عالمی کپ 2015 کی تیاری: پاکستان کو جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت

دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ عالمی کپ 2015 سر پر موجود ہے اور پاکستان دوبارہ قیادت کے بحران سے دوچار ہے۔ ٹھیک چار سال پہلے ہی پاکستان ایسے ہی "مصباح یا آفریدی " پر الجھا تھا اور آج پھر ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ اب پاکستان کرکٹ مزید کسی بحران کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ 2009ء میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملوں اور 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پاکستان کرکٹ کے تابوت میں صرف آخری کیل ہی رہ گئی ہے، جو کوئی بھی نیا بحران فراہم کرسکتا ہے۔

عالمی کپ 2015 سے عین پہلے یہ کھینچا تانی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بھی ہاکی کی طرح جلد زوال کی گہرائیوں میں پہنچ جائے (تصویر: Pepsi)

عالمی کپ 2015 سے عین پہلے یہ کھینچا تانی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بھی ہاکی کی طرح جلد زوال کی گہرائیوں میں پہنچ جائے (تصویر: Pepsi)

پاکستان نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں اپنے میدانوں پر کوئی مقابلہ نہیں کھیلا، بھارت کے علانیہ بائیکاٹ کی وجہ سے مالی حالات سخت خراب ہیں اور جو کسر رہ گئی تھی وہ قحط الرجال نے پوری کردی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں قومی منظرنامے پر کوئی ایک ایسا کھلاڑی نہیں ابھرا، جس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل روشن ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو شائقین کرکٹ، اور چند مخصوص حلقوں، کی یہ توقعات بالکل بے معنی نظر آتی ہیں جو قومی کرکٹ ٹیم سے 90ء کی دہائی یا اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط والی کارکردگی کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ نری خوش فہمی اور بے جا امید پسندی ہے۔ اگر ان آرزوؤں کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان کی گزشتہ چند سالوں کی کارکردگی اتنی بھی بری نہیں۔

ہم عالمی کپ 2015 کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے صرف ایک روزہ کرکٹ میں کارکردگی کاجائزہ لیتے ہیں کہ جہاں 2014ء میں پاکستان کو کھیلنے کے بہت محدود مواقع ملے ۔ آغاز ایشیا کپ کے ذریعے ہوا، جہاں پاکستان نے بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف دو یادگار فتوحات حاصل کیں اور پھر ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ گو کہ پاکستان اپنے ایشیائی اعزاز کا کامیاب دفاع نہ کرسکا لیکن ٹورنامنٹ میں پیش کی جانے والی پرفارمنس ہرگز ایسی نہ تھی کہ اس کو بنیاد بنا کر قومی کھلاڑیوں کو دھتکارا جائے۔ پھر 5 مہینوں کے طویل وقفے کے بعد پاکستان کو دورۂ سری لنکا میں ایک روزہ مقابلے کھیلنے کو ملے جہاں سیریز میں ایک-صفر کی برتری حاصل کرنے کے باوجود ٹیم کو شکست ہوئی، جس کے بعد اندرونی خلفشار کی وجہ سے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ناکامی کا اہم سبب قیادت کے حوالے سے ٹیم میں ممکنہ پھوٹ ہے جس کی وجہ سے کپتان مصباح الحق نے تیسرے ایک روزہ سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور شاہد آفریدی کی قیادت بھی پاکستان کو تیسرے مقابلے میں شکست سے نہ بچا سکی۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات یاد رکھیں کہ یہ شکست زمبابوے یا بنگلہ دیش یا ویسٹ انڈیز یا نیوزی لینڈ کے ہاتھوں نہیں بلکہ اس آسٹریلیا کے ہاتھوں ہوئی جو ان فتوحات کے بعد عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک ٹیم ہے۔ کیونکہ شکست یتیم ہوتی ہے، اس لیے کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں، حتیٰ کہ شائقین کرکٹ بھی نہیں۔

اگر وقت کی سوئیوں کو تھوڑا سا پیچھے کی جانب گھمائیں تو ہمیں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد سے اب تک پاکستان کی ایک روزہ کارکردگی اتنی بھی بری نہیں دکھائی دیتی، جتنی کہ ظاہر کی جاتی ہے۔ 2013ء میں پاکستان نے سال کا آغاز روایتی حریف بھارت کو اسی کے میدانوں میں شکست دے کر کیا۔ ایسی فتح پاکستان کو دہائیوں میں جا کر نصیب ہوتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں تین-دو سے شکست کے بعد سال کا بدترین لمحہ چیمپئنز ٹرافی تھی جہاں پاکستان گروپ مرحلے کے تینوں مقابلے ہا رکر باہر ہوگیا۔ لیکن اس کے بعد ٹیم نے دورۂ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف جنوبی افریقہ کو اسی کی سرزمین پر یادگار شکست دی۔

ان بدترین حالات میں بھی پاکستان دنیائے کرکٹ کی بدترین ٹیم نہیں بنا، بلکہ ایک روزہ میں چند یادگار فتوحات حاصل کرنے کے ساتھ اسی عرصے میں ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسرے نمبر تک پہنچا، جو گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کی بہترین کارکردگی ہے۔ پھر ایسی ٹیم جو پانچ سالوں میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہ جیتی تھی، مصباح الحق ہی کی زیر قیادت مسلسل چار ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب ہوئی، جس میں اپنے وقت کے نمبر ایک انگلستان کے خلاف تاریخی کلین سویپ بھی شامل ہے۔ پھر ابھی رواں سال کے اوائل ہی میں پاکستان نے شارجہ میں سری لنکا کے خلاف 302 رنز کے ہدف کا ریکارڈ تعاقب کرتے ہوئے جو کامیابی حاصل کی، وہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔

یہ سب کامیایباں اور قوم کو خوشی کے یہ لمحات اسی کپتان اور ٹیم نے دیے ہیں، جسے چند حلقے تاریخ کی بدترین ٹیم اور بدترین کپتان قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر رواں سال ٹیم پر کچھ برا وقت آیا ہے تو پچھلی کارکردگی پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے کھلاڑیوں کو زد پر رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟ مانا کہ کارکردگی میں تسلسل نہیں ہے، لیکن ٹیم کو مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

بھول جائیے تھوڑی دیر کے لیے کہ پاکستان کو ورلڈ کپ کھیلنا ہے۔ ٹیم اس وقت جس بحران سے گزر رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے عالمی چیمپئن بننے کے امکانات ایک فیصد بھی نہیں۔ لیکن یہ امکانات اس وقت ہی بڑھ سکتے ہیں جب موجودہ کپتان اور کھلاڑیوں پر اعتماد کیا جائے، انہیں حوصلہ دیا جائے اور ان کے زور بازو پر یقین کیا جائے۔ ورنہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا نتیجہ عالمی کپ 2015 میں تاریخ کی بدترین کارکردگی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور خاکم بدہن پاکستان کرکٹ بھی ہاکی کی طرح زوال کی گہرائیوں میں پہنچ سکتی ہے۔

Facebook Comments