سنیل نرائن کا باؤلنگ ایکشن بھی مشکوک قرار

بالآخر طویل انتظار کے بعد ویسٹ انڈیز کے آف اسپنر سنیل نرائن کا باؤلنگ ایکشن بھی شکوک کی زد میں آ گیا ہے جو اس وقت چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کررہے ہیں۔

سنیل نرائن جاری سی ایل ٹی ٹوئنٹی میں رپورٹ ہونے والے چوتھے باؤلر ہیں (تصویر: BCCI)

سنیل نرائن جاری سی ایل ٹی ٹوئنٹی میں رپورٹ ہونے والے چوتھے باؤلر ہیں (تصویر: BCCI)

ڈولفنز کے خلاف گزشتہ شب حیدرآباد میں کھیلے گئے سی ایل ٹی ٹوئنٹی کے آخری گروپ میچ کے بعد امپائروں انیل چودھری، شمس الدین اور کمار دھرماسینا نے نرائن کی تیز پھینکی گئی گیند کو مشکوک قرار دیا ہے اور انہیں انتباہ جاری کردیا ہے۔ نرائن اب ان گیندبازوں میں شامل ہوگئے ہیں جو جاری سی ایل ٹی20 میں اب تک شک کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان میں پاکستان کی چیمپئن لاہور لائنز کے کپتان محمد حفیظ اور ساتھی آف اسپنر عدنان رسول بھی شامل ہیں۔

فی الوقت کو سنیل نرائن کو باؤلنگ کی اجازت ہے اور وہ بقیہ ٹورنامنٹ میں کھیل سکتے ہیں لیکن اگر دوبارہ کسی امپائر نے ان کی گیندوں پر شک ظاہر کیا تو انہیں فوری طور پر باؤلنگ سے روک دیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کے اس اہم ترین مرحلے پر نرائن کی باؤلنگ پر شک کا اظہار کولکتہ کے لیے خاصا نقصان دہ ہوسکتا ہے اور اگر ان پر پابندی لگی تو یہ موجودہ آئی پی ایل چیمپئن کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

ڈولفنز کے خلاف اس مقابلے میں بھی نرائن نے کولکتہ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا اور اپنے چار اوورز میں 33 رنز دےکر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور 11 وکٹوں کے ساتھ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ہیں۔

اگر نرائن کے باؤلنگ ایکشن کو دوبارہ مشکوک قرار دیا گیا تو وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام کسی بھی ٹورنامنٹ میں اس وقت تک حصہ نہیں لے پائیں گے جب تک کہ ان کا باؤلنگ ایکشن شفاف نہ قرار دیا جائے۔ البتہ اس ممکنہ پابندی کا اطلاق نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ہوگا اور نہ ہی سی ایل ٹی ٹوئنٹی میں پابندی کا شکار ہونے والا کسی بھی باؤلر کی بین الاقوامی کرکٹ پابندی ہوگی۔

دنیا کے نمبر ایک اسپنر سعید اجمل پر حال ہی میں بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اس کے بعد جس رفتار سے آف اسپن گیندبازوں کو مشکوک قرار دیا جارہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی کپ 2015ء کے آغاز تک چند آف اسپنر ہی باقی بچیں گے۔

Article Tags

Facebook Comments