قیادت کا بحران: ویکھی جا مولا دے رنگ!

ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم میں ”پلیئرز پاور“ اتنی تگڑی تھی کھلاڑی ،کپتان کو گرانے کے لیے اس کے خلاف قرآن مجید پر حلف لینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور اپنی مرضی کے گورے کوچ کو ”امپورٹ“ کرنے کے لیے کرکٹ بورڈ کے سامنے ڈٹ بھی جایا کرتے تھے لیکن سابق چیئرمین اعجاز بٹ نے اپنی پوری توانائیاں کھلاڑیوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے صرف کیں، جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے کیونکہ 2010ء کے اواخر میں کپتان کی تبدیلی نے ٹیم کے ماحول کو بدل کر رکھ دیا ، جو گرم جوش نوجوانوں کی بجائے ان ”عمر رسیدہ“ اسٹارز پر زیادہ بھروسہ کررہا تھا جنہوں نے قومی ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کیا ۔

مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے مزاج میں "مس فٹ" ہیں، ان جیسے سادے کپتان کی کوئی جگہ نہیں بنتی (تصویر: AP)

مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے مزاج میں "مس فٹ" ہیں، ان جیسے سادے کپتان کی کوئی جگہ نہیں بنتی (تصویر: AP)

اگر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مزاج کو دیکھا جائے تو مصباح الحق اس میں ”مس فٹ“ ہیں کیونکہ یہاں عوام اور کرکٹ بورڈ دونوں ہی ایسے کپتانوں کو دیکھنے کے عادی ہیں جن کی ”اسٹار ویلیو “ سب سے زیادہ ہو، جن کا جوش امڈ امڈ کر باہر آرہا ہو اور وہ گلیمر میں بھی سب سے آگے ہوں۔ مصباح الحق جیسے ”سادے“ کپتان کی پاکستان کرکٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے، شاید اس لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کامیابیاں ان افراد کو پسند نہیں آ رہی تھیں جو مصباح کو کپتان کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔یہی وہ لوگ تھے ہر دوسرے دن مصباح الحق کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اخباری بیان جاری کردیتے تھے اور جب یہ لوگ پاکستان کرکٹ بورڈ کا حصہ بنے تو انہوں نے مصباح کو ہٹانے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے تیسرے میچ سے مصباح الحق کی دستبرداری کا پول بھی اب کھل چکا ہے کہ کس طرح کپتان کو باہر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ مصباح کی ہی شرافت ہے کہ جو گزشتہ چند ماہ سے دوسروں کی غلطیاں اپنے سر لے کر قومی کرکٹ کی عزت کا جنازہ نہیں نکال رہا ورنہ یہاں تو خراب کارکردگی کے باوجود ٹیم سے باہر ہونے والے سینئر کھلاڑی بھی ”اودھم“ مچانے اور ”بین“ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ مصباح کو ”آرام“ کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے قیادت فوری طور پر شاہد آفریدی کو سونپ دی گئی جو پہلے سے اس فیصلے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے۔ واحد ٹی20 کے بعد آخری ون ڈے میں بھی پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ میچ کا فیصلہ سنسنی خیز انداز میں ہوا مگر پہلے دو میچز کی طرح آخری میچ میں بھی پاکستانی ٹیم کی خامیاں نمایاں طور پر دکھائی دیں۔ اگر مصباح الحق پہلے دو میچز میں رنز نہ کرسکے تو آخری میچ میں قیادت کے فرائض انجام دینے والے شاہد آفریدی نے بھی اہم موقع پر غیر ذمہ دارانہ انداز میں اپنی وکٹ گنوائی اور پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا۔ اگر دوسرے میچ میں اوپنرز کی جانب سے سنچری اسٹینڈ ملنے کے بعد مڈل آرڈر پھسل گیا تھا تو آخری میچ میں بھی 76 پر 7 وکٹیں گنوا کر قومی ٹیم نے شکست کو گلے لگایا۔ یہ حقائق بیان کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ کپتان کی تبدیلی پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں فرق نہیں ڈال سکتی بلکہ گرین شرٹس کو ورلڈ کپ سے قبل جیت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کھلاڑیوں کے مزاج کی تبدیلی ضروری ہے جو اس ٹیم کے ساتھ وابستہ کوچز کی فوج اور انٹرنیشنل کرکٹ کے وسیع تجربے کے حامل مینیجر و چیف سلیکٹر کرسکتے ہیں لیکن یہ تمام افراد اپنا فرض ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔

