اجمل کو بچانے کے لیے ’’دوسرا‘‘ طریقہ اختیار کرنا ہوگا

سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیا جانا کرکٹ کے حلقوں میں بہت بڑی اور پاکستان کے لیے بہت بری خبر ہے جس نے پاکستانی شائقین کے دل توڑ کر رکھ دیے ہیں۔ یہ مسلسل تیسرا موقع ہے کہ ورلڈ کپ کے آغازسے چند ماہ قبل پاکستان کے ٹاپ باؤلرز کسی نہ کسی تنازع کا شکار ہوکر عالمی کپ سے باہر ہوجائیں۔اگر 2007ء کے ورلڈ کپ سے قبل شعیب اختر اور محمد آصف ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث باہر ہوئے تو اس میں قصور دونوں فاسٹ باؤلرز کا تھا اور اسی طرح 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ کے باعث جیل کی ہوا کھانے والوں محمد عامر اور محمد آصف کے خلاف بھی کوئی ’’سازش‘‘ نہیں ہوئی تھی بلکہ لالچ نے دونوں پیسرز کو ذلت کی دلدل میں دھنسادیا۔سعید اجمل کا کیس مختلف ہے جس نے ان فاسٹ باؤلرز کی طرح کوئی ’’گناہ‘‘ نہیں کیا مگر آف اسپنر پر عائد ہونے والی پابندی کو سازش بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل رواں سال کے آغاز پر باؤلرز کے ایکشن کی جانچ کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے باوجود اگر کوئی باؤلر اپنے باؤلنگ ایکشن کو درست نہیں کرسکا تو اس میں کسی سازش کا عمل دخل نہیں ہے۔

زمینی حقائق دیکھے جائیں تو سعید کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں، اس لیے آئی سی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بعد "دوسرا" طریقہ استعمال کرنا ہوگا (تصویر: AFP)

زمینی حقائق دیکھے جائیں تو سعید کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں، اس لیے آئی سی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بعد "دوسرا" طریقہ استعمال کرنا ہوگا (تصویر: AFP)

پانچ سال قبل 2009ء میں سعید اجمل کی ’’دوسرا‘‘ پر شک کیا گیا مگر پرتھ میں ہونے والے ٹیسٹ میں سعید اجمل کو کلیئر کردیا گیا کیونکہ ٹیسٹ کی رپورٹ میں سعید اجمل کا بازو آٹھ درجے کے زاویے پر خم کھا رہا تھا جو آئی سی سی کے قوانین کے مطابق ہے مگر پانچ سال بعد سعید اجمل کی ’’دوسرا‘‘ تو کجا عام آف بریک گیندیں بھی پندرہ درجے زاویے کی حد سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہی سے پاکستانی شائقین کو سازش کی بو آرہی ہے کہ پانچ برسوں میں سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن میں اتنا فرق کیوں آگیا ۔

جب پہلی مرتبہ سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہوا تو اس وقت وہ پاکستان کا اہم ترین باؤلر نہیں تھا اور ٹیسٹ کرکٹ میں لمبے اسپیل کروانے کی ذمہ داری دانش کنیریا پر عائد تھی مگر پانچ برسوں میں اگر سعید اجمل تینوں فارمیٹس میں 18ہزار سے زائد گیندیں کروائے اور اسے نان اسٹاپ کرکٹ کھلائی جائے تو پھر میرے خیال میں بازو میں خم کا زیادہ ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔گزشتہ پانچ برسوں میں صرف جیمز اینڈرسن نے سعید اجمل سے زیادہ باؤلنگ کی ہے مگر دنیا کی کسی بھی ٹیم نے اپنے سرفہرست باؤلرز پر اتنا بوجھ نہیں ڈالا جتنا کہ سعید اجمل پر لادا گیا اور پھر کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کی بھی اجازت دی گئی جس کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے۔

جن لوگوں نے سعید اجمل کو مشین سمجھ کر اسے مسلسل کرکٹ کھلاکر اس کے کیرئیر کو اختتام کے قریب پہنچا دیا ہے اب وہی لوگ سعید اجمل کے ختم ہوتے ہوئے کیرئیر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے بھی بے تاب و بے قرار ہیں۔باؤلنگ ایکشن غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد آئی سی سی نے 14دن کے اندر سعید اجمل کو اپیل کرنے کا حق بھی دیا ہے مگر اپیل کرنے کی صورت میں سعید اجمل دوبارہ اپنی باؤلنگ کا ٹیسٹ دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔ سعید اجمل پر پابندی عائد ہونے کے بعد پی سی بی کے اندرونی ذرائع بھی یہی کہہ رہے تھے پاکستان کرکٹ بورڈ اس پابندی کے خلاف اپیل کرے گا جس کے بعد شام کو یہ پریس ریلیز جاری ہوئی کہ پی سی بی تمام آپشنز پر غور کررہا ہے اور سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کافی عرصے سے قومی ٹیم سے وابستہ اور سعید اجمل کے ساتھ ہیں۔

پی سی بی کو فوری طور پر اپیل کرنے کی بجائے سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن درست کروانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ فی الوقت اپیل کرنے کا آف اسپنر کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ مشکلات میں اضافہ ہوگا کیونکہ سعید اجمل کے بازو کا خم پندرہ درجے کی حد سے کہیں زیادہ ہے ۔اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو سعید اجمل کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا امکان بہت کم باقی رہ گیا ہے اور اب آئی سی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بجائے ’’دوسرا‘‘ طریقہ استعمال کرنا ہوگا۔

پی سی بی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی چند ماہ قبل پاکستان کرکٹ کو ’’عالمی تنہائی‘‘ سے بچاتے ہوئے ہمیں ’’بگ فور‘‘میں شمولیت کی خوشخبری سنا چکے ہیں اور اب ہی وہ وقت ہے کہ نجم سیٹھی اپنے ’’تعلقات‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے سعید اجمل کو بچانے کی کوشش کریں جس کا کیرئیر ٹھکانے لگنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔

Facebook Comments