غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف تاخیر پر آسٹریلیا مایوس

آسٹریلیا آف اسپن گیندبازی کے معاملے میں بنجر سرزمین ہے، لیگ اسپن کے بادشاہ شین وارن تو اس کی تاریخ کا حصہ ہیں لیکن کسی ایسے آف اسپن باؤلر نے یہاں جنم نہیں لیا کہ جس کے قصیدے دنیا نے پڑھے ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی دنیا بھر کے آف اسپنرز زیر عتاب آئے ہیں، سب سے زیادہ بغلیں بھی آسٹریلیا ہی میں بجائی جا رہی ہیں۔ جب ہیڈ کوچ سے لے کر (شاید) چپڑاسی تک سب کی باچھیں کھلی ہوئی ہوں تو آخر اسپن کوچ کیوں خاموش رہیں؟ وہ بھی اپنے چار آنے کے ساتھ حاضر ہیں اور کہتے ہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف کارروائی میں بہت تاخیر کردی ہے۔

آسٹریلیا نے اپنے اسپنرز کو "دوسرا" پھینکنے پر مجبور نہیں کیا: اسپن کوچ جان ڈیویسن (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا نے اپنے اسپنرز کو "دوسرا" پھینکنے پر مجبور نہیں کیا: اسپن کوچ جان ڈیویسن (تصویر: Getty Images)

کوچ جان ڈیویسن، جو کینیڈا کے سابق کپتان بھی رہے ہیں، آسٹریلیا سے طویل وابستگی رکھتے ہیں اور بچپن ہی میں یہاں منتقل ہونے کے بعد وکٹوریا اور ساؤتھ آسٹریلیا کی جانب سے کرکٹ کھیلی۔ اب وہ اسپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے آسٹریلیا سے منسلک ہیں۔ آف اسپن گیندبازوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن پر ان کی رائے بظاہر تو بالکل معقول لگتی ہے لیکن آخر میں اس پر شکر ادا کرنا کہ آسٹریلیا نے اپنے اسپن گیندبازوں کو "دوسرا" پھینکنے پر مجبور نہیں کیا، ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی اس معاملے پر خاصے مطمئن ہیں۔

آسٹریلوی اخبار دی ایج سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیویسن کہتے ہیں کہ اب یہ عالم ہے کہ کئی نوجوان کھلاڑی ان ہیروز کے نقش قدم پر چل چکے ہیں جو اب پابندیوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ اپنے دورۂ سری لنکا کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیویسن نے کہا کہ میں نے وہاں جتنے بھی باؤلر دیکھے، ان میں سے 90 فیصد اسپنر تھے، جن میں سے اکثر کے باؤلنگ ایکشن کر میں غیر قانونی قرار دوں گا۔ یعنی برصغیر میں ایک پوری نسل ہوگی جسے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے باؤلنگ میں دشواری کا سامنا ہوگا۔ وہ اپنے جن ہیروز کے نقش قدم پر چلے ہیں، انہی کی پیروی انہیں آئندہ متاثر کرے گی۔

جان ڈیویسن نے کہا کہ اس وقت بھی بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والے بیشتر اسپن باؤلرز کا ایکشن مشتبہ ہے، اب نوجوان بھی انہی کی نقل کریں گے جنہیں وہ بین الاقوامی سطح پر کھیلتا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے شکر ادا کیا کہ جاری کریک ڈاؤن کے آسٹریلیا پر بہت کم اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس نے کبھی اپنے اسپن باؤلرز پر دباؤنہیں ڈالا کہ وہ "دوسرا" گیند پھینکیں۔ "ہم نے اپنے روایتی گیندبازوں کو کبھی دوسرا باؤلرز میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن اگر یہ معاملہ 20 سال پہلے اٹھایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

20 سال کا حوالہ دے کر شاید جان ڈیویسن سری لنکا کے عظیم اسپنر مرلی دھرن کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ 1995ء کے دورۂ آسٹریلیا میں امپائر ڈیرل ہیئر نے ملبورن ٹیسٹ کے دوران ان کی 7 گیندوں کو یہ کہہ کر نو-بال قرار دیا تھا کہ ان کا باؤلنگ ایکشن درست نہیں۔ یہ معاملہ بعد میں کافی آگے بڑھا یہاں تک کہ بایومکینک تجربات کے بعد مرلی دھرن کے ایکشن کو درست قرار دیا گیا۔ لیکن چند حلقے آج بھی مرلی دھرن کو اس "بدعت" کو جاری کرنے والا قرار دیتے ہیں۔

کئی سالوں تک گیندبازوں کو کھلی چھوٹ دینے کے بعد اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل ایک مرتبہ پھر سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ چند ہفتے قبل اس نے ایک روزہ کرکٹ کے بہترین گیندباز سعید اجمل پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی کہ ان کا باؤلنگ ایکشن قانونی حدود کے اندر نہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں نصف درجن سے زائد گیندبازوں کے باؤلنگ ایکشن مشتبہ قرار دیے گئے ہیں جن میں سے تین پر پابندی بھی لگائی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے لیے یہ تو خوش آئند بات ہے ہی کہ بین الاقوامی سطح پر اس کا کوئی ایسا آف اسپنر موجود نہیں جو اس کریک ڈاؤن کی زد میں آئے، ساتھ ساتھ یہ امر بھی راحت بخش ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف آئندہ سیریز میں سعید اجمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments