دورۂ پاکستان پر رضامندی کے بجائے بنگلہ دیش پاکستان کی میزبانی کا خواہشمند

پاکستان نے بنگلہ دیش سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قومی ٹیم کو پاکستان کے دورے پر بھیجے جبکہ بنگلہ دیش نے پاکستان کو پیشکش کی ہے کہ وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی تک اپنے مقابلے بنگلہ دیش کے کرکٹ میدانوں پر کھیلے۔

بنگلہ دیش 2012ء میں دو مرتبہ دورۂ پاکستان کا اعلان کرکے انکار کرچکا ہے (تصویر: AFP)

بنگلہ دیش 2012ء میں دو مرتبہ دورۂ پاکستان کا اعلان کرکے انکار کرچکا ہے (تصویر: AFP)

پی سی بی کے سربراہ شہریار خان اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر موجود ہیں جہاں ان کی اولین ترجیح بنگلہ دیش کو دورۂ پاکستان کے لیے قائل کرنا ہے۔ 2009ء میں لاہور میں سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے اب تک پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہیں ہوسکی اور گزشتہ سال بنگلہ دیش کو دورۂ پاکستان کے لیے قائل کرنے کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہوئی تھیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات اس حد تک بگڑے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے لیے اپنے کھلاڑیوں کو بھیجنے سے انکار کردیا۔

اب شہریار خان کا دورۂ بنگلہ دیش دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ اس میں آئندہ پاک-بنگلہ سیریز کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں دکھائی دیتی۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کے جائزے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل اپنے عہدیداران کو نہیں بھیجتی، بنگلہ دیش اپنے قومی دستے کو پاکستان نہیں بھیجے گا۔

ڈھاکہ میں پاک-بنگلہ کرکٹ بورڈ سربراہان کے مابین ملاقات کے بعد نظم الحسن نے پاکستان کو پیشکش کی کہ وہ اپنے مقابلوں کے لیے بنگلہ دیش کو متبادل مقام کے طور پر استعمال کرے۔ یہ پاکستان کے لیے سستا اور بہت اچھا انتخاب ہوگا اور اس سے دونوں ممالک کے بورڈز کے درمیان تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے بنگلہ دیشی لیگ کھیلنے کو معاملے کو بھی دیکھیں گے، میں نے انہیں کہا کہ اگر وہ نہ بھی آئیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ دونوں ممالک کے بورڈ سربراہان کے مابین ملاقات بہت مثبت ماحول میں ہوئی اور اب ہم دیکھیں گے کہ ہم کس سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ دورۂ پاکستان میں بنگلہ دیش کو اختیار ہوگا کہ وہ کن شہروں میں کھیلنا چاہتے ہیں۔ پشاور اور کراچی کے بارے میں اگر بنگلہ دیش مطمئن نہیں ہوگا تو ہمارے پاس دیگر کئی شہر بھی ہیں، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، لاہور کے علاوہ ہمارے پاس میرپور، آزاد کشمیر میں بھی ایک شاندار نیا اسٹیڈیم ہے۔ وہاں بھی مقابلے کھیلے جاسکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی وہاں اپنے آپ کو بہت محفوظ بھی تصور کریں گے۔

شہریارخان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے تعلقات ویسے ہی ہوجائیں جیسے کہ ان کے گزشتہ دور میں تھے۔ اس زمانے میں ایشیا کے چاروں بورڈز کے درمیان تعاون کی سطح بہت زیادہ تھی اور سیاسی معاملات سے قطع نظر بین الاقوامی کرکٹ کے سلسلے میں سب متفق تھے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔

کیا پاکستان کو اپنے مقابلے بنگلہ دیش میں منعقد کرنے چاہئیں؟


Loading ... Loading ...

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ عالمی کپ 2015ء کے لیے کوالیفائی کرنے والی چند ایسوسی ایٹ ٹیموں نے دورۂ پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا ہے تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش وہ پہلا ملک ہوگا جو طویل عرصے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے قدم اٹھائے گا اور ہم توقع کرتے ہیں کہ اپنے ایشیائی بھائیوں کی مدد سے ہم آئی سی سی سے پروانہ بھی حاصل کرلیں گے۔

بنگلہ دیش کو دورۂ پاکستان کے لیے راضی کرنے کی کوششیں کئی سالوں پر محیط ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تیزی 2012ء میں ذکا اشرف کے دور میں آئی۔ جب بنگلہ دیش کے دورۂ پاکستان کے معاملے پر خاصی "آنکھ مچولی" ہوتی رہی یہاں تک کہ ڈھاکہ کی عدالت نے قومی ٹیم کو پاکستان جانے سے روک دیا۔ ان حرکتوں نے پی سی بی کو اس قدر زچ کیا کہ اس نے اپنے تمام کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے مقابلوں میں شرکت سے روک دیا۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ میں شہریار خان کی زیر نگرانی نئی انتظامیہ موجود ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے بنگلہ دیش کے ساتھ مذاکرات کو وہیں سے شروع کیا جائے، جہاں سے اس کا سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

Facebook Comments