"دوسرا" پر پابندی کرکٹ کے لیے بڑا نقصان ہے: معین علی

انگلستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر معین علی نے کہا ہے کہ پاکستان کے باؤلر سعید اجمل پر پابندی دنیا بھر کے گیندبازوں کے لیے انتباہ ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو "دوسرا" گیند پھینکتے ہیں۔ اس لیے وہ مجبور ہیں اور اب آئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں "دوسرا" گیند نہیں پھینکیں گے۔

موجودہ صورتحال میں "دوسرا" نہ پھینک پانا کرکٹ کے لیے بڑا نقصان ہوگا: معین علی (تصویر: Getty Images)

موجودہ صورتحال میں "دوسرا" نہ پھینک پانا کرکٹ کے لیے بڑا نقصان ہوگا: معین علی (تصویر: Getty Images)

روایتی آف اسپن کے بجائے دوسری سمت میں گھوم جانے والی یہ گیند اس وقت بین الاقوامی کرکٹ میں آف اسپنرز کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور فی الوقت اس گیند کے ماہر ترین باؤلر سعید اجمل بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی پابندی کا شکار ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں نمبر ایک پوزیشن پر موجود سعید اجمل کو پاکستان کے حالیہ دورۂ سری لنکا میں مشکوک باؤلنگ ایکشن پر دھر لیا گیا تھا اور بایومکینکس جانچ کے بعد ان کے باؤلنگ ایکشن کر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا گیا تھا۔

معین علی رواں سال کاؤنٹی سیزن میں سعید اجمل کے ساتھ وارسسٹرشائر کی نمائندگی کر رہے تھے اور نوجوان آل راؤنڈر نے سعید سے کافی مشورے بھی لیے اور ممکنہ طور پر انگلستان کے پہلے "دوسرا" باؤلر بنتے۔ لیکن اب معین سمجھتے ہیں کہ مشتبہ باؤلنگ ایکشن کی بنیاد پر باؤلرز کے خلاف ہونے والی حالیہ کارروائیاں گیندبازوں کو "دوسرا" پھینکنے سے روکیں گی اور وہ بھی ان باؤلرز میں شامل ہیں جو مجبور ہوں گے کہ "دوسرا" نہ پھینکیں۔ البتہ معین کا کہنا تھا کہ وہ "دوسرا" گیند پر مشق جاری رکھیں گے، لیکن کسی بھی میچ میں "دوسرا" پھینکنے سے گریز کریں گے اور اپنی توجہ دیگر گیندوں اور باؤلنگ میں تکنیکی تبدیلیوں پر مرکوز رکھیں گے تاکہ اپنی گیندبازی کو بہتر بنا سکیں۔

معروف ویب سائٹ پاک پیشن کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستانی نژاد کھلاڑی نے کہا کہ "دوسرا" ایک زبردست ہتھیار اور انتہائی خوبصورت گیند ہے۔ جب میں نے سعید اجمل کو دوسرا پھینکتے اور اس پر بلے بازوں کو بے وقوف بنتے دیکھا تو میں حیران رہ گیا، یہ ایک خوبصورت نظارہ تھا۔

27 سالہ معین علی کا کہنا ہے کہ دوسرا پھینکنے کے لیے بہت مہارت درکار ہوتی ہے اور اس ہنر کو کئی نوجوان باؤلرز سیکھنا چاہتے ہیں لیکن اب موجودہ صورتحال میں "دوسرا" نہ پھینک پانا کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا کیونکہ یہی وہ گیند تھی جس نے فی الوقت آف اسپن باؤلنگ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس وقت ایک حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے "دوسرا" نہیں پھینکا جا سکتا، اس لیے میری نظر میں تو یہ کرکٹ کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

رواں سال اپنے ٹیسٹ کیریئر کے آغاز کے بعد معین علی نے بھارت کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچز کی فاتحانہ سیریز میں 19 وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت کے خلاف اپنی اس کارکردگی پر معین علی بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا ہیں اور کہتے ہیں کہ "یہ میرے لیے حیران کن ضرور تھا لیکن مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ باؤلر کی حیثیت سے مجھ میں صلاحیتیں موجود ہے خاص طور پر جب سعید اجمل جیسا گیندباز آپ کو کہے کہ آپ باؤلنگ کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بھارت کے خلاف بہتر کارکردگی کی مجھے بھی خود سے کوئی توقع نہ تھی۔ قابل بھروسہ افراد کے مشورے اور باؤلنگ پر محنت نے مجھے یہ صلہ دیا۔

انگلستان نے دورۂ سری لنکا کے لیے اعلان کردہ 16 رکنی دستے میں بھی معین علی کو شامل کیا ہے اور یقینی طور پر وہ اگلے سال عالمی کپ کھیلنے والے انگلش اسکواڈ میں ان کی شمولیت کے امکانات روشن ہیں۔

Facebook Comments