چیمپئنز لیگ: یکطرفہ سیمی فائنل مقابلے، کولکتہ اور چنئی فائنل میں

توقعات کے عین برعکس چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی کے دونوں سیمی فائنل بہت بے مزہ اور بے جوڑ مقابلے ثابت ہوئے جہاں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ہوبارٹ ہریکینز کو 7 وکٹوں سے جبکہ چنئی سپر کنگز نے کنگز الیون پنجاب کو 65 رنز سے شکست دے کے فائنل میں جگہ پائی۔

کولکتہ کی شاندار جیت کا مزا سنیل نرائن کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اور فائنل سے اخراج نے کرکرا کردیا (تصویر: BCCI)

کولکتہ کی شاندار جیت کا مزا سنیل نرائن کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض اور فائنل سے اخراج نے کرکرا کردیا (تصویر: BCCI)

ایک دھیمی وکٹ پر آسٹریلوی بلے باز اور سامنے اسپن باؤلر، ہوبارٹ ہریکینز کے لیے اس سے بھیانک فارمولا نہیں ہوسکتا تھا، اس لیے نتیجہ کچھ ایسا غیر متوقع نہیں نکلا۔ بہرحال، حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے سیمی فائنل سے قبل ہی ہوبارٹ کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کپتان ٹم پین پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے مقابلے سے دستبردار ہوگئے۔ ان کی جگہ قیادت کی ذمہ داریاں زاویئر ڈوہرٹی نے سنبھالیں جنہوں نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ کچھ ہی دیر میں انہیں اندازہ ہوگیا کہ اسپن باؤلنگ کے سامنے ان کی ایک نہیں چلے گی۔ کچھ امپائروں کی مہربانی اور کچھ ہوبارٹ کے بلے بازوں کی نااہلی، نہ رنز بن سکے او رنہ ہی وکٹیں بچ سکیں۔ 16 اوورز میں اسکور بورڈ پر صرف 91 رنز جمع ہو سکے جبکہ 5 کھلاڑی بھی آؤٹ ہوئے۔ ٹیم کے واحد بلے باز، جو اسپن باؤلنگ کو کھیلنا بخوبی جانتے ہیں، شعیب ملک تھے اور انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ ان کی 46 گیندوں پر 66 رنز کی اننگز نے اسکور کو 140 رنز تک پہنچایا۔ ہوبارٹ نے آخری پانچ اوورز میں 49 رنز کا اضافہ کیا اور کولکتہ کو جیتنے کے لیے 141 رنز کا ہدف دیا۔

دھیمی وکٹ پر کولکتہ کا آغاز بھی اچھا نہیں تھا، چوتھے اوور میں جب کپتان گوتم گمبھیر کی صورت میں پہلی وکٹ گری تو صرف 20 رنز بنے تھے۔ اس کے بعد بھی چھ رنز فی اوور کے اوسط سے زیادہ رنز نہ بن سکے یہاں تک کہ آٹھویں اوور میں دوسرے اوپنر روبن اوتھپا بولڈ ہوگئے۔ اس مرحلے پر تجربہ کار ژاک کیلس اور منیش پانڈے کے مابین 63 رنز کی شراکت داری ہوئی۔ اس شراکت داری میں منیش کا حصہ 32 گیندوں پر 40 رنز کا تھا جو گرنے والی آخری وکٹ بنے۔ ہوبارٹ کے فیلڈرز نے رن آؤٹ کے تین مواقع ضائع کیے جبکہ قسمت نے بھی یاوری نہ کی اور منیش ایک مرتبہ نو-بال پر آؤٹ بھی ہوئے۔ اگر یہ مواقع استعمال ہوجاتے تو شاید میچ دلچسپ مرحلے میں داخل ہوجاتا۔

منیش پانڈے کے آؤٹ ہونے کے بعد کچھ دیر کے لیے اننگز تھم سی گئی، یہاں تک کہ معاملہ 13 گیندوں پر درکار 21 رنز تک پہنچ گیا۔ انیسواں اوور ڈوہرٹی نے خود کروانے کا فیصلہ کیا اور یہیں سے کیلس اور یوسف پٹھان کو مقابلہ گرفت میں لینے کا موقع مل گیا۔ پہلی ہی گیند پر کیلس نے شاندار چھکا رسید کیا اور پھر آخری اوور کی پہلی گیند پر بین ہلفناس نے کیچ چھوڑ کر نہ صرف کولکتہ کو چھکا دیا، بلکہ مقابلہ بھی پیش کردیا۔

