عالمی کپ سے پہلے سخت حالات کا سامنا ہے: انگلش کوچ کا اعتراف

گھریلو میدانوں پر مسلسل تین سیریز شکستوں کے بعد اب انگلستان چوتھی سیریز شکست کے دہانے پر کھڑا ہے اور انگلش کوچ پیٹر مورس تسلیم کرتے ہیں کہ عالمی کپ کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے اب انہیں سخت حالات کا سامنا ہے۔

انگلستان گھریلو میدانوں پر مسلسل چوتھی ایک روزہ سیریز میں شکست کھانے کے قریب ہے (تصویر: Getty Images)

انگلستان گھریلو میدانوں پر مسلسل چوتھی ایک روزہ سیریز میں شکست کھانے کے قریب ہے (تصویر: Getty Images)

بابائے کرکٹ انگلستان تاریخ میں کبھی کوئی عالمی کپ نہیں جیت سکا بلکہ 1992ء میں فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد سے اب تک تو کبھی سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچا۔ اب جبکہ ورلڈ کپ 2015ء صرف چھ ماہ کے فاصلے پر رہ گیا ہے، ایک روزہ کرکٹ میں انگلستان کا دامن شکستوں میں الجھ چکا ہے۔ گزشتہ سال نیوزی لینڈ کے ہاتھوں دو-ایک سے ہارنے کے بعد انگلستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں اسی فرق سے شکست ہوئی اور حال ہی میں سری لنکا نے پانچ ون ڈے مقابلوں کی سیریز میں تین-دو سے شکست دی۔ اب انگلستان اس بھارت سے بھی ہار کھانے کے قریب ہے، جسے اس نے ٹیسٹ سیریز میں بری طرح پچھاڑ دیا تھا لیکن ایک روزہ میں اس وقت مہمان کو دو-صفر کی ناقابل شکست برتری حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کوچ پیٹر مورس سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں معاملات کو بہت جلدی نمٹانا ہوگا اور ٹیم کو تیزی سے آگے کی جانب بڑھانا ہوگا تاکہ خود کو عالمی کپ کے لیے تیار کرسکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے انگلستان کے سابق اسپن گیندباز گریم سوان نے کہا تھا کہ انگلستان کے عالمی کپ جیتنے کے امکانات صفر ہیں۔ جس پر خاصی ناک بھوں بھی چڑھائی گئی لیکن حقیقت یہی ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے انگلستان کے عالمی کپ جیتنے کا کوئی خاص امکان نظر نہیں آتا۔ بہرحال، عالمی کپ سے پہلے تو انگلستان کی نظریں کچھ دیر بعد برمنگھم میں شروع ہونے والے مقابلے پر ہوں گے جہاں بھارت کے ہاتھوں شکست کی صورت میں وہ ایک اور سیریز سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور پیٹر مورس ہرگز نہیں چاہیں گے کہ اس شکست کے ساتھ حوصلے مزید پست ہوں۔

Facebook Comments