پاکستان 'اے' کی شاندار کارکردگی، آسٹریلیا کو153 رنز سے شکست دے دی

بچوں نے وہ کام کر دکھایا، جو بڑے بھی نہ کرسکے۔ چار روزہ پریکٹس میچ میں پاکستان 'اے' نے آسٹریلیا کو 153 رنز کی بھاری بھرکم شکست دے کر ثابت کردیا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان کے محدود اوورز کے مرحلے میں واحد ٹی ٹوئنٹی اور تینوں ون ڈے مقابلوں میں آسٹریلیا کے ہاتھوں بدترین شکستیں ہوئیں اور اب ٹیسٹ سیریز میں بھی امکانات دکھائی نہیں دیتے لیکن اسد شفیق، حارث سہیل اور بابر اعظم کی شاندار بیٹنگ اور محمد طلحہ اور رضا حسن کی عمدہ باؤلنگ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ درست کھلاڑیوں کے انتخاب اور اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ بھرپور کھیل پیش کرنے پر بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

مائیکل کلارک دونوں اننگز میں اپنی کارکردگی سے متاثر نہ کرسکے (تصویر: Getty Images)

مائیکل کلارک دونوں اننگز میں اپنی کارکردگی سے متاثر نہ کرسکے (تصویر: Getty Images)

22 اکتوبر سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز سے قبل شارجہ میں کھیلے گئے واحد پریکٹس مقابلے میں پاکستان 'اے' کے بلے بازوں اور باؤلرز نے شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا کو اس غلطی کا پورا سبق سکھایا جو اس نے پہلی اننگز میں اپنے اہم بلے بازوں کو ریٹائرڈ آؤٹ کرکے کی تھی۔

پاکستان 'اے' نے پہلی اننگز کپتان اسد شفیق کے ناقابل شکست 108 رنز کی بدولت 305 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی تھی۔ اس مجموعے میں احمد شہزاد کے 55، حارث سہیل کے 43 اور بابر اعظم کے 40 رنز بھی شامل تھے۔

پوری سیریز میں بیٹنگ میں کمزوری دکھانے کے بعد نوجوان کھلاڑیوں کا یہ شاندار آغاز تھا، جس میں سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ محمد طلحہ نے آسٹریلیا کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر کرس راجرز کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ صرف 58 رنز تک پہنچتے پہنچتے پاکستانی گیندباز تین آسٹریلوی بلے بازوں کو ٹھکانے لگا چکے تھے جن میں فلپ ہیوز اور مائیکل کلارک کی قیمتی وکٹیں بھی شامل تھیں۔ کلارک جوزخمی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز نہیں کھیل سکے تھے، کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس پریکٹس میچ میں بھرپور کارکردگی دکھا کر اپنی فٹنس ثابت کریں لیکن صرف 10 رنز بنانے کے بعد احسان عادل کا واحد شکار بن گئے۔ اس مرحلے پر ایلکس ڈولان اور ان فارم اسٹیون اسمتھ نے 106 رنز جوڑ کر آسٹریلیا کو مشکلات سے نکالا۔ اسمتھ 58 رنز پر پہنچے تو دیگر کھلاڑیوں کو پریکٹس کا موقع دینے کے لیے آسٹریلیا نے انہیں ریٹائرڈ آؤٹ کردیا۔ بعد ازاں ڈولان کی سنچری اور بریڈ ہیڈن کے ناقابل شکست 38 رنز اسکور کو 273 رنز تک پہنچا گئے جہاں آسٹریلیا نے اننگز ڈکلیئر کردی۔

پہلی اننگز میں محمد طلحہ، راحت علی، رضا حسن، عطاء اللہ، احسان عادل اور کرامت علی سب نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی جبکہ عمران خان اور اسد شفیق واحد گیندباز رہے جنہیں کوئی شکار نہ ملا۔

