حال ہوتا، اس کا تصور کرنا مشکل نہیں ہے۔

صرف 210 رنز کے تعاقب میں زمبابوے کے لیے سب سے ضروری یہ تھا کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ مقابلے کی غلطیاں نہ دہرائے کہ جہاں پراسپر اتسیا کی ہیٹ ٹرک اور پروٹیز کو محض 231 رنز تک محدود کرنے کے باوجود اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ پہلی وکٹ پر ٹینو ماوویو اور سکندر رضا کی جانب سے دیے گئے 42 رنز کے آغاز نے اچھی بنیاد فراہم کی اور دونوں کے ناتھن لیون کے ہاتھوں پے در پے اوورز میں آؤٹ ہوجانے کے بعد تجربہ کار ہملٹن ماسکازا اور برینڈن ٹیلر کے 56 رنز نے اسکور کو تہرے ہندسے تک پہنچادیا ۔ مقابلہ واضح طور پر زمبابوے کے حق میں جھکا ہوا تھا کہ جسے 8 وکٹوں کے ساتھ صرف 110 رنز کی ضروت تھی لیکن ماساکازا مچل اسٹارک کے ہاتھوں بولڈ ہوئے اور اس کے فوراً بعد مسلسل دو اوورز میں ناتھن لیون نے ٹیلر اور شاں ولیمز کو آؤٹ کردیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ زمبابوے پر کاری ضرب لگ چکی ہے۔ صر ف 6 رنز کے اضافے سے اس کی تین قیمتی وکٹیں گرچکی تھیں اور اسکور بورڈ 106 رنز پانچ آؤٹ کا ہندسہ دکھا رہا تھا۔ مزید دو وکٹوں کے نقصان پر زمبابوے کو 50 رنز تو مل گئے لیکن جیت اب بھی 54 رنز کے فاصلے پر کھڑی تھی اور اس فاصلے کو پورا کرنے کے لیے زمبابوے کے پاس صرف تین وکٹیں تھیں۔ یہاں ایلٹن چگمبورا اور پراسپر اتسیا نے میچ کا سب سے مشکل مرحلہ عبور کیا۔ دونوں نے آٹھویں وکٹ پر 58 گیندوں پر 55 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم کی اور یوں تین دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد زمبابوے کو آسٹریلیا کے خلاف کسی ون ڈے میں پہلی کامیابی عطا کی۔ میچ کا فیصلہ پراسپر اتسیا کے مچل اسٹارک کو لگائے گئے ایک شاندار چھکے کے ساتھ ہوا۔ جس کے بعد میدان میں زبردست جشن منایا گیا۔

آسٹریلیا کی جانب سے ناتھن لیون نے 44 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن ان کے کیریئر کی بہترین باؤلنگ بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ بچا سکی۔

ایلٹن چگمبورا کو 52 رنز کی ناقابل شکست و فاتحانہ اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

Facebook Comments