مستقل نظرانداز کیا گیا تو کرکٹ چھوڑ دوں گا: عمران فرحت کی دھمکی

عالمی کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ایسا اعزاز ہے جسے سب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نوآموز کھلاڑی بھی، آزمائے ہوئے بھی، ناتجربہ کار بھی تو اپنی کھیلنے کی عمر گزار دینے والے بھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اوپنر عمران فرحت نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر کارکردگی کے باوجود انہیں قومی سطح پر نمائندگی کا موقع نہیں دیا جا رہا اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وہ کرکٹ چھوڑ دیں گے۔

اگر ڈومیسٹک کرکٹ ہی قومی ٹیم میں منتخب ہونے کا معیار ہے تو میں تین ٹرپل سنچریاں بنا چکا ہوں، پھر بھی باہر ہوں، عمران فرحت شکوہ کناں (تصویر: AFP)

اگر ڈومیسٹک کرکٹ ہی قومی ٹیم میں منتخب ہونے کا معیار ہے تو میں تین ٹرپل سنچریاں بنا چکا ہوں، پھر بھی باہر ہوں، عمران فرحت شکوہ کناں (تصویر: AFP)

12 سالہ کیریئر میں 40 ٹیسٹ اور 58 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے عمران فرحت سعید انور کی جگہ پر کرنے کے لیے قومی دستے کا حصہ بنائے گئے لیکن غیر مستقل کارکردگی اور بدترین شکست والے مقابلوں میں موجودگی نے اب ان کے کیریئر کو لب گور تک پہنچا دیا ہے۔ عمران گزشتہ سال اس دورۂ جنوبی افریقہ میں شامل تھے جہاں پاکستان کو تینوں ٹیسٹ سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پھر چیمپئنز ٹرافی 2013ء کے اس دستے کا بھی حصہ تھے کہ جو گروپ مرحلے ہی کے تمام میچز میں شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔ اس کے بعد نہ انہیں قومی دستے میں طلب کیا گیا اور نہ ہی رواں سال مرکزی معاہدے سے نوازا گیا۔ اب عالمی کپ قریب آتے ہی دیگر کھلاڑیوں کی طرح عمران فرحت کا خون بھی جوش مار رہا ہے اور کہتے ہیں کہ ٹیم میں ہمیشہ 'فیورٹ ازم' چلتا ہے اور اپنی پسند کے کھلاڑیوں کو جگہ دی جاتی ہے اور ناپسندیدہ کو سرخ جھنڈی دکھا دی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس، جو ان کے سسر بھی ہیں، نے کبھی ان کی پشت پناہی نہیں کی اور وہ جب بھی ٹیم میں آئے اپنی کارکردگی کی وجہ سے آئے۔ اس کے باوجود میرے حوالے سے ہمیشہ یہی سمجھا گیا کہ میں اپنے سسر کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بنتا ہوں، جو بالکل غلط تاثر ہے۔

عمران فرحت جاری قائداعظم ٹرافی کی سلور لیگ میں حبیب بینک لمیٹڈ کی نمائندگی کررہے ہیں اور ابھی ایبٹ آباد کے خلاف ہونے والے مقابلے میں شاندار سںچری بھی بنا چکےہیں۔ اس کے علاوہ رواں سال کے اوائل انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے خلاف پریزیڈنٹس ٹرافی میں ٹرپل سنچری بھی بنائی تھی۔ بہاولپور میں "کرک نامہ" سے گفتگو کرتے ہوئے عمران فرحت نے کہا کہ اگر قومی ٹیم میں جگہ پانے کا معیار ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھانا ہے تو میں اب تک تین مرتبہ ٹرپل سنچریاں تک بنا چکا ہوں، لیکن اس کے باوجود باہر بیٹھا ہوں۔ 169 فرسٹ کلاس میچز پر مشتمل کیریئر میں عمران فرحت نے تقریباً 12 ہزار رنز بنا رکھے ہیں جن میں 29 سنچریاں اور 52 نصف سنچریاں شامل ہیں جبکہ لسٹ 'اے' میں بھی ان کے رنز کی تعداد لگ بھگ 6 ہزار ہے۔ اس میں 13 سنچریاں اور 29 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ اس لیے ان کے ڈومیسٹک کیریئر کو متاثر کن کہا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی مقابلوں میں انہوں نے 3 ٹیسٹ اور ایک ون ڈے سنچری بنا رکھی ہے۔ اسی کارکردگی کی بنیاد پر عمران فرحت خود کو عالمی کپ کے لیے اہل کھلاڑی سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عالمی کپ سر پر آن پہنچا ہے، اب یہ تجربات کا نہیں بلکہ تیاری کرنے کا وقت ہے۔

پاکستان نے رواں سال عمران فرحت سمیت پانچ کھلاڑیوں کو مرکزی معاہدوں کی فہرست سے خارج کردیا تھا جن میں زیر عتاب عبد الرزاق کے علاوہ کامران اکمل، شعیب ملک اور توفیق عمر شامل تھے۔

Facebook Comments