پی سی بی کے سربراہ شہریار خان نے بھی معین خان کی ”دوہری نوکری“ پر سوال اٹھا دیا ہے کیونکہ دو اہم عہدوں پر ایک شخص کی موجودگی کسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔میں نے کئی ماہ قبل بھی یہ کہا تھا کہ چیف سلیکٹرکی مینیجر کی حیثیت سے دورے پر موجودگی کھلاڑیوں کو دباؤ کا شکار کردے گی اور گزشتہ دو دوروں سے یہ بات ثابت بھی ہوگئی ہے کہ کچھ کھلاڑی ٹیم کی کامیابیوں کی بجائے طے شدہ ”اسکرپٹ“ کے مطابق کھیل رہے ہیں تاکہ اگلے دورے ور میں بھی ان کی جگہ پکی رہے۔

یہ کس قدر مضحکہ خیر بات ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے مسلسل کارکردگی دکھانے والے کپتان کو پانچ میچز میں ناکامی کے بعد عالمی کپ سے قبل فارم بحال کرنے کی تنبیہ کی جارہی ہے لیکن ان لوگوں کی اہلیت پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھایا جا رہا جو مسلسل پاکستانی ٹیم کی ناکامی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

شارجہ کے جس میدان پر پاکستان کو پہلے ون ڈے میں یکطرفہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اسی میدان پر دس ماہ قبل پاکستان نے سری لنکا کےخلاف غیر معمولی انداز میں ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس ٹیم کا کوچ صرف سات ٹیسٹ میچز کھیلنے والا ڈیو واٹمور تھا اور مینیجر کی ذمہ داری ایک غیر معروف سرکاری افسر کے سپرد تھی جو کھلاڑیوں کی سلیکشن اور انہیں ہدایات دینے کی بجائے صرف اپنے کام سے کام رکھے ہوئے تھا، مگر اب وہی پاکستانی ٹیم 275 ٹیسٹ میچز کے تجربے کے حامل تین کوچز اور مینیجر کی موجودگی کے باوجود شکستوں کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے تو پھر یہ جاننا ”راکٹ سائنس“ نہیں ہے کہ شکستوں کا سبب کون لوگ ہیں۔

کپتان کو خراب فارم پر باہر بٹھانے والوں کو بھی تنبیہ کرنا اب ضروری ہوگیا ہے جو کوچ، چیف سلیکٹر اور مینیجر کسی بھی حیثیت سے پاکستانی ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شہریار خان متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ گزشتہ چیئرمین کے فیصلوں کو بیک جنبشِ قلم سے مسترد نہیں کریں گے بلکہ تسلسل لانے کی کوشش کریں گے تو اس صورتحال میں شہریار خان کو نجم سیٹھی کا وہ فیصلہ کیوں یاد نہیں آرہا جس میں سابق چیئرمین نے کہا تھا کہ ہر تین ماہ بعد کوچز اور مینجمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ وہ کون سی قوت ہے جو شہریار خان کو کوچز اور مینیجر کا ”احتساب“ کرنے سے روک رہی ہے۔

جن لوگوں نے مصباح الحق کے لیے گڑھا کھودنے کی کوشش کی تھی وہ خود اب رسوائی کی دلدل کے کنارے پر پہنچ گئے ہیں اور اگر چیئرمین پی سی بی نے ”ڈبل“ مزے کرنے والے عہدیداروں کے خلاف ”کریک ڈاؤن“ کردیا تو پھر ایسے لوگوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی جنہوں نے آخری ون ڈے میں جیت کا جشن منانے کی پوری تیاری کرلی تھی اور ان کی مدح سرائی کرنے والے صحافیوں نے مصباح الحق کے لیے ”سابق کپتان“ کے لفظ کا بھی انتخاب کرلیا تھا مگر سہیل تنویر کی ایک غلط شاٹ نے یہ منصوبہ بندی خاک میں ملا دی جس کے بعد چیئرمین پی سی بی نے جعلی ”فنکاروں“ کی ڈرامہ بازیاں ختم کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مصباح الحق کو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکنھے کا اعلان کردیا ہے ۔۔۔ویکھی جا مولا دے رنگ!!

Facebook Comments