[خصوصی] عید الاضحیٰ کا دن اور پاکستان کرکٹ

عید الاضحیٰ کے ایام میں آسٹریلیا کے ہاتھوں واحد ٹی ٹوئنٹی اور پھر پہلے ایک روزہ مقابلے میں شکست نے پاکستان کرکٹ کے پرستاروں کی عید کا مزا خراب کردیا ہے۔ دبئی میں ہونے والے واحد ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 6 وکٹوں سے اور اولین ایک روزہ مقابلے میں 93 رنز کی واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ماضی میں پاکستان بقر عید کے ایام میں کئی یادگار مقابلے کھیل چکا ہے اور آج آپ کو 1980ء سے لے کر آج تک عید الاضحیٰ کے دنوں میں ہونے والے مقابلوں کے بارے میں مختصراً بتائیں گے۔

30 ستمبر 1982ء کو پاکستان میں عید الاضحیٰ منائی گئی تھی جو فیصل آباد میں پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ کا دوسرا دن بھی تھا۔ یہ مایہ ناز لیگ اسپنر عبد القادر کا ٹیسٹ تھا جن کی 11 وکٹوں کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 3 رنز کے واضح مارجن سے کامیابی حاصل کی اور بعد ازاں تینوں مقابلے جیت کر سیریز میں کلین سویپ بھی کیا۔ یوں عمران خان کی زیر قیادت قومی کرکٹ ٹیم نے پاکستانیوں کو عید کا بہترین تحفہ عطا کیا۔ پاکستان کی کارکردگی جتنی جامع تھی اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ کراچی میں ہونے والا پہلا اور لاہور میں کھیلا گیا تیسرا و آخری ٹیسٹ 9، 9 وکٹوں سے جیتا تھا۔ میدان میں پاکستان کی کارکردگی سے ہٹ کر یہ سیریز مایوس کن تھی کیونکہ کراچی میں ہونے والے ایک روزہ مقابلوں میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں پر پتھراؤ کا مایوس کن واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں مقابلہ منسوخ کرنا پڑا۔ بعد ازاں پولیس نے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے ذریعے تماشائیوں سے گن گن کر بدلے لیے۔

اگلے ہی سال پاکستان کے کھلاڑیوں نے ایک اور عید میدان میں گزاری۔ 18 ستمبر 1983ء کو جب بنگلور میں پاک-بھارت کا چوتھا روز دراصل عید الاضحیٰ کا دن تھا۔ یہ سیریز کا پہلا ٹیسٹ تھا، جس کے ساتھ ساتھ آئندہ دونوں مقابلے بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی اور یوں سیریز برابری کی بنیاد پر ختم ہوئی۔ یہ عظیم حفیظ کے ٹیسٹ کیریئر کا پہلا مقابلہ بھی تھا جہاں قیادت ظہیر عباس کے پاس تھی۔

1987ء میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے بقر عید انگلستان میں منائی جہاں 6 اگست کو عید کے روز پاکستان اور انگلستان کے مابین اوول میں سیریز کا پانچواں و آخری ٹیسٹ شروع ہوا، جس میں جاوید میانداد کی ڈبل سنچری اور سلیم ملک اور عمران خان کی سنچریوں کی بدولت پاکستان نے پہلی اننگز میں 708 رنز بنائے۔ انگلستان پہلی اننگز میں 232 رنز پر ڈھیر ہوجانے کے باوجود فالو آن کرتے ہوئے سنبھل گیا اور کپتان مائیک گیٹنگ کے ناقابل شکست 150 رنز کی بدولت میچ کےڈرا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ البتہ سیریز پاکستان نے ایک-صفر سے جیتی جس نے کپتان عمران خان کی شاندار باؤلنگ کی بدولت ہیڈنگلے میں کھیلا گیا تیسرا ٹیسٹ ایک اننگز اور 18 رنز سے جیتا تھا۔

19 اپریل 1997ء کو پاکستان اور سری لنکا کے مابین میں ٹیسٹ مقابلے کا آغاز ہوا جو عید الاضحیٰ کا دوسرا دن تھا۔ سیریز کے دونوں مقابلے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے تھے۔

اگلے سال 1998ء میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے عید جنوبی افریقہ میں منائی جہاں اسٹینڈرڈ بینک ون ڈے سیریز کا سری لنکا کے خلاف 7 اپریل کو کمبرلے میں کھیلا گیا مقابلہ دراصل عید الاضحیٰ کا دن تھا۔ میچ میں سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 7 وکٹوں پر 295 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان نے انضمام الحق کی ناقابل شکست 116 رنز کی اننگز کی بدولت 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کو اگلے سال ایک مرتبہ پھر بقر عید گھر والوں کے ساتھ منانے کا موقع نہیں ملا کیونکہ 1999ء میں پاکستان کو بھارت میں پیپسی کپ کھیلنا تھا۔ وشاکھاپٹنم میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین 27 مارچ 1999ء کو کھیلا گیا مقابلہ دراصل عید ہی کا دن تھا۔ سری لنکا نے مہیلا جے وردھنے کی سنچری کی بدولت 253 رنز بنانے میں کامیاب رہا جبکہ پاکستان پہلا ون ڈے کھیلنے والے اوپنر عمران نذیر سمیت ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد وسیم اکرم کی 60 گیندوں پر 79 رنز کی شاندار اننگز کی باوجود میچ 12 رنز سے ہار گیا۔ البتہ ایک ہفتے بعد بنگلور میں ہونے والے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر ٹرافی ضرور جیتی۔

