پاکستان، اب نہیں تو کب؟

عالمی کپ سے ٹھیک ایک سال پہلے پاکستان نے رواں سال فروری میں اپنی تیاریوں کا آغاز کیا۔ ایشیا کپ کو آئندہ سال عالمی کپ کی منزل پانے کے لیے پہلا سنگ میل قرار دیا گیا لیکن پہلے ہی پڑاؤ پو سری لنکا کے ہاتھوں مایوس کن شکست نے ظاہر کردیا کہ یہ سفر پاکستان کے لیے بہت کٹھن ہوگا۔ پھر ٹورنامنٹ میں انفرادی کارکردگی کے بل بوتے پر بھارت اور بنگلہ دیش کے فتوحات تو حاصل کرلیں لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر سری لنکا کے ہاتھوں چت ہونے کے بعد اب تک پاکستان سنبھل نہیں پایا۔ ایشیا کپ 2014ء کے بعد سے اب تک پاکستان نے چار ون ڈے مقابلے کھیلے ہیں اور صرف ایک میں کامیابی حاصل کر پایا ہے۔

مصباح الحق چار سال بعد دوبارہ اسی مقام پر آ گئے ہیں جہاں انہوں نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی (تصویر: AFP)

مصباح الحق چار سال بعد دوبارہ اسی مقام پر آ گئے ہیں جہاں انہوں نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی (تصویر: AFP)

دورۂ سری لنکا میں ایک روزہ سیریز میں برتری حاصل کرنے کے باوجود شکست کا کڑوا گھونٹ بورڈ اور شائقین نے کسی نہ کسی طرح برداشت کرلیا ہے لیکن اب آسٹریلیا کے خلاف سیریز شاید کئی کھلاڑیوں کے لیے آخری موقع ثابت ہو۔ بظاہر تو بورڈ نے ابھی تک اپنے ارادے ظاہر نہیں کیے اور یہی راگ الاپا جا رہا ہے کہ مصباح الحق عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کریں گے لیکن آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی شکست ان کے اٹل ارادوں کو بھی ہلا سکتی ہے۔

جب پاکستان کا دستہ آسٹریلیا کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات روانہ ہو رہا تھا تو ہیڈ کوچ وقار یونس سمیت سب پر بالکل واضح تھا کہ اب کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے 'مارو یا مر جاؤ' والی صورتحال ہے لیکن پہلے ہی ون ڈے میں 93 رنز کی بدترین شکست نے ظاہر کردیا کہ عالمی کپ کی تیاریاں درست خطوط پر نہیں ہو رہیں۔ رہی سہی کسر سعید اجمل پر پابندی اور محمد حفیظ اور جنید خان کے زخمی ہونے نے پوری کردی ہے۔ مصباح الحق کا فارم میں نہ ہونا زخموں پر الگ نمک چھڑک رہا ہے۔ ایسی حالت میں صرف جیت ہی ٹیم کے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرسکتی ہے۔

ہیڈ کوچ، کپتان اور تمام کھلاڑیوں کو یہ ذہن نشین کرنا ہوگا کہ کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل میں سب سے زیادہ اہمیت جیت کی ہوتی ہے۔ عالمی کپ 1992ء میں اپنی تاریخ کی کمزور ترین ٹیم کے ساتھ شرکت کے باوجود یہ صرف جیت ہی تھی جس نے انضمام الحق، مشتاق احمد، معین خان اور عامر سہیل جیسے کھلاڑیوں کو تاریخ میں مقام عطا کیا۔

مصباح الحق کے لیے یہ صورتحال نئی ہر گز نہیں ہے۔ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد جب ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان سے کرکٹ کا خاتمہ ہوجائے گا، انہیں گھر سے بلا کر پاکستان کی قیادت سونپی گئی اور صرف چند فتوحات نے ٹیم کے اعتماد کو ایک مرتبہ پھر بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس لیے جیت سے بہتر کوئی نسخہ موجود نہیں۔ کپتان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو ہونے والی تنقید کو دھیان میں لائے بغیر صرف اپنی کارکردگی اور ذمہ داری پر نظریں رکھیں۔

کہنے کو تو عالمی کپ کے آغاز میں ابھی پانچ مہینے باقی ہیں، لیکن درحقیقت 15 فروری کو بھارت کے خلاف اپنے افتتاحی مقابلے سے قبل پاکستان کے صرف 9 ون ڈے میچز طے ہیں اور یہی 9 مقابلے ہیں جو پاکستان کو عالمی کپ کی تیاری کے لیے ملیں گے۔ ان میں سب سے اہم کل (جمعے کو) دبئی میں ہونے والا دوسرا پاک-آسٹریلیا ایک روزہ مقابلہ ہے۔ جہاں جیتنے کی صورت میں پاکستان نہ صرف سیریز میں اپنے امکانات زندہ رکھے گا بلکہ کھلاڑیوں کے جھکے ہوئے سر بھی اٹھا سکتا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اب پاکستان کے لیے معاملہ "آر یا پار" کا ہے۔

Facebook Comments