[انٹرویوز] عدم انتخاب پر مایوس ضرور ہوں، لیکن ہمت نہیں ہاروں گا: امام الحق

پاکستان کرکٹ کو جس قدر نئے خون کی ضرورت ہے، اتنی شاید دنیا کے کسی اور ملک کو نہیں ہوگی۔ تجربہ کار اور بزرگ کھلاڑیوں کی موجودگی میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں طرز کی کرکٹ میں قومی ٹیم کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ظاہر ہے۔ اس منظرنامے میں قومی انڈر-19 کھلاڑیوں کی کارکردگی ایک روشن مستقبل کو ظاہر کرتی ہے۔ رواں سال کے اوائل میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے انڈر-19 ورلڈ کپ میں پاکستان کے نوجوان کھلاڑی مسلسل دوسری بار فائنل تک پہنچے، گو کہ اس مرتبہ بھی وہ عالمی چیمپئن نہ بن سکے لیکن فائنل تک رسائی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے نوخیز کھلاڑیوں میں بہت دم ہے۔ انہی حوصلہ مند کھلاڑیوں میں سے ایک امام الحق ہیں۔ 18 سالہ امام پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں سے ایک انضمام الحق کے بھتیجے ہیں۔

امام الحق نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں نصف سنچریاں بنائیں، لیکن پاکستان 'اے' کے لیے بھی منتخب نہیں ہوسکے (تصویر: ICC)

امام الحق نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں نصف سنچریاں بنائیں، لیکن پاکستان 'اے' کے لیے بھی منتخب نہیں ہوسکے (تصویر: ICC)

امام الحق نے گزشتہ روز اختتام کو پہنچنے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں لاہور لائنز کی نمائندگی کی جسے فائنل میں پشاور پینتھرز کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ لیکن پورے ٹورنامنٹ میں امام الحق کی کارکردگی بہت نمایاں رہی۔ فائنل میں ناقابل شکست 52 رنز کے علاوہ انہوں نے سیمی فائنل میں ملتان ٹائیگرز کے خلاف بھی نصف سنچری بنائی۔ علاوہ ازیں انڈر-19 ورلڈ کپ 2014ء میں 6 مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 382 رنز بنائے جس میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بھی شامل تھیں لیکن اس شاندار کارکردگی کے باوجود قومی ٹیم تو کجا پاکستان 'اے' میں بھی امام الحق کی جگہ نہیں بنی۔

18 سالہ بلے باز کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے دورے کے لیے اعلان کردہ پاکستان 'اے' کے اسکواڈ میں اپنا نام نہ پاکر انہیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ پاکستان 'اے' 15 اکتوبر سے آسٹریلیا کے خلاف چارہ روزہ مقابلہ کھیلے گی جو پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کے آغاز سے قبل کھیلا جائے گا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے خلاف 5 مقابلوں میں بھی حصہ لے گی۔ امام الحق کاکہنا ہے کہ گو کہ قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں لیکن 'اے' ٹیم میں شامل نہ ہوپانا مایوس کن امر ہے۔ امام الحق کو انڈر-19 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے باوجود موسم گرما میں 35 ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے کیمپ میں بھی طلب نہیں کیا گیا تھا۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی، لاہور میں ہونے والے اس کیمپ میں امام الحق کی عدم موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ شاید ماضی کے عظیم بلے باز سے وابستگی ان کے کیریئر میں بھی رکاوٹ بنے۔

جاوید میانداد کے بھانجے فیصل اقبال بھی ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ انہیں صرف میانداد کا عزیز ہونے کی سزا دی گئی البتہ امام الحق اس نظریے پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی بڑے کھلاڑی کا رشتہ دار ہونا فائدہ مند بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔ اچھی کارکردگی دکھانے کی صورت میں آپ کو ایک عظیم کھلاڑی سے نسبت دی جاتی ہے، لیکن بری کارکردگی کی صورت میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسی بڑے کھلاڑی کے خاندان میں کبھی کوئی باصلاحیت کھلاڑی جنم نہیں لیتا۔

عام طور پر اوپنر کی حیثیت سے کھیلنے والے امام الحق نے حالیہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں نچلے آرڈر پر بیٹنگ کی اور عمدہ کارکردگی دکھائی اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں شامل رہے۔ عدم انتخاب کے باوجود امام الحق کہتے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح پاکستان ہے اور آئندہ مزید اچھی کارکردگی پیش کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک روزہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کرتے ہوئے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ پالوں گا۔

Facebook Comments