پاکستان کو عالمی کپ 2003ء میں آسٹریلیا کے خلاف اہم مقابلے میں عید کے روز شکست کھانی پڑی اور بعد ازاں پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوا (تصویر: Reuters)

پاکستان کو عالمی کپ 2003ء میں آسٹریلیا کے خلاف اہم مقابلے میں عید کے روز شکست کھانی پڑی اور بعد ازاں پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوا (تصویر: Reuters)

عالمی کپ 2003ء کے دوران بھی پاکستان کے کھلاڑیوں کو عیدالاضحیٰ وطن عزیز سے باہر منانی پڑی۔ 11 فروری 2003ء کو عید کے روز پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف اپنا پہلا اور اہم مقابلہ کھیلنا تھا جس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں پر 310 رنز اکٹھے کرلیے۔ پاکستان صرف 228 رنز بنا پایا اور یوں 82 رنز سے شکست کھا بیٹھا۔ بعد میں پاکستان پہلے ہی مرحلے میں عالمی کپ سے باہر ہوا جبکہ آسٹریلیا نے مسلسل دوسری بار ٹرافی جیتی۔

28 نومبر 2009ء، عید الاضحیٰ کے دن پاکستان اپنے شائقین کو جیت کا تحفہ نہ دے سکا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ڈنیڈن ٹیسٹ کے آخری روز جب پاکستان کو آخری سیشن میں 86 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی 5 وکٹیں بھی باقی تھیں، تو بہت کم لوگوں کو شکست کا اندازہ تھا۔ لیکن شعیب ملک، عمر اکمل اور کامران اکمل کے آؤٹ ہونے کے بعد امکانات معدوم ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ پاکستان 32 رنز سے میچ ہار گیا۔ یہ عمر اکمل کے ٹیسٹ کیریئر کا پہلا مقابلہ تھا جس کی دوسری اننگز میں انہوں نے 75 رنز کی عمدہ باری کھیلی لیکن پاکستان کو فتح تک نہ پہنچا سکے۔

2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں اہم سیریز کھیلنا تھی جس کے دبئی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کا آخری دن، یعنی 16 نومبر، عید الاضحیٰ کا دن تھا۔ پاکستان کو آخری روز جیتنے کے لیے 451 رنز کی ضرورت تھی اور یونس خان اور مصباح الحق کے مابین 186 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری نے اسے ہدف کے خاصا قریب پہنچا دیا تھا لیکن غیر جارحانہ پیشرفت اور سست روی نے پاکستان کو ایک تاریخی مقابلہ نہیں جیتنے دیا۔ مصباح الحق 185 گیندوں پر 76 اور یونس خان 230 گیندوں پر 131 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ میدان سے آئے۔ بعد ازاں ابوظہبی میں سیریز کا دوسرا مقابلہ بھی ڈرا ثابت ہوا اور سیریز برابر ٹھہری۔

خرم منظور نے جنوبی افریقہ کے خلاف عید  کے روز 146 رنز کی شاندار سنچری اننگز کھیلی اور پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: AFP)

خرم منظور نے جنوبی افریقہ کے خلاف عید کے روز 146 رنز کی شاندار سنچری اننگز کھیلی اور پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: AFP)

گزشتہ سال یعنی 2013ء میں بھی پاکستان اور جنوبی افریقہ عید الاضحیٰ کے روز مدمقابل تھا۔ 15 اکتوبر کو عید کے دن ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کا آغاز ہوا جبکہ پاکستان میں اگلے دن عید منائی گئی تھی۔ پاکستان پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کو 249 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد پہلی اننگز میں نوجوان اوپنر خرم منظور کے شاندار 146 رنز اور مصباح الحق کی سنچری کی بدولت 442 رنز بنانے میں کامیاب رہا۔ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے شان مسعود نے بھی 75 رنز کے ذریعے اپنا عمدہ حصہ ڈالا اور دونوں نوجوان اوپنرز نے جنوبی افریقہ کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کے خلاف پاکستان کو 135 رنز کا زبردست آغاز فراہم کیا۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں بھی جنوبی افریقہ کو 232 رنز پر قابو کیا اور پھر 40 رنز کا درکار ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کرکے مقابلہ جیت لیا۔

لیکن قومی کرکٹ ٹیم رواں سال عید الاضحیٰ کو یادگار نہ بنا سکی۔ 5 اکتوبر کو جب دبئی میں عید کا دوسرا دن تھا تو پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میں 6 وکٹوں کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 7 اکتوبر کو جب پاکستان کے عوام عید کا دوسرا دن منا رہے تھے، پہلے ایک روزہ میں 93 رنز کی بدترین شکست ہوئی۔

Facebook Comments