آئی سی سی لچک کا مظاہرہ کرے، "دوسرا" کو مرنے سے بچائے: رمیز راجہ

دنیا کے نمبر ایک اسپن باؤلر سعید اجمل پر پابندی کے اعلان کے بعد دو حلقے بن گئے، ایک وہ جو "قانون، قانون" کی رٹ لگا رہے ہیں لیکن درحقیقت میدان میں اپنے بلے بازوں کی "پگڑی" سلامت رہنے پر خوش ہیں تو دوسری طرف وہ جو اس پابندی کو ایک "عالمی سازش" تصور کرتے ہیں۔ درمیان میں ایسی معقول آراء بہت کم سننے میں آئی ہیں، جنہوں نے اس سنگین مسئلے کا حل پیش کیا ہو۔ پاکستان کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ کار رمیز راجہ کی بھی ایسی ہی صائب دکھائی دیتی ہے جنہوں نے مطالبہ کیا ہے جس میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے کہا گیا ہے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرے اور "دوسرا" کو مرنے سے بچائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو لازماً پوچھنا چاہیے کہ  سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا گیا؟ اور یہ نتائج دینے والے مشین کس نے تیار کی ہے؟ رمیز راجہ (تصویر: AP)

پاکستان کرکٹ بورڈ کو لازماً پوچھنا چاہیے کہ سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا گیا؟ اور یہ نتائج دینے والے مشین کس نے تیار کی ہے؟ رمیز راجہ (تصویر: AP)

قوانین کی رو سے کرکٹ میں باؤلرز کو گیند پھینکتے ہوئے کہنی میں 15 درجے تک کے خم کی اجازت ہے اور اس خم کا جائزہ لینے کے لیے حیاتی میکانیات (بایومکینکس) پر تجربات کیے جاتے ہیں جن سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ گیندبازکا ایکشن قانونی حدود کے اندر ہے یا نہیں۔ رواں سال جولائی سے قبل پرانے ضابطوں کے تحت یہ تجربات کیے جاتے تھے، جس میں پاکستان کے سعید اجمل سمیت متعدد گیندبازوں کا ایکشن شفاف قرار پایا لیکن چند ماہ قبل بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے نئے ضابطے لاگو کیے اور برسبین، کارڈف اور چنئی میں خاص مقامات کے تجربات کو قانونی حیثیت دی۔ اب حالت یہ ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں نصف درجن سے زیادہ گیندباز شکوک کی زد میں آئے ہیں اور ان میں سے جس نے بھی تجربہ گاہ کا رخ کیا ہے، پابندی سے بچ نہیں سکا۔ ایک روزہ کرکٹ کے نمبر ایک باؤلر سعید اجمل بھی انہی گیندبازوں سے ایک ہیں، بلکہ بیشتر گیندباز آف اسپنر ہی ہیں۔

اس صورتحال میں رمیز راجہ کہتے ہیں کہ اگر آف اسپنرز، بالخصوص "دوسرا" گیند پھینکنے والے باؤلرز کو اس طرح روکا گیا تو کرکٹ مصنوعی کھیل بن جائے گا۔ معروف کرکٹ ویب سائٹ کرکٹ انفو سے گفتگو کرتے ہوئے سابق پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ دوسرا جیسی "غیر روایتی" چیزیں کرکٹ کا حسن ہیں، اور میں عرصے سے کھیل کو کمنٹری بکس سے دیکھ رہا ہوں اور ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ "دوسرا" سب سے خوبصورت گیند ہے۔ اس گیند کو قانونی حیثیت دینے کے لیے آئی سی سی کو لچک دکھانا ہوگی، یہاں تک کہ اسے اگر 18 سے 20 درجے تک کے خم کی اجازت بھیا دینا پڑے تو بھی یہ قدم ضرور اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ "دوسرا" سے نہ ہی کسی بلے باز کو جسمانی نقصان پہنچتا ہے اور پھر اس گیند کو کھیلنے کے لیے مہارت بھی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس خیال کو سختی سے مسترد کیا کہ "دوسرا" پھینکنا دراصل بے ایمانی ہے بلکہ یہ کہا کہ قانون برابری کی بنیاد پر نہیں بنے ہوئے۔ "بلے باز کو اسپائکس پہننے کے باوجود کریز میں کہیں بھی کھڑے ہونے کی اجازت ہے، حالانکہ وہ کریز پر اس جگہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے، جہاں سے دو مرتبہ گزرنے کے بعد گیندباز کو باؤلنگ سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ پھر سوئچ ہٹ متنازع ہونے کے باوجود ابھی تک اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دراصل قانون میں یہی سقم ہیں جو گیندبازوں کو آخری حدوں تک جانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اگر قانون برابری کی بنیاد پر ہوں گے تو میرے خیال میں سب حدود کے اندر رہیں گے اور کھیل بہترین انداز میں آگے بڑھے گا۔"

رمیز راجہ نے جانچ کے نئے ضابطوں پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ باؤلنگ ایکشن کی جانچ کا موجودہ عمل بالکل غیر واضح ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جانچ کس طرح کی گئی؟ اس عمل کو فوری طور پر منظرعام پر لانے کی ضرورت ہے۔ سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کے بارے میں یہ نتیجہ ظاہر کیا گیا ہے کہ باؤلنگ کے دوران ان کی کہنی میں اوسطاً 42 درجے کا خم ہے۔ تب تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو لازماً پوچھنا چاہیے کہ کون سا طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ جس کے یہ نتائج سامنے آئے ہیں؟ یہ نتائج دینے والے مشین کس نے تیار کی ہے، جس کی منظوری آئی سی سی نے دی ہے۔

عالمی کپ سے قبل باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنا کر بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے کے دعوؤں کے بارے میں رمیز نے کہا کہ سعید اجمل کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

سعید اجمل پر پابندی کے بعد پاکستان کا پہلا امتحان آج(اتوارکو) آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی سے ہوگا جہاں سعید اجمل کی عدم موجودگی میں اسپن باؤلنگ کی ذمہ داری کپتان شاہد آفریدی اور نوجوان رضا حسن کے کاندھوں پر ہوگی۔

Facebook Comments