32 رنز کی برتری ملنے کے بعد پاکستان اے کا دوسری اننگز کا آغاز پراعتماد تھا۔ شان مسعود اور احمد شہزاد نے پہلی وکٹ پر 62 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ لیکن ناتھن لیون کی دو مسلسل گیندوں پر شان اور اسرار اللہ کی وکٹ گرگئی اور کچھ ہی دیر بعد احمد شہزاد رن آؤٹ ہوگئے۔ 87 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد حارث سہیل اور بابر اعظم نے وہ باریاں کھیلیں، جو پاکستان کے سلیکٹرز کو جگانے کے لیے کافی ثابت ہونی چاہئیں۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 219 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم کی جس میں حارث 172 گیندوں پر 103 اور بابر 178 گیندوں پر 114 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں کی اننگز میں 9، 9 چوکے اور تین، تین چھکے شامل تھے۔

آسٹریلیا نے دونوں کے خلاف 9 گیندباز آزمائے لیکن کوئی ان دونوں کو نہیں جھکا سکا۔ صرف لیون نے دو وکٹیں حاصل کیں اور باقی کسی گیندباز کو ایک وکٹ تک نہ مل سکی۔ سب سے مایوس کن کارکردگی جیمز فاکنر کی رہی کہ جن کی 8 اوورز میں 57 رنز لوٹے گئے۔ پیٹر سڈل نے اپنے 7 اوورز میں صرف 4 رنز دیے البتہ وکٹ کوئی نہ لے سکے۔ آسٹریلیا نے اپنے مچل جانسن اور سڈل سے دوسری اننگز میں بہت کم باؤلنگ کروائی۔ زیادہ تر اوورز مچل اسٹارک، لیون اور اسٹیون او کیف نے پھینکے۔

صرف 3 وکٹوں پر 306 رنز بنانے کے بعد پاکستان 'اے' نے اپنی دوسری اننگز بھی ڈکلیئر کردی اور آسٹریلیا کو جیتنے کے لیے 339 رنز کا ہدف دیا۔ جس کے تعاقب میں وہ آغاز ہی میں پٹری سے اتر گیا۔ کرس راجرز ایک مرتبہ پھر پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوگئے۔ اس مرتبہ وہ رن آؤٹ کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ مائیکل کلارک دوسری اننگز میں بھی بری طرح ناکام رہے اور صرف 5 رنز بنانے کے بعد راحت علی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ پہلی اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے والے گلین میکس ویل محمد طلحہ کی پہلی وکٹ بنے جب وہ 18 رن زبنانے کے بعد وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے۔ فلپ ہیوز اور مچل مارش نے 68 رنز کا اضافہ کرکے معاملہ سنبھالنے کی کوشش ضرور کی لیکن رضا حسن کی مسلسل دو گیندوں پر دو وکٹوں نے آسٹریلیا پر کاری ضرب لگائی۔ انہوں نے پہلے مارش کو 35 رنز پر ٹھکانے لگایا اور پھر باؤلنگ میں بھیانک کارکردگی دکھانے والے فاکنر کی پہلی ہی گیند پر احمد شہزاد کر ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

اس کے باوجود آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں عمدہ بیٹنگ کرنے والے ایلکس ڈولان اور اسٹیون اسمتھ کو نہ آزمانے کا فیصلہ کیا اور نتیجہ خیز بنتے ہوئے مقابلے کو بچانے کی کوشش نہ کی۔ کچھ ہی دیر میں فلپ ہیوز کی 65 رنز کی اننگز راحت علی کے ہاتھوں مکمل ہوئی اور اب ذمہ داری نچلے آرڈر کے بلے بازوں پر آ گئی کہ وہ مقابلہ بچائیں۔ پیٹر سڈل نے 41 رنز بنا کر اس کی پوری کوشش بھی کی لیکن انہیں دوسرے اینڈ سے کسی بیٹسمین کا ساتھ میسر نہ آ سکا۔ یہاں تک کہ آسٹریلیا کی پوری ٹیم 52 ویں اوور میں 185 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

پاکستان 'اے' کی جانب سے رضا حسن اور محمد طلحہ نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ دو وکٹیں راحت علی کو ملیں۔ ایک کھلاڑی کو عمران خان نے آؤٹ کیا۔

اب واحد پریکٹس مقابلے کے اختتام پر پہلے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کے دستے کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے اور امکان ہے کہ یہاں دکھائی جانے والی کارکردگی کی بنیاد پر چند کھلاڑیوں کا قومی دستے میں انتخاب عمل میں آئے گا۔

وڈیو بشکریہ کرکٹ آسٹریلیا

Facebook Comments