ویسٹ انڈیز کا تحفہ، بھارت دوسرا ون ڈے جیت گیا

جب ویسٹ انڈیز آٹھ وکٹوں کے ساتھ ہدف سے صرف 94 رنز کے فاصلے پر تھا تو وہ بھارت کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اپنی برتری باآسانی دوگنی کرتا دکھائی دے رہا تھا لیکن پھر امیت مشرا کی شاندار باؤلنگ اور ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کی غائب دماغی نے بھارت کو واپس آنے کا موقع دیا، جس نے ویسٹ انڈیز کی آخری آٹھ وکٹیں صرف 45 رنز کے اضافے سے حاصل کرکے مقابلہ جیت لیا اور سیریز ایک-ایک سے برابر کردی۔

ویسٹ انڈیز نے آخری 8 وکٹیں صرف 45 رنز کے اضافے سے گنوائیں (تصویر: BCCI)

ویسٹ انڈیز نے آخری 8 وکٹیں صرف 45 رنز کے اضافے سے گنوائیں (تصویر: BCCI)

دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں سوائے آخری گھنٹے کے کھیل کے دونوں ٹیموں کے مابین برابر کا مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو اسے 50 رنز پر اپنے دونوں اوپنرز سے محروم ہونا پڑا۔ پہلے شیکھر دھاون جیروم ٹیلر کی گیند پر بولڈ ہوئے پھر اجنکیا راہانے کی اننگز بھی 12 رنز سے آگے نہ بڑھ سکی۔ دو وکٹیں گرنے کے بعد میدان میں ویراٹ کوہلی اترے جن کی ناقص فارم اس وقت بھارت کے لیے سخت پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ آج کوہلی اپنی بھرپور فارم میں تو نظر نہیں آئے اور 62 رنز کی اننگز میں صرف 5 چوکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں لیکن پھر بھی سریش رینا کے ساتھ ان کی 105 رنز کی شراکت داری نے بھارت کو ایک اچھے مجموعے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

سریش رینا کو اننگز کی ابتداء ہی میں، 14 کے انفرادی اسکور پر، ڈیوین براوو کے ہاتھوں ایک زندگی ملی تھی جب وہ ایک مشکل کیچ تھامنے میں ناکام رہے تھے، گو کہ ایسے کیچز براوو کے لیے آسان ہوتے ہیں۔ بہرحال، رینا نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور 60 گیندوں پر 62 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر بھارت کو بیٹنگ پاور پلے کے دوران ہی 179 رنز تک پہنچا دیا۔ رینا کی اننگز میں 5 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ آخری 10 اوورز کا آغاز ہوتے ہی کوہلی بھی پویلین سدھار گئے لیکن مہندر سنگھ دھونی کے 40 گیندوں پر 51 رنز نے بھارت کو 263 رنز پہنچا دیا، جہاں تک رسائی رینا، کوہلی اور جدیجا کے آؤٹ ہونے کے بعد مشکل دکھائی دیتی تھی۔ دھونی کی اننگز میں آخری اوور میں لگائے گئے ایک چھکے سمیت پانچ چوکے شامل تھے۔

ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کو اوپنرز ڈیوین اسمتھ اور ڈیرن براوو نے 64 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا۔ 13 اوورز تک دونوں بلے باز اچھی طرح بھارت کے باؤلرز کے سامنے جمے رہے یہاں تک کہ محمد شامی نے براوو کے دفاع کو توڑتے ہوئے ان کی وکٹیں بکھیر دیں۔ اس کے بعد پولارڈ اور اسمتھ کے درمیان بننے والی شراکت داری نے بھارت کو مقابلے سے تقریباً باہر کردیا تھا۔ دونوں مجموعے کو 28 اوورز میں 130 رنز تک لے گئے اور اس مقام پر ویسٹ انڈیز کو مزید 134 رنز کی ضرورت تھی۔ اس اعتماد کی بدولت پولارڈ نے امیت مشرا کو تیسری گیند پر ایک شاندار چھکا رسید کیا لیکن پانچویں گیند پر اس کو دہرانے کی کوشش میں بولڈ ہوگئے۔ 50 گیندوں پر 40 رنز کی اننگز مکمل ہوئی اور یہیں سے ویسٹ انڈیز کے زوال کا آغاز ہوگیا۔

ایک اینڈ سے اسمتھ تو کوہلی کو چوکے پر چوکا رسید کررہے تھے لیکن دوسرے سے مارلون سیموئلز نے امیت مشرا کے مسلسل دو اوورز میڈن کھیل لیے۔ جب 35 اوورز مکمل ہوئے تو اسکور بورڈ پر 162 رنز موجود تھے اور 90 رنز پر اسمتھ نے خود پر دباؤ محسوس کیا کہ انہیں رنز کی رفتار بڑھانے کے لیے اب کچھ تیز کھیلنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے پاور پلے میں تیسری گیند پر لانگ آن پر ایک شاندار چھکا لگایا لیکن اگلی ہی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ 97 گیندوں پر 97 رنز کی اننگز حقدار تھی کہ سنچری تک پہنچتی لیکن بدقسمتی سے صرف تین رنز پہلے اسمتھ آؤٹ ہوگئے۔ ان کی اننگز میں دو چھکے اور 11 چوکے شامل تھے۔

اس کے بعد ویسٹ انڈیز لمحے کے لیے بھی نہیں سنبھل پایا۔ چھکے کے ذریعے اپنی 32 گیندوں پر 8 رنز کی مایوس کن اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کے بعد سیموئلز امیش یادیو کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے جبکہ اگلے ہی اوور میں امیت مشرا نے دوسرے ان فارم بلے باز دنیش رامدین کو ٹھکانے لگا دیا۔ یوں ویسٹ انڈیز 189 رنز پر آدھے بلے بازوں سے محروم ہوگیا۔ رہی سہی کسر ایک ہی اوور میں آندرے رسل اور ڈیرن سیمی کے رویندر جدیجا کے ہاتھوں آؤٹ ہونے نے پوری کردی اور محمد شامی نے کپتان ڈیوین براوو کو شیکھر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کراکے ویسٹ انڈیز کے معمولی امکانات بھی گل کردیے۔ ویسٹ انڈیز کی اننگز 47 ویں اوور میں محمد شامی کے ہاتھوں ہی اختتام کو پہنچی جب روی رامپال انہی کو کیچ دے کر چلتے بنے۔

اس کامیابی میں 4 وکٹیں لینے والے شامی اور تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے جدیجا کے علاوہ امیت مشرا کا بھی اہم کردار تھا جنہوں نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک وکٹ امیش یادیو کے ہاتھ لگی۔

شامی کو فاتحانہ باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

پانچ مقابلوں کی سیریز کا اگلا ون ڈے 14 اکتوبر کو وشاکھاپٹنم میں کھیلا جائے گا جہاں جیتنے والی ٹیم سیریز میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

Facebook Comments