سعید اجمل کی کمی محسوس ہوگی، رضا حسن پر پورا اعتماد ہے: شاہد آفریدی

بحیثیت کپتان شاہد آفریدی کی صلاحیتوں کا ایک نیا امتحان صرف دو روز کے فاصلے پر کھڑا ہے اور پہلے مرحلے پر ہی انہیں اپنے اہم ترین گیندباز کی جدائی برداشت کرنا پڑے گی۔ پاک-آسٹریلیا سیریز کا واحد ٹی ٹوئنٹی گزشتہ کئی سالوں میں پہلا مقابلہ ہوگا جو پاکستان اپنے سب سے نمایاں گیندباز سعید اجمل کے بغیر کھیلے گا لیکن شاہد آفریدی پرامید ہیں کہ ٹیم سعید کے بغیر بھی کامیابیاں حاصل کرے گی۔

رضا حسن دو سال کے عرصے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں اور شاہد آفریدی ان پر بہت اعتماد کررہے ہیں (تصویر: AFP)

رضا حسن دو سال کے عرصے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں اور شاہد آفریدی ان پر بہت اعتماد کررہے ہیں (تصویر: AFP)

جولائی 2008ء سے اب تک تمام طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں سعید اجمل پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 446 وکٹیں لینے والے باؤلر ہیں۔ ٹیسٹ میں 178، ون ڈے میں 183 اور ٹی ٹوئنٹی میں 85 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کا کوئی باؤلر ان کا مقابل نہیں ہے۔ مجموعی وکٹوں میں ان کے قریبی ترین حریف عمر گل ہیں جن کی وکٹوں کی تعداد صرف272 ہے۔ اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان کے باؤلنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں باؤلنگ کرنے سے روک دیا ہے۔ پاکستان عالمی کپ سے صرف 6 ماہ قبل جتنی بڑی مشکل سے دوچار ہوا ہے، اس کا حقیقی اندازہ آئندہ پاک-آسٹریلیا سیریز میں ہوگا جس کا آغاز 5 اکتوبر کو واحد ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا۔ اس سنگین صورتحال کے باوجود شاہد آفریدی پراعتماد ہیں، حوصلہ مند ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ سعید اجمل کی اہمیت سب کو معلوم ہے، وہ پاکستان کے اہم ترین باؤلر تھے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ہم اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ نوجوان باؤلر رضا حسن بہت باصلاحیت ہیں، بین الاقوامی کرکٹ کا معمولی سا تجربہ بھی رکھتے ہیں اور محمد حفیظ اور میرے ساتھ ان کا امتزاج خوب چلے گا۔

22 سالہ رضا حسن نے دو سال قبل پاکستان کی جانب سے 7 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے تھے اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں عمدہ کارکردگی دکھائی تھی۔ لیکن اس کے بعد زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوئے، اور اب کہیں جاکر واپس آئے ہیں۔ پاکستان نے انہیں واحد ٹی ٹوئنٹی کے ساتھ ایک روزہ دستے کے لیے بھی منتخب کیا ہے۔ رضا کو سعید اجمل کا متبادل کہنا تو درست نہیں ہوگا لیکن اسپن باؤلنگ کے شعبے میں وہ سعید اجمل کی جگہ ضرور لیں گے اور شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کا ساتھ دیں گے۔

موجودہ ٹیم کے بارے میں شاہد آفریدی نے کہا کہ اسپنرز کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس بہت اچھے تیز باؤلر اور آل راؤنڈرز بھی ہیں اور ہم ماضی میں مختلف مقامات پر اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ اب تیز اور اسپن باؤلرز کے توازن کے ساتھ مجھے گیندبازوں پر اعتماد ہے۔ لالا کا کہنا تھا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ رکھتے ہیں اور چند کھلاڑی بھارت میں کھیلی جارہی چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں بہت اچھی کارکردگی دکھانے بعد ٹیم میں آئے ہیں۔

عالمی کپ سے پہلے ہر مقابلے کو اہم قرار دیتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی کپتان نے کہا کہ اگر ہم میچز جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھے گا اور عالمی کپ کے آغاز تک اعتماد میں کافی اضافہ ہوگا، اس لیے ہمارے لیے ہر میچ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں ہمیشہ کھلاڑیوں سے یہی کہتا ہوں کہ جیتو یا ہارو، میدان میں تمہارا طرز عمل مثبت ہونا چاہیے اور کوشش جاری رکھو گے تو مثبت نتیجہ آئے گا۔

اپنی فٹنس کے حوالے سے شاہد آفریدی نے کہا کہ میری فٹنس میں کمی نہیں آئی ہے، بلکہ یہ پہلے کے مقابلے میں 15 فیصد بہتر ہے۔ اپنے لیول کو حاصل کرنے کے لیے جو 8 فیصد بہتری درکار ہے، میں اسے جلد پورا کرلوں گا۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے فٹ کھلاڑیوں کو بونس دے کر ایک بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔

Facebook Comments