سعید اجمل پر پابندی، پاکستان کا اپیل کرنے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کی باؤلنگ پر عائد پابندی کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں کامیابی کی صورت میں سعید اجمل بین الاقوامی کرکٹ میں فوری واپسی آ سکتے ہیں بصورت دیگر ان پر ایک سال کی مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

ایک حادثے کی وجہ سے سعید اجمل کے بازو میں قدرتی خم ہے، پاکستان پچھلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی اسی دلیل کو استعمال کرے گا (تصویر: AP)

ایک حادثے کی وجہ سے سعید اجمل کے بازو میں قدرتی خم ہے، پاکستان پچھلی بار کی طرح اس مرتبہ بھی اسی دلیل کو استعمال کرے گا (تصویر: AP)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کر غیر قانونی پانے کے بعد ان کی باؤلںگ پر پابندی عائد کردی ہے البتہ وہ کسی بھی وقت اپنے باؤلںگ ایکشن کو بہتر بنا کر آئی سی سی سے خود کو کلیئر کروا سکتے ہیں لیکن پاکستان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے کیونکہ عالمی کپ کے آغاز میں صرف چھ ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے اور اہم ترین ٹورنامنٹ میں اپنے نمبر ایک باؤلر کے عدم موجودگی پاکستان کے امکانات کو زبردست ٹھیس پہنچائے گی۔

چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا ہے کہ ہمارے ماہرین کے مطابق سعید کی 'دوسرا' گیند پر تو شک کیا جا سکتا تھا لیکن جانچ کے نتائج سامنے آنے کے بعد تو ہمارا شک بالکل غلط ثابت ہوا ہے کیونکہ اس میں سعید اجمل کی تمام گیندوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے جو ہمارے لیے حیران کن امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کرسکیں کہ آیا آئی سی سی نے تمام زاویوں سے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپیل کامیاب ہونے کی صورت میں ان کا باؤلنگ ایکشن شفاف بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور سعید اجمل ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے کھیل سکتے ہیں۔

شہریار خان نے کہا کہ اپیل ناکام ہونے کی صورت میں بھی ہمارے پاس وقت ہوگا کہ ہم سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن پر کام کریں اور انہیں واپس لا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں جراتمندی سے اس صورتحال کا سامنا کرنا ہے اور افراتفری کا شکار ہونے کے بجائے سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے باؤلرز موجود ہیں جو سعید کی جگہ حاصل کرسکتے ہیں اور ان کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیں گے۔

آئی سی سی کے فیصلے کے مطابق پاکستان کو دو ہفتوں کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف باضابطہ اپیل کرنا ہوگی جس پر آئی سی سی کا مقرر کردہ باؤلنگ ریویو گروپ نظرثانی کرے گا۔ اس گروپ میں ایک آئی سی سی ریفری، سابق امپائر، سابق کھلاڑی سمیت انسانی حرکیات (ہیومن موومنٹ) کا ایک ماہر بھی شامل ہوگا۔

گزشتہ مہینے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران سعید اجمل کی متعدد گیندوں کو مشتبہ قرار دیا گیا تھا۔ جس پر معاملہ آسٹریلیا کے شہر برسبین میں واقع کرکٹ آسٹریلیا کے نیشنل کرکٹ سینٹر میں باؤلنگ ایکشن کی جانچ تک پہنچا جو آئی سی سی کی منظور شدہ نئی تنصیب ہے جو باؤلنگ ایکشن کی جانچ کا کام کرتی ہے۔ سعید اجمل 2009ء میں بھی اپنے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض کی زد میں آ چکے ہیں اور جانچ کے بعد ثابت ہوا تھا کہ ان کا باؤلنگ ایکشن آئی سی سی کی مقررہ حدود کے اندر ہے۔ لیکن اب آئی سی سی کے مرتب کردہ نئے قواعد بجلی کی طرح آف اسپن گیندبازوں پر گرے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں سعید اجمل سمیت چار آف اسپن باؤلرز پابندی کی زد میں آئے ہیں جبکہ دو پر جلد پابندی متوقع ہے۔

سعید اجمل کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ ایک حادثے کی وجہ سے ان کی کہنی میں قدرتی طور پر خم ہے اور 2009ء میں بھی اسی قدرتی خامی کی وجہ سے سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دیا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستان اب بھی یہی 'ترپ کا پتہ' استعمال کرے لیکن آئی سی سی کی 'عدم برداشت' کی پالیسی کو دیکھا جائے تو اس مرتبہ سعید اجمل کے بچنے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ یعنی کہ 37 سالہ آف اسپنر کا کیریئر ختم!

Facebook Comments