[باؤنسرز] نوجوانوں کا بے سمت ریوڑ

اگر ورلڈ چمپئن سری لنکا کے ہاتھوں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا یا آئی پی ایل کے تجربے سے مالا مال بھارتی ٹیم کے ہاتھوں ہار کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا تو یہ شاید قابل قبول ہوتا مگرچار نئے کھلاڑیوں اور پہلی مرتبہ کپتانی کرنے والے آرون فنچ کی نوجوان آسٹریلین ٹیم سے شکست قبول نہیں، جس نے ہمارے ہی ’’پائیں باغ‘‘ میں کتنی آسانی سے ہماری ٹیم کو شکست دے ڈالی۔

شاہد آفریدی کو یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ ٹی ٹوئنٹی میں بھی جوش کے ساتھ ہوش کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ یہ دستہ محض نوجوانوں کا بے سمت ریوڑ ثابت ہوگا (تصویر: Getty Images)

شاہد آفریدی کو یہ بات یاد رکھنا ہوگی کہ ٹی ٹوئنٹی میں بھی جوش کے ساتھ ہوش کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ یہ دستہ محض نوجوانوں کا بے سمت ریوڑ ثابت ہوگا (تصویر: Getty Images)

وقار یونس بھلے اس ناکامی پر نوجوان ٹیم کا پردہ ڈالتے رہیں مگر بیٹنگ لائن کی بدترین پرفارمنس کو کہیں بھی چھپایا نہیں جاسکتا جس نے آسٹریلیا کے ناتجربہ کار باؤلنگ اٹیک کو خود پر حاوی کرلیا۔ یہ درست ہے کہ سعید اجمل کے بغیر پاکستان کی باؤلنگ میں دم خم نہیں اور محمد حفیظ کی عدم موجودگی بھی قومی ٹیم کو کمزور کررہی ہے، لیکن جس ٹیم میں تین گیندباز ڈیبیو کررہے ہوں اور چوتھے باؤلر کی حیثیت جزوقتی گیندباز کی سی ہو، اس کے سامنے پاکستانی بیٹنگ لائن کا محض 96 پر ڈھیر ہوجانا تشویشناک امر ہے۔

پاکستانی ٹیم نے اپنا آخری ٹی20 چھ ماہ قبل ڈھاکہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا جہاں بیٹنگ لائن کی ناکامی نے پاکستان کو ورلڈ ٹی 20 سے باہر کردیا تھا۔ ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری میچ میں شرکت کرنے والے صرف چار کھلاڑی ہی آسٹریلیا کے خلاف میچ کا حصہ بن سکے ہیں، مگر مکمل طور پر تبدیل ہو جانے والی ٹیم کی کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی، جو آسٹریلیا کے ناتجربہ کار باؤلرز کے سامنے باآسانی ڈھیر ہوگئی۔ عدم کارکردگی کا ایسا تسلسل؟؟ گوکہ اس دوران قومی ٹیم میں کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں، کوچ، کپتان، کھلاڑی، یہاں تک کہ بورڈ کے انتظامی عہدیداران تک تبدیل ہوگئے مگر جو ٹس سے مس نہ ہوا، وہ ہماری بیٹنگ لائن اپ ہے، جس کی وجہ سے شکست دبئی میں قومی ٹیم کا مقدر بنی۔ وجہ؟ پی سی بی نے ’’سب کچھ‘‘ تو کچھ تبدیل کردیا ہے مگر قومی ٹیم میں جیت کا جذبہ بیدار نہیں کرسکا ۔ کھلاڑیوں میں احساس ذمہ داری کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ احمد شہزادیا عمر اکمل کی صلاحیتوں پر رتی برابر بھی شک نہیں مگر ان دونوں کھلاڑیوں میں ویرات کوہلی کی طرح ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر لینے کی اہلیت موجود نہیں ہے ۔

کھلاڑیوں کے انتخاب میں بھی عدم تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ کبھی قومی ٹیم کو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے شجر ممنوعہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی ریوڑ کی طرح بھرتی کرلیا جاتا ہے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم میں اتنے سینئرز جمع کرلیے گئے تھے کہ شرجیل خان جیسے بیٹسمین، جس نے دسمبر 2013ء میں اپنے تیسرے و آخری ٹی ٹوئنٹی میں 25 گیندوں پر نصف سنچری بنائی تھی، محض بیٹھے بینچ گرماتے رہے۔ مگر اس کے بعد سے اب تک وہ دوبارہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی نہیں کھیل سکا، یہاں تک کہ آسٹریلیا کے خلاف اس واحد ٹی ٹوئنٹی سے بھی باہر کردیا گیا۔ یقیناً سلیکٹرز کے ذہن میں نہیں ہوگا کہ شرجیل کی آخری ٹی ٹوئنٹی پرفارمنس کیا تھی؟ ٹیسٹ کارکردگی کی بنیاد پر ایک روزہ ٹیم میں شمولیت اور ایک روزہ میں بری کارکردگی کی بنیاد پر ٹی ٹوئنٹی سے اخراج اور اس سے ملتے جلتے فیصلوں ہی کی بدولت موجودہ ٹیم کا یہ حال ہے۔

شاہد آفریدی نے بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ قیادت سنبھالی تھی لیکن یہ شاید انہی کی ’’تربیت‘‘ کا اثر ہے کہ نوجوان کھلاڑی بغیر کسی خوف کے اپنی وکٹیں گنواتے رہے۔ ’’لالا‘‘ کی یہ بات درست ٹی ٹوئنٹی نوجوان کھلاڑیوں کا فارمیٹ ہے لیکن ’’بوم بوم‘‘ کو یہ بات بھی یاد رکھنا ہوگی کہ نوجوانوں کے جوش کے ساتھ اس فارمیٹ میں بھی ’’ہوش‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم محض نوجوانوں کا ریوڑ ہی ثابت ہوتی ہے جسے ’’ہانکنے‘‘ والے کو خود اپنی سمت کا پتہ نہیں ہوگا۔

Facebook Comments