پاکستان زیادہ اہم ہے، ہوسکتا ہے عالمی کپ میں قیادت نہ کروں: مصباح الحق

پاکستان کے ٹیسٹ و ایک روزہ کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ اگلے سال عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت نہ کریں۔ مسلسل چار ون ڈے مقابلوں میں شکست کے بعد "کپتان" پاک-آسٹریلیا سیریز کے آخری مقابلے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ اس مقابلے میں قیادت شاہد آفریدی کے سپرد کی گئی لیکن اس کے باوجود پاکستان کے نصیب میں جیت نہیں لکھی تھی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد صرف ایک رن سے شکست کھا گیا۔

مصباح الحق کے لیے آئندہ ٹیسٹ سیریز بہت اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس کے نتائج اور کارکردگی ان کے مستقبل پر اثرانداز ہوگی (تصویر: AFP)

مصباح الحق کے لیے آئندہ ٹیسٹ سیریز بہت اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ اس کے نتائج اور کارکردگی ان کے مستقبل پر اثرانداز ہوگی (تصویر: AFP)

متحدہ عرب امارات کے اخبار دی نیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں میری فارم اور اجتماعی لحاظ سے ٹیم اور پاکستان میرے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر آئندہ چند مقابلوں میں میں رنز بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا تو میں کھیلنے پر اصرار نہیں کرسکوں گا۔ ہاں! اگر میری فارم واپس آ گئی اور میں رنز بنانے میں کامیاب ہوگیا تو واپسی ہوگی ورنہ اپنی وجہ سے میں ٹیم کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا۔

گزشتہ سال سب سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے کے علاوہ سال میں سب سے زیادہ نصف سنچریوں کا عالمی ریکارڈ بنانے والے مصباح کے لیے 2014ء بہت مایوس کن رہا ہے۔ رواں سال 10 مقابلوں میں انہوں نے صرف 225 رنز بنائے ہیں اور زخموں پر نمک یہ کہ پاکستان پہلے سری لنکا میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز ہارا اور اب آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کلین سویپ کا شکار ہوا ہے۔

مصباح کے علاوہ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کے بیانات سے بھی واضح ہوچکا ہے کہ قیادت کے معاملے پر اب اکھاڑ پچھاڑ مچے گی۔ چیئرمین نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ مصباح کو مجبور نہیں کریں گے، اگر وہ عالمی کپ میں قیادت نہیں کرنا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہوگی۔ ویسے مصباح نے ان افواہوں کی تردید کی کہ ان پر آخری ایک روزہ سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ "ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے ٹیم انتظامیہ اور شاہد آفریدی سے درخواست کی تھی کہ میں آخری میچ میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں آگے ڈیڑھ مہینے تک ٹیسٹ کھیلنے ہیں اور میں بالکل فارم سے باہر ہوں، جس کا نقصان ٹیم کو پہنچ رہا ہے اور تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ کسی اور کھلاڑی کو موقع دیا جائے۔ ٹیسٹ سیریز میں زیادہ دباؤ کے ساتھ جانے سے بہتر ہے کہ میں اب غور کروں اور تازہ دم ہو کر میدان میں اتروں اس امید کے ساتھ میں فارم حاصل کرلوں گا۔

یعنی اب 22 اکتوبر سے شروع ہونے والا پاک-آسٹریلیا پہلا ٹیسٹ مصباح الحق کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوگا اور آئندہ سیریز میں ان کی کارکردگی مستقبل پر اثرانداز ہوگی۔

Facebook Comments