سعید اجمل: سانپ گزر گیا، اب لکیر پیٹنے کا فائدہ؟

نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سعید اجمل کو نئے باؤلنگ ایکشن کے لیے تیاریاں کرتے دیکھنا اُن کے مداحوں کے لیے ایک حوصلہ افزاء منظر ہے۔ اپنے پیشرو ثقلین مشتاق کی زیر نگرانی سعید اجمل آجکل کہنی میں خم کے بغیر گیندیں پھینکنے کی مشقیں کررہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق تین ہفتوں میں 7 ہزار مرتبہ اس نئے ایکشن کو دہرانے کی کوشش کی ہے۔

سعید اجمل اب اس نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بایومکینکس آلات کے سامنے مشقیں کررہے ہیں، جن کے سامنے انہیں تین سال پہلے ہونا چاہیے تھا (تصویر: AFP)

سعید اجمل اب اس نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بایومکینکس آلات کے سامنے مشقیں کررہے ہیں، جن کے سامنے انہیں تین سال پہلے ہونا چاہیے تھا (تصویر: AFP)

سعید اجمل ایک باہمت اور باحوصلہ کھلاڑی ہیں، جس عمر میں کئی کھلاڑیوں کا بین الاقوامی کیریئر اختتام کو پہنچتا ہے، انہوں نے اسی عمر میں اپنے کیریئر کی شروعات کی اور پھر سخت محنت کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچے کہ ان کا شمار ہر طرز کی کرکٹ میں دنیا کے سرفہرست گیندبازوں میں ہونے لگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 2009ء میں کیریئر کے ابتدائی ایام ہی میں ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض سامنے آ گیا تھا۔ پھر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے جانچ کے بعد انہیں شفاف قرار دیا جس کے بعد سعید اجمل کے حوصلے بڑھ گئے۔ عالمی کپ 2011ء کے بعد جب پاکستان نے دو ٹیسٹ میں سعید اجمل کی 17 وکٹوں بل بوتے پر ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز برابر کی تو ویوین رچرڈز، مائیکل ہولڈنگ اور ٹونی کوزیئر نے اعتراض اٹھایا۔ اس کے بعد سے اعتراضات کا سلسلہ آج تک نہیں تھما ۔ خاص طور پر جب بھی سعید اجمل نے فاتحانہ کارکردگی دکھائی، ماہرین نے کھل کر ان کے باؤلنگ ایکشن پر انگلی اٹھائی۔ جب 2012ء میں پاکستان اور انگلستان متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں مدمقابل آئے اور سعید اجمل نے ایک اور شاندار کارکردگی کے ذریعے پاکستان کو تاریخی فتوحات دلوائیں تو انگلستان کے کئی سابق کھلاڑی بول پڑے۔

دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ کے کان اُسی وقت کھڑے ہوجانے چاہیے تھے۔ بورڈ کا خریدا گیا بایومکینکس کا سامان سالوں سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ڈبوں میں بند پڑا تھا۔ یہی وہ وقت تھا کہ اسے نکالا جاتا اور بایومکینکس لیبارٹری کو فعال کرکے سعید اجمل سمیت ڈومیسٹک کرکٹ کے ان تمام گیندبازوں کی ازخود جانچ کی جاتی۔ پھراس کے نتائج کی بنیاد پر سعید اجمل اور محمد حفیظ سمیت تمام گیندباز احتیاطی تدابیر اختیار کرتے۔ لیکن کسی کی "عقل شریف" میں یہ بات نہیں آئی اور سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے حادثے کا انتظار کرتے رہے۔ برصغیر کا قومی مزاج بھی یہی ہے کہ حادثے کے بعد ہی اس کے اسباب جانے جاتے ہیں اور پھر تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ لیکن کیا سوراخ سے ڈسا جانا ضروری تھا؟

بہرحال، بورڈ کی عاقبت نااندیشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ دورۂ سری لنکا میں سعید اجمل کا باؤلنگ ایکشن رپورٹ ہوا، جو عرصے سے اپنی فارم میں واپسی کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ پھر ان کےباؤلنگ ایکشن کی چٹ جانچ ہوئی اور پٹ پابندی بھی لگ گئی۔ اب سعید اجمل اسی مقام پر آ کر باؤلنگ ایکشن کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہے ہیں، جہاں انہیں کم از کم تین سال پہلے ہونا چاہیے تھا۔

آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ سیریز میں پاکستان کی حالت دیکھنے کے بعد عالمی کپ میں بننے والی درگت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، لیکن سعید اجمل کی عدم موجودگی پاکستان کو بڑی ناکامیوں سے دوچار کرے گی اور جب جب ٹیم شکست سے دوچار ہوگی، اس میں کچھ حصہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے "دماغوں" کا بھی ہوگا جو اب درجنوں کے حساب سے باؤلرز کے ایکشن مشکوک قرار دے رہا ہے اور سب کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی بلا رہا ہے۔ سانپ گزرجانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ؟


Dunya News - Saeed Ajmal's new bowling action... by dunyanews

Facebook Comments