کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل ہے؟

2009ء کے آغاز میں پاکستانی ٹیم لاہور کے ون ڈے میں سری لنکا کے خلاف محض75رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی اور یہی میچ شعیب ملک کی کپتانی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ اب دمبولا میں 102کا ہندسہ مصباح کو کپتانی سے برطرف کرنے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ فیصلہ کن مقابلے غیر ذمہ دارانہ کارکردگی پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں۔

کپتانی کی ’’خواہش‘‘ رکھنے کھلاڑی مصباح کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کریں (تصویر: AFP)

کپتانی کی ’’خواہش‘‘ رکھنے کھلاڑی مصباح کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کریں (تصویر: AFP)

دورۂ سری لنکا میں شکست کے بعد مصباح الحق کو تبدیل کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس میں ایسی کوئی حیرت کی بات بھی نہیں۔ مصباح الحق صرف اور صرف اپنی عمدہ پرفارمنس اور ٹیم کی ملی جلی کارکردگی کے بل بوتے پر اپنی کپتانی بچاتا آ رہا تھا ورنہ بہت بڑا حلقہ مصباح الحق کی قیادت کو دیکھنے کا روادار ہی نہیں۔ اب ان لوگوں کو موقع مل گیا ہے کہ پورے زور و شور کے ساتھ مصباح الحق کو برطرف کرنے کی مہم چلائی۔ ویسے پاکستان اس وقت ٹی ٹوئنٹی کپتان سے محروم ہے اور اسے اگلے مہینے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی ٹوئںٹی مقابلہ کھیلنا ہے، اس لیے انہیں اپنا دھیان ٹی ٹوئنٹی کپتان تجویز کرنے پر رکھنا چاہیے۔

مصباح الحق کے سب سے بڑے ناقد سابق کپتان محمد یوسف نے حسب سابق مصباح کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے مگر ساتھ ہی ان کے منہ سے یہ بات بھی نکل گئی کہ کھلاڑیوں کے مزاج کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو صرف شاہد آفریدی کرسکتے ہیں۔ یعنی اصل مسئلہ کپتان کی تبدیلی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے مزاج کی تبدیلی ہے جنہیں کوچنگ عملہ جیت کی طرف لے جانے میں ناکام رہا ہے۔ حال ہی میں بھارت بھی ایسی ہی مشکلات سے دوچار رہا ہے۔ انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست کے بعد جیسے ہی روی شاستری کو ایک روزہ سیریز کے لیے ذمہ داری سونپی گئی انہوں نے بھارتی ٹیم میں نئی جان ڈال دی ہے۔ ان کی بھاری بھرکم شخصیت، کھیلنے کا تجربہ اور حوصلہ افزائی کے چند الفاظ نے بھارتی کھلاڑیوں کو وہ اعتماد دیا ہے جو ٹیسٹ سیریز کی شکست کے ایک روزہ سیریز میں واپس آنے کے لیے اہم ثابت ہوا اور پھر بھارت نے تینوں مقابلوں میں انگلستان کو شکست دے ڈالی۔ وقار یونس بھی روی شاستری سے کسی طرح کم نہیں مگر پاکستانی ٹیم میں نئی روح پھونکنے میں ناکام رہے۔ مصباح الحق نے ناکامیوں کی تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے کر کوچنگ عملے کی کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ 275 ٹیسٹ مقابلوں کا مجموعی تجربہ رکھنے والا تین کوچز اور مینیجر رکھنے والا عملہ گرین شرٹس کو جیت کی راہ پر لانے میں ناکام رہا ہے۔

پھر یہ امر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر مرتبہ عالمی کپ سےپہلے کپتان تبدیل کرنے کی مہم چلانا آخر کیوں ضروری ہوتا ہے؟ پاکستان اس وقت اور بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے جن کا خاتمہ تجربہ کار کوچز اور ٹیم انتظامیہ کا کام ہے مگر ان تمام خامیوں اور مسائل پر توجہ دینے کے لیے بجائے کپتانی کے مسئلے کو اٹھا کر ٹیم کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب وقت نکل چکا ہے کیونکہ عالمی کپ سے صرف چند ماہ قبل کپتان کی تبدیلی ایسا جوا ہے جس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے بلکہ قوی امکان یہی ہے کہ ایسے فیصلے سے ٹیم میں گروپ بندی کو ہوا ملے گی۔ اگر مصباح کی ذاتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنا کر کپتان کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو پھر موجودہ وقت میں کسی دوسرے کھلاڑی کی کارکردگی بھی ایسی نہیں ہے جو خود کو اپنی ذاتی کارکردگی کی بنیاد پر قیادت کا اہل ثآبت کرسکے۔

کپتانی کی ’’خواہش‘‘ رکھنے والے سینئر کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ مصباح کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کریں کیونکہ عالمی کپ کی کامیابی ہی انہیں شایان شان انداز میں رخصت کرسکتی ہے ورنہ وہ 2003ء ورلڈ کپ کے ’’سپر اسٹارز‘‘ سے ہرگز بھی بڑے کھلاڑی نہیں ہیں جنہیں مایوس کن انداز میں کرکٹ کو خیرباد کہنا پڑا تھا۔

Facebook Comments