ژاک کیلس 40 گیندوں پر 54 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔ ان کی اننگز میں دو چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی کولکتہ کی ٹی ٹوئنٹی میں فتوحات کا سلسلہ 14 مقابلوں تک دراز ہوگیا ہے۔ موجودہ آئی پی ایل چیمپئن کو اپنی مسلسل پندرہویں جیت کے لیے خاصا بڑا پہاڑ سر کرنا ہے کیونکہ اس جیت کے ساتھ ایک بری خبر بھی اس کی منتظر تھی۔ میچ کے بعد امپائروں نے کولکتہ کے اہم باؤلر سنیل نرائن کے باؤلنگ ایکشن پر ایک مرتبہ پھر اعتراض اٹھایا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ میں دوسرا موقع ہے کہ نرائن کے ایکشن پر انگلی اٹھی ہے اور قوانین کے مطابق اب وہ فائنل نہیں کھیل سکیں گے۔

سنیل نرائن کولکتہ کی گزشتہ تمام فتوحات میں اہم کردار رہے ہیں اور ان کے بغیر چنئی کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ میں شگاف ڈالنا بہت بڑا امتحان ہوگا۔

سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں پنجاب کے چار بلے باز صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے (تصویر: BCCI)

سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں پنجاب کے چار بلے باز صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے (تصویر: BCCI)

بعد ازاں اسی میدان پر دوسرا سیمی فائنل چنئی سپر کنگز اور کنگز الیون پنجاب کے درمیان کھیلا گیا۔ اس مقابلے کا آغاز جتنا جاندار تھا، انجام اتنا ہی پھیکا ثابت ہوا۔ کنگز الیون پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی سنبھالی اور ابتدائی پاور پلے ہی میں چنئی کی تین بڑی وکٹیں حاصل کرلیں۔ پہلے ڈیوین اسمتھ، پھر برینڈن میک کولم اور آخر میں سریش رینا، یہ تینوں بلے باز 41 رنز تک میدان بدر ہوچکے تھے۔ لیکن فف دو پلیسی اور ڈیوین براوو کی 65 رنز کی رفاقت نے مقابلے کو پنجاب کی گرفت میں جانے سے روک لیا۔

16 اوورز مکمل ہونے پر اسکور لائن 141 رنز کو ظاہر کررہی تھی جب پرویندر اوانا نے مسلسل دو گیندوں پر پون نیگی اور مہندر سنگھ دھونی کو آؤٹ کردیا۔ اس کے باوجود آخری 4 اوورز میں چنئی 41 رنز حاصل کرکے مجموعے کو 182 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ ڈیوین براوو 39 گیندوں پر 67 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے جبکہ فف دو پلیسی نے 46 رنز بنائے۔ آخری لمحات میں رویندر جدیجا کے 13 گیندوں پر 27 رنز نے بھی اہم حصہ ڈالا۔

پنجاب کی جانب سے پرویندر اوانا نے 30 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

183 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں کنگز الیون کے بلے بازوں نے جو کچھ کیا، اسے شرمناک کارکردگی کہنا چاہیے۔ چار بلے باز صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ 34 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد اگر اکشر پٹیل آخر میں 18 گیندوں پر 31 رنز نہ بناتے اور کرن ویر سنگھ اور انوریت سنگھ اپنے معمولی حصے نہ ڈالتے تو شاید ٹیم 100 رنز کا ہندسہ بھی پار نہ کرپاتی۔ دوسرے اوور میں وریندر سہواگ کی وکٹ گرنے سے لے کر انیسویں اوور میں آخری کھلاڑی کے آؤٹ ہونے تک، پوری اننگز پنجاب کے پرستاروں کے لیے ایک بھیانک خواب تھی۔ پوری ٹیم 117 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور یوں چنئی ایک آسان جیت کے ساتھ فائنل میں پہنچ گیا۔

اب چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کا فائنل سنیچر کو بنگلو رکے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں سنیل نرائن کی عدم موجودگی میں چنئی کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments