محمد اشرفل پر عائد پابندی میں کمی کردی گئی

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے فکسنگ اور بدعنوانی کے الزام میں سابق کپتان محمد اشرفل پر عائد پابندی میں کمی کردی ہے۔

پابندی میں کمی کے بعد 30 سالہ محمد اشرفل اگست 2016ء سے کرکٹ کھیل پائیں گے (تصویر: AFP)

پابندی میں کمی کے بعد 30 سالہ محمد اشرفل اگست 2016ء سے کرکٹ کھیل پائیں گے (تصویر: AFP)

محمد اشرفل نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ 2013ء میں میچ اور اسپاٹ فکسنگ کا اعتراف کیا تھا جس پر چند ماہ قبل انہیں آٹھ سال پابندی کی سزا سنائی گئی تھی۔ اشرفل نے بورڈ کے انضباطی پینل کے روبرو اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت مکمل ہونے پر سربراہ جسٹس محمد عبد الرشید نے ان کی سزا گھٹا کر پانچ سال کردی ہے۔ اشرفل اچھے رویے کا تصدیق نامہ پیش کرکے دو سال مزید کم کروا سکتے ہیں یعنی کہ اگست 2016ء میں ان کے کھیلنے کے امکانات روشن ہیں۔ اس کے لیے انہیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ یا بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی تعلیمی و تربیتی پروگرام میں شرکت کرنا ہوگی۔

ڈھاکہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلنے والے اشرفل نے آٹھ سالہ پابندی سے پہلے ہی اعتراف جرم کرلیا تھا اور اب وہ انضباطی پینل کے فیصلے پر خوش دکھائی دیتے ہیں۔ پینل نے سری لنکا کے آل راؤنڈر کوشال لوکاراچھی کی پابندی بھی ڈیڑھ سال سے کم کرکے ایک سال کردی ہے۔

البتہ فرنچائز کے مالکان میں سے ایک شہاب جشن چودھری پر دس سالہ پابندی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انضباطی پینل نے میچ فکس کرنے کی کوششوں کا حصہ بننے پر دی گئی سزا کے خلاف اپیل مسترد کردی ہے البتہ ان پر عائد 20 لاکھ ٹکا کا بھاری جرمانہ ضرور ختم کردیا ہے۔ البتہ فرنچائز کے چیئرمین سلیم چودھری پر دس سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے جنہیں انسداد بدعنوانی کے ٹریبونل نے بری کردیا تھا۔

Facebook Comments