بایومکینکس ماہرین کی آئی سی سی پر سخت تنقید، حالیہ اقدامات مشکوک قرار

دو دہائیوں تک ناقص باؤلنگ ایکشن پر تحقیق اور تجربات کرنے والے بایومکینکس ماہرین نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے حالیہ اقدامات پر سخت کرتے ہوئے انہیں مشکوک قرار دیا ہے۔

سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دیے جانے کے بعد بھی ان کی نگرانی کی گئی، یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا (تصویر: AFP)

سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دیے جانے کے بعد بھی ان کی نگرانی کی گئی، یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا (تصویر: AFP)

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہرین باؤلنگ ایکشن کی قانونی حیثیت کو جانچنے کے لیے 20 سال تک نمونے اور ضابطے تیار کرتے رہے ہیں اور رواں سال کے اوائل تک یہی وہ واحد ادارہ تھا جو کھلاڑیوں کے باؤلنگ ایکشن کی جانچ کرکے انہیں قانونی یا غیر قانونی قرار دیتا تھا لیکن رواں سال جولائی میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اعلان کیا کہ وہ غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کے خلاف اب سخت رویہ اختیار کرے گا اور اس مقصد کے لیے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے ناطے توڑ کر نئے ضابطے تیار کیے گئے جن کو بنیاد بنا کر باؤلرز پر نگاہ رکھی جارہی ہے۔ اس اعلان کے بعد سے اب تک چار ماہ میں درجن سے زیادہ باؤلرز شک کی نگاہوں میں آئے ہیں اور ایک روزہ کرکٹ کے نمبر ایک باؤلر سعید اجمل سمیت جو بھی باؤلر نئے ضابطوں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے بایومکینکس تجربات سے گزرا، اسے بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ سے روک دیا گیا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق اس صورتحال میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ آئی سی سی اپنے نئے ضابطوں کو مضحکہ خیز حد تک چھپا رہا ہے جس نے جانچ کے نئے طریقے کی ساکھ پر شکوک و شبہات قائم کردیے ہیں۔ چند روز قبل سری لنکا کے معروف اخبار سنڈے ٹائمز نےبھی دعویٰ کیا تھا کہ سری لنکا کرکٹ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کو ایک رپورٹ دی گئی ہے جس میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہرین نے کہا ہے کہ 20 سال تک ان کے زیر استعمال ضابطے ان کی ملکیت دانش ہیں اور اب آئی سی سی نے انہیں نقل کرکے اپنے معیارات بنا رہا ہے جو ضابطوں میں خامیوں کی وجہ سے ناقص و غیر مستقل نتائج دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے بھی ایک حالیہ مضمون میں آئی سی سی پر کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور آئی سی سی اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے مابین تعلقات کے خاتمے کا اہم سبب بھی یہی مسئلہ تھا۔

پرتھ سے یہ اعزاز چھیننے کے بعد برسبین، کارڈف اور چنئی میں نئے مراکز کو اختیار دیا گیا کہ وہ رپورٹ ہونے والے گیندبازوں پر تجربات کریں، جس کے نتیجے کی بنیاد پر باؤلنگ ایکشن کو قانونی یا غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے بایومکینکس ماہرین نے نئے طریقہ کار کو "غیر معمولی" قرار دیتے ہوئے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ یہ جانچ نسبتاً ناتجربہ کار عملے کے ساتھ کی جارہی ہے جو بہت محدودتربیت کا حامل ہے۔ ان ماہرین کو خطرہ ہے کہ حالیہ جانچ کی بناء پر سامنے آنے والے نتائج ناقابل اعتبار شواہد پر مبنی ہوسکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں بایومکینکس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیکولین ایلڈرسن اور ان کی ٹیم حیران ہے کہ کہنی کے خم کو جانچنے کے لیے استعمال کردہ نمونے پر نظرثانی کے اتنے محدود مواقع دیے گئے ہیں اور مقامی بورڈز اور کام کرنے تجرباتی مراکز کو بھی بہت محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

البتہ آئی سی سی کا اصرار ہے کہ ناقص باؤلنگ ایکشن کے خلاف تازہ اقدامات ضروری اور درست ہیں، اور جو نظام انہوں نے تربیت دیا ہے وہ گزشتہ طریقے کے مقابلے میں سائنسی طور پر زیادہ جدید ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ان طریقوں پر غور کے لیے دنیا کے چند بہترین بایومکینکس ماہرین کو استعمال کررہے ہیں اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کو صرف اس لیے خارج کیا گیا کہ دونوں فریقین کے مابین تعلقات بگڑ گئے تھے۔ اور یہ اقدام جانچ کے عمل کو مزید پھیلانے اور ایک ہی ادارے پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے۔ سب سے بڑھ کر آئی سی سی اس بات پر زور دیتا ہے کہ نیا طریقہ زیادہ درست ہے اور امپائروں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ باؤلرز کو بھی اپنے ایکشن کو درست کرکے دوبارہ کھیل میں واپس آنے کا موقع دیتا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے نئے ضوابط کو تحقیق، معلومات اور دستیاب علم کی بنیاد پر تیار کردہ کہا ہے۔

اس باہمی تنازع کی وجہ سے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا اور آئی سی سی کے مابین تعلقات اس حد تک خراب ہوئے کہ بالآخر رواں سال مارچ میں یونیورسٹی اپنی خدمات کی فراہمی سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوگئی۔ لیکن ایلڈرسن کہتی ہیں کہ شروع میں تو ہمیں اس بات کا افسوس تھا کہ ہماری معلومات میں لائے یا اجازت حاصل کیے بغیر آئی سی سی نے ہماری تحقیق کا فائدہ اٹھایا لیکن اب ٹیسٹنگ کے موجودہ طریقے کی شفافیت کو دیکھ کر اس تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

یونیورسٹی نے خاص طور پر 2009ء میں سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو شفاف قرار دیے جانے کے باوجود ان کی نگرانی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور ساتھ ساتھ مارلون سیموئلز کے معاملے پر بھی آئی سی سی کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تھے۔

حال ہی میں پاکستان کے سابق کپتان اور موجودہ تبصرہ کار رمیز راجہ نے بھی آئی سی سی کے طریق کار کے خفیہ ہونے پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جانچ کا موجودہ عمل بالکل غیر واضح ہے اور تمام کرکٹ بورڈ زکو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جانچ کے طریقوں کے بارے میں جانیں۔

Facebook Comments