سعید اجمل کو ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دی جائے، ارجنا راناتنگا

اپنے پورے بین الاقوامی کیریئر میں مرلی دھرن کی حفاظت کرنے والے سری لنکا کے سابق کپتان ارجنا راناتنگا نے کہا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ناقص باؤلنگ ایکشن کے حامل گیندبازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے غلط وقت کا انتخاب کیا ہے اور سعید اجمل سمیت ان تمام باؤلرز کو عالمی کپ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

راناتنگا نے مرلی دھرن کے دفاع کے لیے اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا دیا تھا، اب سعید اجمل پر ان کا بیان بھی ہنگامہ کھڑا کرے گا (تصویر: Getty Images)

راناتنگا نے مرلی دھرن کے دفاع کے لیے اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا دیا تھا، اب سعید اجمل پر ان کا بیان بھی ہنگامہ کھڑا کرے گا (تصویر: Getty Images)

راناتنگا نہ صرف عالمی کپ 1996ء کے فاتح ہونے کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں بلکہ 1995ء اور 1998ء کے دورۂ آسٹریلیا میں مرلی دھرن کی گیندوں کو نو-بال قرار دیے جانے کے بعد معاملات کو سنبھالنے کی بدولت بھی انہیں سری لنکا میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب جبکہ عرصہ بعد باؤلنگ ایکشن کی خرابی کا معاملہ ابھر کر سامنے آیا ہے، اور گزشتہ دو ماہ میں نصف درجن سے زائد گیندبازوں کے باؤلنگ ایکشن مشتبہ قرار پائے ہیں اور سعید اجمل سمیت تین باؤلرز پر پابندی بھی لگی ہے تو اس معاملے پر راناتنگا کہتے ہیں کہ اگر سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن خراب تھا تو آخر آئی سی سی نے اتنا عرصہ انہیں کھیلنے کی اجازت کیوں دے رکھی تھی، یہاں تک کہ وہ عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک باؤلر تک بن گئے۔ اب جبکہ ورلڈ کپ صرف چھ ماہ کے فاصلے پر ہے، اس نازک مرحلے پر کسی ٹیم کے اہم ترین باؤلرز پر پابندیاں عائد مایوس کن امر ہے۔

ارجنا راناتنگا نے مطالبہ کیا کہ جن باؤلرز پر حال ہی میں پابندی لگائی گئی ہے، انہیں ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے، البتہ آئی سی سی عالمی کپ کے دوران ان پر کڑی نظر رکھے اور بعد میں فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اچانک آپ کے سب سے اہم باؤلر پر پابندی لگ جائے تو ٹیم کے لیے بڑے مسئلے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مشتبہ باؤلنگ ایکشن کے حامل باؤلرز کے خلاف انتظامیہ کو کارروائی ضرور کرنی چاہیے لیکن صرف اتنا کہنا چاہتا ہے کہ اس کے لیے درست وقت کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ سعید اجمل چھ سالوں سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے تھے اور وہ اس وقت بھی ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کے نمبر ایک باؤلر ہیں۔ اس معاملے پر اگر سختی اختیار کرنا تھی، تو وہ بہت پہلے کی جانی چاہیے تھی نا کہ اب ورلڈ کپ سے عین پہلے ہر باؤلر پر پابندی عائد کی جائے۔

راناتنگا نے 1995ء کے دورۂ آسٹریلیا میں اس وقت مرلی دھرن کو مکمل سہارا دیا جب آسٹریلیا کے متنازع امپائر ڈیرل ہیئر نے ان کی گیندوں کو مشتبہ قرار دے کر نو-بال قرار دیا تھا اور پھر 1999ء میں ایڈیلیڈ میں ایک ون ڈے کے دوران مرلی کی گیند کو بٹّا قرار دینے کے معاملے پر راناتنگا نے ٹیم ہی میدان سے باہربلا لی۔میچ تو کرکٹ آسٹریلیا اور میچ ریفری کی یقین دہانی پر دوبارہ شروع ہوا لیکن اس حرکت پر راناتنگا کو 75 فیصد میچ فیس اور چھ ون ڈے میچز کی پابندی بھگتنا پڑی تھی۔ اب سعید اجمل کے حق میں اس بیان پر بھی کچھ حلقے بہت چیں بہ چیں ہوں گے۔

Facebook Comments