شاہد آفریدی کا عالمی کپ کے بعد ریٹائرمنٹ پر غور

شاہد آفریدی کی اب تمام تر توجہ اپنے آخری ہدف ورلڈ ٹی ٹوئںٹی 2016ء پر ہے اور اس کے لیے وہ ایک روزہ کرکٹ کی قربانی دینے کو بھی تیار نظر آتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے 2010ء میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اب ممکنہ طور پر عالمی کپ 2015ء کے بعد ایک روزہ کرکٹ بھی چھوڑ دیں گے (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے 2010ء میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا اور اب ممکنہ طور پر عالمی کپ 2015ء کے بعد ایک روزہ کرکٹ بھی چھوڑ دیں گے (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے متعدد کوششوں کے بعد بالآخر 2010ء میں آخری بار ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہا اور خود کو محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے وقف کردیا۔ چند تنازعات کی وجہ سے انہیں کافی عرصہ قومی ٹیم سے باہر بیٹھنا پڑا لیکن اب وہ ایک بار پھر اہم عہدے پر فائز ہیں۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں جاری قومی ٹی ٹوئںٹی کپ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے ورلڈ ٹی ٹوئںٹی 2016ء تک قیادت سونپی گئی ہے اس لیے ممکن ہے کہ میں جلد ہی اپنی تمام توجہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر مرکوز کردوں تاکہ اگلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پاکستان جیتے۔

ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ اگلے سال فروری و مارچ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ شاہد آفریدی کا آخری ایک روزہ ٹورنامنٹ ہوگا۔ پاکستان نے عالمی کپ کے لیے مصباح الحق کی قیادت پر اعتماد برقرار رکھا ہے ۔ پاکستان نے آخری عالمی کپ 2011ء میں شاہد آفریدی کی قیادت میں کھیلا تھا جہاں پاکستان کو سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

"لالا" نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس میں بالکل لطف نہیں آ رہا تھا اور میں سمجھ رہا تھا کہ کھلاڑیوں کی حیثیت سے میں اپنا حصہ ادا نہیں کر پارہا۔ محدود اوورز کی کرکٹ مجھے پسند ہے اور میں اگلے ورلڈ کپ کےبعد ایک روزہ کرکٹ میں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کروں گا۔ اس کی وجہ ورلڈ ٹی ٹوئںٹی 2016ء ہے اور میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کو جتوانے کی خاطر اپنی تمام توجہ ٹی ٹوئنٹی پر رکھوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ایک تیز کرکٹ ہے اور بھرپور توجہ کی متقاضی ہے۔

34 سالہ شاہد آفریدی اب تک 381 ایک روزہ مقابلے کھیل چکے ہیں اور اگلے ماہ آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی کے ذریعے اپنی قیادت کے دوسرے دور کا آغاز کریں گے۔

Facebook Comments