بچے کچھے پاکستانی اسپنرز کا مقابلہ، آسٹریلیا کے بلے باز خصوصی تربیت لیں گے

گو کہ سعید اجمل پر پابندی لگ جانے کے بعد پاکستان کی اسپن باؤلنگ صلاحیت تقریباً ختم ہوچکی ہے، اس کے باوجود آسٹریلیا پاکستان کے خلاف سیریز میں کوئی خطرہ مول نہیں لانا چاہتا۔ اس لیے برسبین میں ایک ایسی وکٹ تیار کی ہے جہاں آسٹریلوی بلے باز اسپن باؤلنگ کے خلاف مشقیں کریں گے۔

آسٹریلیا کو گزشتہ سال بھارت کے دورے میں چاروں ٹیسٹ میچز میں شکست ہوئی تھی (تصویر: BCCI)

آسٹریلیا کو گزشتہ سال بھارت کے دورے میں چاروں ٹیسٹ میچز میں شکست ہوئی تھی (تصویر: BCCI)

برسبین کے نیشنل کرکٹ سینٹر میں آسٹریلیا ایک ایسی مصنوعی پچ بنائی ہے، جو اسپنرز کے لیے مددگار ہے اور ایسی وکٹ سمجھی جارہی ہے جو برصغیر میں موجود وکٹوں سے ملتی جلتی ہے۔

ماضی میں آسٹریلیا کے بلے باز برصغیر میں سخت جدوجہد کرتے دکھائی دیے ہیں یہاں تک کہ گزشتہ سال دورۂ بھارت میں آسٹریلیا کو چاروں ٹیسٹ مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس مرتبہ پاکستان کے خلاف سیریز کے ذریعے وہ اس روایت کو بدلنا چاہتا ہے اور برسبین میں اس خاص وکٹ کی تیاری اعلان ہے کہ آسٹریلیا ہر قیمت پر پاکستان کے خلاف جیتنا چاہتا ہے۔

مصنوعی پچ کی بنیاد کنکریٹ ڈال کر بنائی گئی ہے جس پر مصنوعی گھاس، مٹی اور ٹرف شامل کی گئی ہے اور آسٹریلیا کے ہائی پرفارمنس مینیجر پیٹ ہاورڈ کہتے ہیں کہ یہ پچ آسٹریلیا میں موجود وکٹوں سے بہت مختلف ہے۔ گو کہ انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پچ کا رویہ بالکل برصغیر جیسی وکٹوں کا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایک ذرا مختلف وکٹ پر کھیلنا بلے بازوں کو اچھی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔

اس پچ پر آسٹریلیا کے بلے بازوں کی تربیت کا آغاز رواں ہفتے ہونے والا ہے جب ٹیم پاکستان کے خلاف سیریز کی تیاریوں کا آغاز کرے گی۔

پیٹ ہاورڈ کہتے ہیں کہ برصغیر کی کنڈیشنز کی زیادہ بہتر انداز میں نقل کے لیے ہم بھارت سے مٹی منگوانے کی کوشش کررہے ہیں اور اگر ایسا ہوگیا تو یہ ہوبہو برصغیر جیسی پچ بن جائے گی۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین سیریز کا آغاز 5 اکتوبر کو واحد ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا جس کے بعد تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ مقابلے کھیلے جائیں گے۔

Facebook Comments