بال ٹمپرنگ تنازعات، کرکٹ ساؤتھ افریقہ کا سخت رویہ اپنانے کا فیصلہ

عالمی درجہ بندی میں سرفہرست مقام حاصل کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کو کافی پاپڑ بیلنا پڑے ہیں، آخر گیند سے چھیڑچھاڑ کرکے اسے باؤلنگ کے لیے کارآمد بنانا کوئی آسان کام ہے؟ گزشتہ ایک سال میں دو پروٹیز کھلاڑی رنگے ہاتھوں بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ وہ الگ بات کہ دونوں کو معمولی جرمانے کرکے چھوڑ دیا گیا۔ لیکن کرکٹ ساؤتھ افریقہ اب اس معاملے پر سنجیدہ نظر آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت برداشت نہیں کرے گا۔

جنوبی افریقہ کے فف دو پلیسی گزشتہ سال پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کے دوران بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ کے فف دو پلیسی گزشتہ سال پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کے دوران بال ٹمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ سال نومبر میں پاک-جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز کے فیصلہ کن مقابلے میں جنوبی افریقہ کے فف دو پلیسی گیند کو اپنے پاجامے کی زپ پر رگڑتے پائے گئے تھے۔ بعد ازاں میچ ریفری ڈیوڈ بون نے یہ قرار دیتے ہوئے ان پر صرف 50 فیصد جرمانہ عائد کیا کہ انہوں نے یہ حرکت جان بوجھ کر نہیں کی تھی۔ یہ کام ارادتاً کیا گیا یا غیر ارادی طور پر لیکن اس میچ میں باؤلنگ کے بل بوتے پر جنوبی افریقہ ضرور جیتنے میں کامیاب رہا اور سیریز برابر ہوگئی۔ اب حالیہ دورۂ سری لنکا میں جنوبی افریقی گیندباز ویرنن فلینڈر گیند سے چھیڑچھاڑ کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ ان کو بھی 75 فیصد میچ فیس کے جرمانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن جب تک جنوبی افریقی باؤلرز دھر لیے جاتے، تب تک وہ اپنا کام دکھا چکے تھے۔ ڈیل اسٹین کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے سری لنکا بھی نہیں ٹک پایا اور مقابلہ جنوبی افریقہ جیت گیا۔ ویسے میچ ریفریز کے اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بال ٹمپرنگ کے معاملے پر آئی سی سی نے کافی نرم رویہ اختیار کر رکھا ہے البتہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے اپنے سالانہ اجلاس میں معاملے پر غور کیا ہے اور کھلاڑیوں کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ ایسی حرکت سے اجتناب کریں۔

رواں سال آسٹریلیا کے اوپنر ڈیوڈ وارنر نے بھی جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر ابراہم ڈی ولیئرز پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر گیند سے چھیڑ چھاڑ کررہے تھے کہ تاکہ پروٹیز گیندبازوں کو مدد مل سکے۔ گو کہ بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی لیکن جو بہت کہنی تھی وہ کہہ چکے اور ان کے بیان سے پہلے اور بعد میں جنوبی افریقہ کے دو کھلاڑیوں کا اسی معاملے پر دھر لیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ وارنر کے بیان میں کسی نہ کسی حد تک سچائی ضرور ہوگی۔

سپر اسپورٹ کے مطابق اخلاقیات کے حوالے سے بورڈ کی کمیٹی کے چیئرمین ووسی پیکولری نے کہا ہے کہ دو کھلاڑیوں پر بال ٹمپرنگ کا الزام ثابت ہونے پر وہ سخت تشویش کا شکار تھے اور اسی لیے سالانہ اجلاس میں معاملے کو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے رپورٹوں پر غور کرنے کے بعد کھلاڑیوں کو کہہ دیا ہے کہ ایسی حرکات برداشت نہیں کی جائیں گی جس سے ملک کی ساکھ متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ دیگر کھلاڑی کیا کررہے ہیں، لیکن یہ ہماری عزت کا مسئلہ ہے اور ہم چاہیں گے کہ کھلاڑی اس معاملے کو بہت سنجیدہ لیں۔

جنوبی افریقی ابلاغی ادارے سپر اسپورٹ کے مطابق بورڈ کے رکن ووسی پیکولری نے کہا کہ وہ اس معاملے پر سخت تشویش کا شکار ہیں اور قومی ٹیم میں ایسی حرکتوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

غالباً کرکٹ ساؤتھ افریقہ کو اندازہ ہے کہ ایک سال میں دو مرتبہ کھلاڑیوں کے پکڑے جانے اور ایک مرتبہ الزام کی زد میں آنے کے بعد اگر دوبارہ ایسی کوئی حرکت ہوئی تو ساکھ کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے بھی کان کھڑے ہوں گے اور وہ ٹمپرنگ کے معاملے کو بہت زیادہ سنجیدہ لے گا۔ فف اور فلینڈر والے واقعات کے بعد بھی سنجیدہ حلقوں ٹمپرنگ کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

Facebook Comments