تبدیلی آ گئی!!! پشاور قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بن گیا

جب قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا آغاز ہوا تھا تو کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ یہ اعزاز ایک ایسی ٹیم کے ہاتھ آئے گا جو اسٹار کھلاڑیوں سے مکمل طور پر محروم ہے۔ پشاور پینتھرز نے فائنل میں لاہور لائنز کو 7 وکٹوں سے باآسانی شکست دے کر ثابت کردیا ہے کہ جیت صرف بڑے ناموں سے نہیں ملتی بلکہ مستقل مزاجی اور عزم کی بدولت بڑے سے بڑا پہاڑ سر کیا جا سکتا ہے۔

پشاور پینتھرز میں قومی سطح کا ایک بھی کھلاڑی شامل نہیں تھا، اس کے باوجود ٹیم بڑے ناموں کی حامل ٹیموں کو شکست دیتی ہوئی فائنل تک پہنچی اور قومی کپ جیت لیا، وہ بھی بغیر کوئی مقابلہ ہارے (تصویر: PCB)

پشاور پینتھرز میں قومی سطح کا ایک بھی کھلاڑی شامل نہیں تھا، اس کے باوجود ٹیم بڑے ناموں کی حامل ٹیموں کو شکست دیتی ہوئی فائنل تک پہنچی اور قومی کپ جیت لیا، وہ بھی بغیر کوئی مقابلہ ہارے (تصویر: PCB)

پشاور کی یہ تاریخی کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ پیش کی گئی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے گروپ مرحلے میں فیصل آباد وولفز، اسلام آباد لیپرڈز اور لاہور ایگلز جیسے بڑے حریفوں کو شکست دی اور تمام مقابلے جیتنے کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اس نے سنسنی خیز میچ کے بعد سیالکوٹ اسٹالینز کو شکست دی اور پھر فائنل میں جامع کارکردگی پیش کرکے لاہور لائنز کو بھی پچھاڑ دیا۔ لاہور لائنز اپنی دوسرے درجے کی ٹیم کے ساتھ ٹورنامنٹ کھیلا کیونکہ اس کے تمام اہم کھلاڑی اس وقت بھارت میں جاری چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں شریک ہیں۔ اس لیے لائنز اظہر علی کی زیر قیادت میدان میں اترے اور ان کی کارکردگی ہرگز ویسی نہیں تھی جو انہیں فائنل تک پہنچاتی۔ خاص طور پر بہاولپور کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کے بعد تو بہت کم توقعات تھیں لیکن کمزور گروپ میں موجودگی اور اہم مقابلوں میں فتوحات نے اسے فائنل تک پہنچا دیا، جہاں اسے پشاور کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست ہوئی۔

کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں لاہور نے ٹاس جیت کر پہلے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا اور تاج ولی کے ایک ہی اوور میں کامران اکمل اور عابد علی کے آؤٹ ہونے کے بعد اس کی اننگز کو ابتداء میں سخت دھچکا پہنچا۔ نوجوان امام الحق نے 41 گیندوں پر 52 رنز کے ساتھ اپنی پوری کوشش کی کہ معاملے کو سنبھالیں لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں کسی کا ساتھ میسر نہ آیا۔ کپتان اظہر علی صرف 16 اور تنزیل الطاف 11 رنز کے ساتھ محض دہرے ہندسے میں داخل ہو سکے جبکہ کامران اکمل، فہد الحق، اخلاق بٹ، محمد عرفان، محمد آفتاب اور عماد علی تو اس شرف سے بھی محروم رہے۔ ٹیم مقررہ 20 اوورز میں صرف 133 رنز جمع کرسکی جو پشاور کی گزشتہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہر گز دفاع کے قابل مجموعہ نہیں تھے۔ پشاور کی جانب سے تاج ولی نے تین جبکہ عمران خان جونیئر نے دو اور افتخار احمد نے ایک وکٹ حاصل کی۔

134 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پشاور پینتھرز کا آغاز جاندار تھا۔ صرف 4 اوورز میں اوپنرز رفعت اللہ مہمند اور اسرار اللہ نے 43 رنز داغ دیے اور لاہور کی رہی سہی امیدوں کا چراغ بھی گل کردیا۔ گو کہ دونوں اوپنرز چار گیندوں کے وقفے سے آؤٹ ہوگئے لیکن افتخار احمد اور عادل امین نے معاملات کو سنبھال لیا۔ رفعت اللہ 13 گیندوں پر 26 اور اسرار اللہ 14 گیندوں پر 20 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ افتخار اور عادل نے تیسری وکٹ پر 82 رنز کی فتح گر شراکت داری بنائی یہاں تک کہ عادل 33 رنز بنانے کے بعد انیسویں اوور میں آؤٹ ہوگئے۔ بعد ازاں افتخار نے آخری اوور کی دوسری گیند پر اظہر علی کو چوکا رسید کرکے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی اور پشاور کو پہلی بار قومی سطح کا کوئی ٹی ٹوئنٹی اعزاز بھی جتوا دیا۔ افتخار 44 گیندوں پر 50 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے لوٹے اور پشاور کے کھلاڑیوں کے ساتھ دیوانہ وار جشن منایا۔

بعد ازاں افتخار احمد اور تاج ولی کو مشترکہ طور پر فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ کراچی ڈولفنز کے اسد شفیق کو سب سے زیادہ 214 رنز بنانے پر ٹورنامنٹ کا بہترین بلے باز اور عمران خان جونیئر کو سب سے زیادہ 12 وکٹیں لینے پر بہترین گیندباز قرار دیا گیا۔

Facebook Comments